کیا کسی راوی پر متعدد کلمات جرح مفسر لازمی قبول ہوتے ہیں ؟؟

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی

اصول جرح وتعدیل میں یہ قائدہ عام ہے کہ جرح مفسر مقدم ہوتی ہے تعدیل پر

لیکن اس اصول میں بھی استثناء ہے ہر جگہ یہ اصول لاگو نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی راوی پر جرح اور اسکا پس منظر اور اس جروحات کے اسباب پر بھی نظر رکھنا لازمی ہے

ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک راوی جس سے بیان کرنے والے بڑے محدثین کی ایک جماعت ہو اور بڑے بڑے متعنت ناقدین ان سے روایات کرنے والے ہوں

اور دوسری طرف ایسے محدثین ہوں جنکی جرح مفسر ہو

لیکن راوی فقط عامی اصحاب الحدیث میں سے نہ ہو بلکہ مجتہد مطلق کے درجہ تک فائز ہو اور اہل علم میں انکی فقاہت کا مقام مجتہد تک پہنچ چکا ہو تو پھر

اس راوی پر ضروری نہیں کہ کلمات مفسر ثابت ہونے کے سبب اسکو مطلق ضعیف قرار دے دیا جائے گا

بلکہ کلمات مفسر نظر انداز ہونگے لیکن اس میں یہ دیکھنا لازم ہوگا کہ تعدیل اور ان سے بیان کرنے والوں کا علمی مقام حدیث اور علم رجال میں کیا ہے ؟

اور جرح کرنے والوں کا مقام کیا ہے ؟

ایک چیز یہ بھی اہم ہے کہ راوی پر جرح کرنے والوں میں ہم عصر کی جرح پر بعد والوں کی تعدیل عموما مقدم ہوتی ہے

اور راوی پر ہم عصر کی تعدیل بعد والوں کی جرح پر بھی مقدم ہوتی ہے

یہ عمومی بات ہے حتمی اصول کوئی نہیں ہوتا ہر اصول میں استثنائی حالت ضرور ہوتی ہے

یہ عمومی بات ہے حتمی اصول کوئی نہیں ہوتا ہر اصول میں استثنائی حالت ضرور ہوتی ہے

اب اسکی مثال ہم صاحب استقراء امام ذھبی رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں

یاد رہے امام ذھبی کو صاحب استقراء اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ راویان پر علم جرح و تعدیل میں اجتیہاد کرنے کے مقام پر فائز تھے

وہ ہر راوی پر جرح کی حقیقت اور اسکی اصل کو جاننے میں معرفت رکھتے تھے وہ راویان کو انکی مروایات کے زریعہ بھی جانتے تھے کہ کس راوی کی عمومی روایات کیسی ہوتی ہیں اور اس پر کی گئی کونسی جرح صحیح نہیں اور کونسے راوی کی تعدیل مقدم نہ ہوگی کہ اسکی روایات میں نکارت زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ

امام ابن ابی لیلیٰ یہ وہ مجتہد امام تھے جو فقہ میں امام ابو حنیفہ کے درجہ کے آس پاس تھے کوفہ میں امام ابن ابی لیلیٰ اور امام ابو حنیفہ کے فتاواجات کا تقابل ہوتا تھا اس لیے امام اعظم کے دور میں فقاہت میں امام ابو حنیفہ کو ٹکر دینے والوں میں امام ابن ابی لیلیٰ واحد شخصیت تھے

لیکن امام ابو حنیفہ کی فقاہت اگرچہ ان سے زیادہ مشہور ہوئی اور لوگوں نے امام ابو حنیفہ کے اصول کو زیادہ پسند کیا

اگر امام ابن ابی لیلیٰ کے شاگرد امام ابو یوسف ہمیشہ انہی کے ساتھ رہتے تو ہو سکتا تھا کہ پانچواں مذہب امام ابن ابی لیلیٰ کا ہوتا لیکن امام ابو یوسف جب امام ابو حنیفہ کی صحبت میں آئے تو انہی کے ہو کر رہہ گئے

اور امام ابن ابی لیلیٰ کی فقہ مدوون نہ ہو سکی اور وقت کے ساتھ انکی فقہ و اصول مفقود ہو چکے

اب امام ابن ابی لیلیٰ پر کس کس درجہ کی جروحات ہیں اسکا ایک جائزہ لیتے ہیں :

امام ذھبی میزان الاعتدال میں نقل کرتے ہیں :

محمد بن عبد الرحمن [عو] بن أبي ليلى الأنصاري الكوفي.

صدوق إمام، سيئ الحفظ.

وقد وثق.

روى عن الشعبي، وعطاء، والحكم.

یہ امام ہیں صدوق ہیں لیکن انکا حافظہ خراب تھا

اور انکی توثیق کی گئی ہے

وعنه شعبة، ووكيع، وأبو نعيم.

ان سے حدیث بیان کرنے والوں میں امام شعبہ ، امام وکیع اور امام ابو نعیم فضل بن دکین ہیں

(نوٹ: امام ابن ابی لیلیٰ سے بیان کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے لیکن امام ذھبی نے فقط ان حفاظ الحدیث کو نقل کیا ہے جو حدیث میں اپنی مثال آپ تھے جیسا کہ شعبہ (جو فقط ثقہ سے روایت لیتے اور اس معاملے میں احتیاط کرنے والے تھے کہ کس سے روایت لینی ہے کس سے نہیں ، اور امام وکیع بھی لامثل امام تھے اور امام ابو نعیم بھی)

کیونکہ متقدمین میں یہ بات بھی راوی کی ثقاہت پر دلیل ہوتی کہ ان سے بیان کرنے والوں میں کون کون ہیں اگر ایک اہل علم محدثین کی جماعت ایک راوی سے بیان کرتی تو یہ چیز بھی اس راوی کی ثقاہت کی ایک دلیل ہوتی ہے

اسکے بعد امام ذھبی نقل کرتے ہیں :

قال أحمد بن عبد الله العجلي: كان فقيها صدوقا، صاحب سنة، جائز الحديث، قارئا عالما، قرأ عليه حمزة الزيات.

امام عجلی کہتے ہیں یہ فقیہ تھے اور صدوق (درجے) کے ہیں اور صاحب سنت ہے اور جائز الحدیث ہیں (یعنی ان سے احتجاج کیا جا ئے گا )

اسکے بعد جو اماموں سے جروحات نقل کی ہیں امام ذھبی نے وہ ساری کی ساری مفسر ہیں سوائے ابو زرعہ و نسائی کے

وقال أبو زرعة: ليس بأقوى ما يكون.

امام ابو زرعہ کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہیں جیسا کہ انکو ہونا چاہیے تھا (کیونکہ یہ بہت بڑے مجتہد تھے )

وقال أحمد: مضطرب الحديث.

امام احمد کہتے ہیں : یہ مضظرب الحدیث تھے

وقال شعبة: ما رأيت أسوأ من حفظه.

امام شعبہ نے کہا کہ میں نے ان سے زیادہ برے حافظہ والا کوئی نہیں دیکھا

(اسکے باوجود امام شعبہ نے ان سے روایت کیا ہے اس قول کو دیکھا جائے تو غور طلب یہ بات بھی ہے کہ امام شعبہ کا یہ میں تخصیص ہو کہ مجتہدین اہل رائے میں تقابل ہو )

وقال يحيى القطان: سيئ الحفظ جدا.

وقال يحيى بن معين: ليس بذاك.

امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ بہت زیادہ برے حافظہ والے تھے

وقال النسائي: ليس بالقوى.

امام نسائی کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہیں

وقال الدارقطني: ردئ الحفظ كثير الوهم.

امام دارقطنی کہتے ہیں کہ یہ برے حافظہ والے تھے اور بہت زیادہ وھم ہوتے ہیں انکو

وقال أبو أحمد الحاكم: عامة أحاديثه مقلوبة.

امام حاکم کہتے ہیں انکی عمومی رویات مقلوب ہوتی ہیں

(مقلوب روایات اسناد کے اعتبار سے بھی ہوتی ہیں اور متن کے اعتبار سے بھی )

یہ سخت قسم کی جروحات نقل کرنے کے بعد امام ذھبی انکی فقاہت پر مبنی اقوالات نقل کرتے ہیں :

وقال أحمد بن يونس: كان أفقه أهل الدنيا.

امام ابن یونس کہتے ہیں : کہ وہ دنیا میں سب سے بڑے فقیہ تھے

وقال يحيى بن يعلى المحاربي: طرح زائدة حديث ابن أبي ليلى.

یحییٰ بن محاربی کہتے ہیں کہ زیدہ نے ابن ابی لیلیٰ کی روایات کو ایک طرف رکھ دیا

ابن خراش، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن شاذان، عن سعد بن الصلت، قال: كان ابن أبي ليلى لا يجيز قول من لا يشرب النبيذ.

ابن خراش کہتا ہے کہ سعد بن صلت کہتے کہ ابن ابی لیلیٰ اس شخص کے قول کو درست قرار نہیں دیتے تھے جو نبیذ نہیں پیتا تھا

(فروعی اختلاف کی وجہ سے )

وقال أحمد بن يونس: سألت زائدة عن ابن أبي ليلى، فقال: ذاك أفقه الناس.

وقال بشر بن الوليد: سمعت أبا يوسف يقول: ما ولى القضاء أحد أفقه في دين الله، ولا أقرأ لكتاب الله، ولا أقول حقا بالله، ولا أعف عن الاموال – من ابن أبي ليلى.

ابو یوسف کہتے ہیں :

کوئی بھی ایسا شخص قاضی نہیں بنا جو ابن ابی لیلیٰ سے زیادہ اللہ کی کتاب کا علام ہو اور اللہ کے ول کے مطابق حق بات کہتا ہو اور لوگوں کے اموال سے بچ کر رہنے والا ہو،

قال بشر: وولى حفص بن غياث القضاء من غير مشورة أبي يوسف، قال: فاشتد عليه، فقال لي والحسن اللؤلؤي: تتبعا قضاياه، فتتبعنا قضاياه، فلما نظر فيها قال: هذا من قضاء ابن أبي ليلى /، ثم قال: ضعوا الشروط والسجلات ففعلنا،

بشر بیان کرتا ہے حفص بین غیاث کو قاضٰ ابو یوسف کے مشورہ کے بغیر قاضی بنا دیا گیا تو انہوں نے اس پر سخٹ ناراضگی کا اظہار کیا انہوں نے اور حسن لولوی نے مجھ سے کہا : ت کاسکے فیصلوں کی تحقیق کرتے رہو ۔ ہم نے ان کے فیصلوں کی تحقیق کی جب انہوں نے اسکا جائزہ لیا تو بولے یہ تو ابن ابی لیلیٰ کے فیصلے ہیں پھر انہوں نے کاہ تم تحریریں رجسٹر رکھ دو (یعنی انکا تعاقب چھوڑ دو یہ ابن ابی لیلیٰ کے فتوے پر چلتے ہیں مسلہ نہٰں )

فلما نظر فيها قال: حفص ونظراؤه يعانون لقيام الليل.

پھر امام ذھبی ایک روایت نقل کرتے ہیں انکے حوالے سے :

أبو حفص الابار، عن ابن أبي ليلى، عن عطاء، عن جابر، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نزل الوحى قلت: نذير قوم أهلكوا أو صبحهم العذاب بكرة، فإذا سرى عنه فأطيب الناس نفسا، وأطلقهم وجها، وأكثرهم ضحكا – أو قال: تبسما.

الثوري وغيره، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس –

إن المشركين أرادوا أن يشتروا جسد رجل أصيب يوم الخندق … الحديث.

حسنه الترمذي.

وقال عبد الحق في أحكامه وابن القطان: إسناده ضعيف ومنقطع، لا سماع للحكم من مقسم إلا لخمسة (1) أحاديث، ما هذا منها.

وضعفاه من جهة ابن أبي ليلى.

وقول الترمذي أولى.

ثوری اور دیگر نےابن ابی لیلیٰ کےحوالے سے انکی سند کے ساتھ عبداللہ ابن عباس سے نقل کیا ہے

مشرکین نے یہ ارادہ کیا کہ وہ ایک شخص کا جسم خرید لیں جو غزورہ خںد کے موقع پر مارا گیا تھا

امام ترمذی اس روایت کو حسن قرار دیا ہے

عبدالحق نے اپنی کتاب احکام میں اور ابن قطان نے یہ کہا ہے اسکی سند ضعیف ہے اور منقطع ہے کیونکہ حکم نامی راوی نے مقسم سے صرف پانچ احادیث کا سماع کیا ہے اور یہ روایت ان مٰں شامل نہیں ہے

ان دونوں حضرات نے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے

لیکن اس بارے امام ترمذی کی رائے زیادہ اولی یعنی مقدم ہے (کہ روایت حسن ہے )

پھر ابن حبان کا کلام نقل کرنے کے بعد انکا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وقال ابن حبان: ولاه يوسف بن عمر القضاء بالكوفة.

ومات سنة ثمان وأربعين ومائة.

وكان ردئ الحفظ، فاحش الخطأ، فكثرت المناكير في حديثه، فاستحق الترك.

تركه أحمد ويحيى.

ابن حبان نے کہا یوسف بن عمر نے اسے کوفہ کا قاضی بنایا ۔ اسکا حافظہ خراب تھا یہ بہت فحش غلطیاں کرتے تھے اسکی حدیث میں منکر الفاظ زیادہ ہوگئے تھے تو یہ متروک قرار دیے جانے کے مستھق قرار پائے

اور امام احمد اور یحییٰ نے اسکو متروک قرار دے دیا

اسکا رد کرتے ہوئے امام ذھبی کہتے ہیں :

قلت: لم نرهم تركاه، بل ليناه.

میں ( الذھبی) کہتا ہوں کہ ان دونوں ( احمد و ابن معین ) نے اسے بالکل متروک قرار نہیں دیا ہے بلکہ ان دونوں نے اسکو لین (معمولی کمزور) قرار دیا ہے

(میزان الاعتدال برقم: ۷۸۲۵)

اسی طرح امام ذھبی سیر اعلام میں انکے بارے لکھتے ہیں :

ابن أبي ليلى، العلامة، الإمام، مفتي الكوفة، وقاضيها، أبو عبد الرحمن الأنصاري، الكوفي.

اسی طرح انکے تلامذہ کا ذکر کرتے ہٰیں :

حدث عنه: شعبة، وسفيان بن عيينة، وزائدة، والثوري، وقيس بن الربيع، وحمزة الزيات

اور مذید تلامذہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

روى عنه أيضا: أحوص بن جواب، وعلي بن هاشم بن البريد، ويحيى بن أبي زائدة، وعمرو بن أبي قيس الرازي، وعقبة بن خالد، وعبد الله بن داود الخريبي، وعلي بن مسهر، وعيسى بن يونس، ومحمد بن ربيعة، وعبيد الله بن موسى، وأبو نعيم، ووكيع، وعيسى بن المختار بن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وخلق سواهم.

انکے تلامذہ کو دیکھا جا سکتا ہے بڑے بڑے حفاظ الحدیث ان سے روایت کرنے والوں میں سے ہیں اور اسکے علاوہ بھی کثیر لوگ تھے

امام ذھبی انکی فقاہت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وكان نظيرا للإمام أبي حنيفة في الفقه.

کہ یہ (ابن ابی لیلیٰ) امام ابو حنیفہ کی مثل تھے فقہ میں

(سیر اعلام النبلاء)

اسی طرح تذکرہ الحفاظ میں امام ذھبی محدثین کی مفسر جرح کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

قلت: حديثه في وزن الحسن ولا يرتقي إلى الصحة؛ لأنه ليس بالمتقن عندهم ومناقبه كثيرة.

میں (الذھبی) کہتا ہوں کہ انکی حدیث وزن (درجہ ) میں حسن ہے لیکن صحیح کی کے درج تک نہیں پہنچتی ۔ کیونکہ یہ ان (محدثین) کے نزدیک متقن نہیں تھے لیکن انکے مناقب بہت زیادہ ہیں

(تذکرہ الحفاظ برقم : 165- 12/ 5)

تو معلوم ہوا کہ ایسے مجتہدین جنکی مداح کثرت سے ہو اہل علم سے اور انکی روایات کو عمومی اپنے وقت کے جید اور مشہور حفاظ بیان کرتے ہوں

اور بعد والوں کی جرح سخت بھی ہوتو پھر بھی یہ بات تفصیل طلب ہوتی ہے

کیونکہ مجتہدین اہل رائے احادیث بلمعنی بھی بیان کرتے ہیں اور انکا تدبر و ہمت زیادہ تر روایات سے مسائل کے استنباط میں ہوتی ہے برحال اہل رائے فقھاء و مجتہدین روایت حدیث میں اصحاب الحدیث کی طرح نہ تھے بلکہ روایت کو بیان کرنے کا طریقہ انکا فقہی طرز پر تھا اور اصحاب الحدیث لفظ بل لفظ روایت بیان کرنے کے موقف پر تھے

اس لیے بل معنی روایت کو بیان کرنے کو محدثین زیادہ پسند نہیں کرتی تھی اور فقھاء عمومی طور پر روایت کی شرح اور متن کی پہچان اور استدلال کے پیش نظر بل معنی روایت کو بیان کرتے کہ مذکورہ مسلے میں جس چیز پر قیاس کیا جا رہا ہو اسکو ظاہر کر کے سمجھانا مقصود ہوتا تھا

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام ابن ابی لیلیٰ جن پر اتنی سخت جروحات ہیں حفظ کے اعتبار سے اور امام ذھبی بھی انکے حفظ پر کلام کیا ہے لیکن اسکے باوجود انکے فقہی مرتبہ اور مناقب کو سامنے رکھ کر اور ان سے بیان کرنے والے اہل علم کو مدنظر رکھتے ہوئے صدوق و حسن الحدیث قرار دیا ہے ابن ابی لیلیٰ کو

تو امام ابو حنیفہ جنکے مناقب متواتر سے ہیں اور انکے تلامذہ میں تو بہت زیادہ حفاظ اور امیر المومنین فی حدیث درجہ کے تلامذہ ہیں اور ثقاہت بھی صریح ہیں

تو انکو کیسے ضعیف قرار دیا جا سکتا ہے

دارقطنی ، ابن عدی، مسلم ، و امام نسائی کے کلام کی بنیاد پر ؟

جبکہ یہ لوگ امام ابو حنیفہ سے بہت عرصہ بعد پیدا ہونے والے ہیں اور انکے مقابل

امام شعبہ ، امام الاعمش امام عبدالرزاق ، امام یحییٰ بن سعید القطان ، امام یحییٰ بن آدم ، امام یزید بن ھارون ، امام زھیر بن معاویہ ، امام ابن مبارک ، امام مسعر بن کدام ، امام ابن شبرمہ ، امام عمرو بن دینار ، امام حماد بن زید ، امام ابن عیینہ ، امام وکیع ، امام زفر ، امام ابو یوسف ، سفیان ثوری اور کثیر اہل علم محدثین کی تعداد ہے

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی