حضرت علیؓ کا حضرت عباسؓ کے ہاتھ اور پاوں چومنا

تحقیق : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

سید و تاج المحدثین امیر لمومنین فی حدیث امام بخاری اپنی مشہور تصنیف الادب المفرد میں ایک باب قائم کرتے ہیں ” باب تقبيل الرِّجْل” یعنی پاوں چومنا

اور اس میں ایک روایت اپنی منفرد سند سے بیان کرتے ہیں :

حدثنا عبد الرحمن بن المبارك قال: حدثنا سفيان بن حبيب قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا عمرو، عن ذكوان، عن صهيب قال: رأيت عليا يقبل يد العباس ورجليه

حضرت صھیب کہتے ہیں میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت عباس کے ہاتھ ، پاوں چومتے

(الادب المفرد ، ۹۷۶)

[قال الألباني] : ضعيف الإسناد موقوف

اس روایت کو البانی صاحب ضعیف قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں : ” ضعيف الإسناد موقوف , صهيب ـ وهو مولي العباس ـ لا يعرف.”

یعنی یہ موقوف ضعیف سند ہے صھیب جو کہ حضرت عباس کا غلام ہے میں اسکو نہیں جانتا

تو عرض ہے امام مزی نے تہذیب الکمال میں انکے ترجمہ میں درج کرتے ہیں :؂؂

بخ: صهيب مولى العباس بن عبد المطلب ، ويُقال: اسمه صهبان.

رَوَى عَن: مولاه العباس بن عبد المطلب (بخ) ، وعثمان بن عفان، وعلي بن أَبي طالب (بخ) .

رَوَى عَنه: أبو صالح السمان (بخ) .

ذكره ابنُ حِبَّان فِي كتاب “الثقات”.

روى له الْبُخَارِيّ فِي كتاب”الأدب”حديثا واحدا موقوفا، وقد وقع لنا عاليا عنه.

صھیب یہ حضرت عباس کا غلام تھا ابن حبان نے اسکو ثقات میں درج کیا ہے اور امام بخاری نے ان سے صرف ایک روایت کی تخریج کی ہے اپنی کتاب الادب میں

اور میرے نزدیک اسکی یہ روایت عالیٰ ثابت ہو ئی ہے

اسکے بعد امام مزی الادب والی روایت متصل سند بیان کرتے ہیں

اور یاد رہے کہ یہ جو منہج ہے ” وقد وقع لنا عالیا عنہ” یہ ایک خاص اصطلاح ہے امام مزی کی اور انکے تلمیذ امام ذھبی کی کہ وہ جس روایت کو اپنے استقرائی حکم کے تحت توثیق کریں تو اسکے بارے یہی حکم فرماتے ہیں جیسا کہ اسکی مثال امام ذھبی سے پیش ہے

کہ میزان الاعتدال میں ایک راوی کے تحت وہ فرماتے ہیں :

اور یہ الفاظ امام ذھبی کسی راوی کی حدیث میں توثیق پر ہی استعمال کرتے ہیں

جیسا کہ یہی قول میزان الاعتدال میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

قلت: وقع لناجزء البانياسي من حديثه عاليا، ولا بأس به إن شاء الله.

میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث بہت عالی واقع ہوئی ہے بانیاسی کے جز میں سے اور اس میں کوئی حرج نہیں ان شاءاللہ

(میزان الاعتدال ، برقم:۱۴۳)

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی نے امام مزی پر اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو حسن قرار دیا لیکن اپنی طرف سے اس راوی صھیب کے بارے میں لا علمی کا اقرار کیا۔

جیسا کہ امام ذھبی سیر اعلام میں اس روایت کے تحت لکھتے ہیں :

سفيان بن حبيب: أخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن أبي صالح ذكوان، عن صهيب مولى العباس قال: رأيت عليا يقبل يد العباس ورجله ويقول: يا عم ارض عني.

إسناده حسن وصهيب لا أعرفه.

(سیر اعلام النبلاء ، جلد ۳، ص ۴۰۰)

یہی وجہ ہے کہ اس روایت پر علامہ شعیب الارنووط اس جملے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے حاشیہ میں لکھتے ہیں :

” ورجاله ثقات خلا صهبب هذا، فإنه لا يعرف كما قال المؤلف، وعجب أمره يحسن إسناده مع وجود مجهول في سنده.”

اس روایت کے سارے رجا ل ثقہ ہیں بجائے صھیب کے جسکو میں نہیں جانتا اور مولف(ذھبی) کا یہ عجیب امر ہے کہ سند کو حسن قرار دے دیا جبکہ سند میںایک مجہول ہے ؂

اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شعیب الارنووط بھی امام مزی کے خاص منہج سے واقف نہ ہونگے جو کہ امام ذھبی کا بھی منہج تھا اور یہاں ذھبی نے امام مزی کی توثیق حدیث پر اعتماد کی وجہ سے سند کو حسن قرار دیا ہو اور اپنی طرف سے راوی پر لا علمی کا اقرار کیا ہو جیسا کہ اوپر امام ذھبی سے ثبوت پیش کر چکے ہیں یہ منہج خاص امام مزی و ذھبی کا ہے فقط

اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب میں اسکا نام اور کنیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“بخ – صهيب” مولى العباس وقيل اسمه صهيبان روى عن مولاه العباس بن عبد المطلب وعثمان وعلي رضي الله عنهم وعنه أبو صالح السمان وذكره ابن حبان في الثقات.

(تہذیب التہذیب برقم۷۷۰)

اور تقریب میں اسکے متعلق فرماتے ہیں :

صهيب مولى العباس ويقال له صهبان بضم أوله صدوق من الثالثة بخ

صھیب یہ حضرت عباس کا غلام تھا اور اسکو صھبان بھی کہا گیا ہے بعض کی طرف سے یہ صدوق ہے اور” بخ” سے امام ابن حجر کی مراد ہوتی ہے کہ امام بخاری نے اسکو الادب والمفرد میں روایت کی اسکی حدیث

تو معلوم ہوا یہ روایت سندا حسن ہے امام مزی ،امام ذھبی اور امام ابن حجر عسقلانی کی توثیق کے بعد اس راوی کو مجہول کہنا تحقیقا صحیح نہیں واللہ اعلم

تحقیق: خادم الحدیث اسد الطحاوی الحنفی البریلوی