“میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی نہیں دے سکتا”

تحریر : نثار مصباحی

رکن- روشن مستقبل، دہلی

آج 19 مئی 2021 ہے۔ آج سے ٹھیک 120 سال پہلے 19 مئی 1901ء کو تھیوڈور ہرژل (اسرائیل کا نظریاتی بانی)، سلطنتِ عثمانی کے آخری بااختیار خلیفہ سلطان عبدالحمید خان ثانی -رحِمَہ اللہ- کے دربار میں یہ گزارش لے کر گیا تھا کہ یہودیوں کو ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دیجیے۔!!!

اس وقت سلطنتِ عثمانی پر باہری قرضے بھی بہت تھے۔ ہرزل نے کروڑوں کا لالچ بھی دیا کہ اگر آپ یہودیوں کو فلسطین کا ایک ٹکڑا دے کر بسنے کی اجازت دے دیں تو ہم فوراً اتنی رقم دیں گے(اس نے بہت بڑی رقم بتائی تھی) جس سے آپ اپنی سلطنت کا اچھا خاصا باہری قرضہ چکا دیں گے۔!!!

اس نے اور بھی ہتھکنڈے اپنائے جن سے وہ سلطان کو راضی کر سکے تاکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو سکیں۔(یہ اسرائیل کے قیام کے لیے ان لوگوں کے منصوبے کا ایک بنیادی حصہ تھا)!!!

سلطان اپنی بےمثال ذہانت اور خدا داد بصیرت کی بنیاد پر یہودیوں کی چالوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہودیوں کے لیے زمین کی خاطر یہ رشوت کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اس پیشکش کو واپس یہودیوں کے منہ پر مار دیا۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنی فراست سے سلطان بنتے ہی 1876ء میں ایک فرمان جاری کر دیا تھا کہ سلطنتِ عثمانی کے دائرے میں کہیں کوئی بھی زمین یہودیوں کو کسی بھی قیمت پر نہیں بیچی جا سکتی۔!!!!

سلطان نے اس دن ہرزل کو جو جوابات دیے وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں:

سلطان نے کہا تھا :

  • “میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی نہیں دے سکتا”!!!

  • “فلسطین امتِ مسلمہ کا حق اور اس کے لیے وقف ہے، جس میں ایسے کسی تصرف کی کوئی گنجائش نہیں۔”!!!

  • “اگر ہم ایسے کسی فیصلے پر دستخط کر دیں گے تو یہ ہمارے دینی بھائیوں (فلسطینیوں) کی موت کے فرمان پر دستخط ہوگا”!!

  • “فلسطین کوئی میری ذاتی ملکیت نہیں ہے(جو میں اسے تقسیم کر دوں)۔ یہ امتِ مسلمہ کی ملکیت ہے۔ ہماری قوم نے اس کے لیے جہاد کیا ہے اور اس سرزمین کو اپنے خون سے سیراب کیا ہے۔ ہمارے جیتے جی اس کی تقسیم ہرگز نہیں ہو سکتی۔ یہودی اپنی کروڑوں اربوں کی دولت اپنے پاس رکھیں۔”

سلطان نے جھڑک کر ہرزل کو بھگا دیا تھا۔

ہرزل کو یقین ہو گیا تھا کہ عبد الحمید کے سلطان رہتے ہمارا منصوبہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس کی پوری جمعیت اور برطانیہ وغیرہ متعدد یورپی ممالک نے سلطان کو معزول کروانے کے لیے خطرناک سازشیں رچیں۔ طرح طرح سے کمزور کیا، ان کی مقبول اور ہر دل عزیز شبیہ کو داغ دار،بنانے کی ہزار کوششیں کیں۔ بالآخر 1909ء میں سلطان کو معزول کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

اور اس طرح ۶۰۰ سالہ قدیم مسلم خلافت (سلطنت) کے خاتمے کا ایک اہم مرحلہ طے کرنے میں یہود و نصاری کامیاب ہو گئے۔!!! 1917ء میں پہلی جنگِ عظیم میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اور چند ہی سالوں میں سلطنت عثمانی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ختم کر دیا گیا۔ پھر دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانیہ(انگلینڈ) نے فلسطین کو آزاد کیا تو جس طرح برصغیر ہند کو آزاد کرتے وقت دوٹکڑے کیے تھے اسی طرح فلسطین کو بھی دو ٹکڑے کرکے 1948 میں زبردستی اسرا/ئیل نامی یہودی ملک اقوامِ متحدہ کے ذریعے بنوا دیا۔!!!!

خلافت کے خاتمے نے امت کو ایسا بکھیرا کہ امت آج تک اپنی سیاسی وحدت دوبارہ نہ پاسکی اور مسلسل پستیوں میں گرتی چلی گئی۔

کاش پچاسوں ٹکڑوں میں بٹے اور اپنے مفادات بلکہ مغرب کی غلامی کر رہے امت کے ان “حاکموں” کو آج احساس ہوتا کہ “امت” کسے کہتے ہیں، اور عزت و شوکت کے لیے امت کی ‘سیاسی وحدت’ اور ‘قوتِ اجتماعی’ کس قدر ضروری ہے۔

نثارمصباحی

P۱۹ مئی ۲۰۲۱ء