اعزاز سب کو نہیں ملتا

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

اے اہلِ فلسطین !

مجھے معلوم ہے ،تم پر اسلام کے بد ترین دشمن حملہ آور ہیں ۔۔۔ان دشمنوں نے درندوں کو مات دے دی ہے ۔۔۔ان کی درندگی سے نہ بچے محفوظ ہیں نہ بوڑھے اور نہ خواتین ۔

مجھے معلوم ہے تمہارے آشیانے بارود سے جل رہے ہیں تم ، تمہارے اہلِ خانہ اس آگ میں جھلس رہے ہیں ۔

میں سنتا ہوں ان چھوٹے بچوں کی چیخوں کو جب بارود کے پھٹنے سے وہ روتے اور چیختے ہیں تو بڑے بچے اسے سمجھاتے ہیں اللہ اکبر کہو ۔

میں دیکھ رہا ہوں بدترین تشدد کو ۔۔۔آگ کی ہو لی کو ۔۔۔خون کی بہتی نہروں کو۔

میں مسلمان ہوں اور محسوس کرتا ہوں تمہارا غم ، تمہارا دکھ۔

مگر میں بہت مجبور ہوں اے اہلِ فلسطین !

میں قید میں ہوں ۔۔۔

میں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں ۔۔۔

میرے پیروں میں بیڑیا ں ہیں ۔۔۔

میری صدا اہل فلسطین تک پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ میں قید میں ہوں ، زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں ۔

انہوں نے پوچھا : یہ زنجیریں کیسی ہیں ؟

یہ بیڑیاں کیسی ہیں ؟

میری آنکھیں برسنے لگیں ۔

کیا بتاتا اے اہل فلسطین !

میں فرقہ واریت کی زنجیروں میں جکڑا ہواہوں ۔

میرے پیروں میں لسانیت اور وطنیت کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں ۔

میرے ہاتھوں اور پیروں پر لبرل ازم اور سیکولر ازم کی میخیں گاڑھ دی گئی ہیں ۔

اور مجھے تسلسل سے پیر پرستی اور اکابر پرستی کا نشہ آور مشروب پلایا جا رہاہے ۔۔۔

انہوں نے پوچھا ۔

کیا تم ہم سے مخلص ہو ؟

میں نے کہا ہاں کیوں نہیں ۔۔۔ہمارے دل کی دھڑکنیں تمہارے ساتھ دھڑکتی ہیں ۔۔۔تمہارے غم پر ہماری آنکھیں برستی ہیں،

تم ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو ۔۔۔تم ہمارے مسلمان بھائی ہو۔۔۔اور تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہہ کر نبی کریم ﷺ کا فرمان بھی سنا دیا۔

انہوں نے کہا : تو پھر کاٹ ڈالو ان بیڑیوں اور زنجیروں کو ۔۔۔توڑدو ان زنداں کی دیواروں کو ۔۔۔گرادو ان پیر پرستی اور اکابر پرستی کے جاموں کو اور جلا ڈالو ان قحبہ خانوں کوجہاں سے بزدلی ، عیاری اور مکاری بنامِ حکمت جنم لیتی ہے۔

میں نے نگاہیں جھکا لیں ۔۔۔میں خاموش ہو گیا ۔۔۔وہ سمجھ گئے اور پوچھنے لگے ۔

اے ملتِ اسلامیہ ! کیا تمہیں تکلیف نہیں ہوتی جب ہم پر آگ برستی ہے اور ہم خون میں نہاتے ہیں ۔۔۔

کیا تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آتے جب ہم اپنے بچے ، جوان اور خواتین کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے ہیں ۔۔۔

ہمیں تو حیرت ہے تم اپنے گھروں میں کیسے سکون سے رہ لیتے ہو ؟

جب ہمارے گھر بارود کے شعلوں کی نذر ہو کر خاک کا ڈھیر بنتے ہیں ۔

میرا سر شرم سے جھکا ہوا تھا کہ میں نے اہلِ فلسطین کے چہروں پر ایک مسکراہٹ دیکھی جوبزبانِ حال کہہ رہی تھی مسجد اقصیٰ کا تحفظ اعزاز ہے اور اعزاز سب کو نہیں ملتا ۔۔۔

ایک سوال سب سے ۔۔۔

کیا ہم اسرائیلی پروڈکٹ کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ ۔۔۔فرقہ واریت کی زنجیروں کو کاٹ سکیں گے ؟ لبرل ازم اور سیکولرازم کی میخوں کو اکھاڑ کر پھینک سکیں گے ؟ ۔۔۔۔اکابر پرستی اور پیر پرستی کے جام توڑنے کی ہمت ہم میں ہے ؟

اگر نہیں تو پھر فاتح بیت المقدس کا اعزاز کبھی بھی کمزوروں کو نہیں دیا جاتا ۔۔۔مسجد اقصیٰ کا تحفظ ایک اعزاز ہے اور اعزاز سب کو نہیں ملتا۔