مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ہم دشمنوں کے نرغے میں ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان کسی نہ کسی محاذ پر دشمنوں کی سازشوں کے شکار ہیں۔بھارتی مسلمانوں کی مشکلات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

ایسی صورت میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کا فارمولہ کسی قدر قابل عمل ہے کہ دیگر کلمہ گو جماعتوں کے ارباب حل و عقد سے اہل سنت و جماعت کے بعض اہل وعقد ملی مسائل کے حل کے لئے رابطہ رکھیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے عہد قیام میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اجازت دی تھی کہ بعض متصلب علمائے اہل سنت اس کی رکنیت قبول کر لیں۔چوں کہ یہ فارمولہ ناکام ہو چکا ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ میں گرچہ سنی علما کو برائے نام بعض عہدے تفویض کئے گئے تھے,لیکن عملی طور پر وہ معاملہ کاغذ تک ہی محدود تھا۔

انجام کار سنی علما نے الگ تنظیم بنام”مسلم پرسنل لا کانفرنس”قائم کر لی۔اس عہد میں بہت سے کام بھی ہوئے۔آج وہ تحریک بھی محض ایک یادگار بن چکی ہے۔

اس تاریخی تناظر کی روشنی میں یہی تدبیر کارگر نظر آتی ہے کہ سنی علما کی کوئی نمائندہ تنظیم ہو۔اس تنظیم کے نمائندہ افراد دیگر جماعتوں کی ملکی تنظیموں سے رابطہ رکھیں اور ملی مسائل میں سب کے فیصلے یکساں ہوں۔

یہاں ایک نکتہ پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے عوام اہل سنت یا تمام علمائے اہل سنت کو دیگر کلمہ جماعتوں سے ربط و تعلق کی اجازت نہ دی تھی,بلکہ محض دو تین متصلب علمائے اہل سنت کو مسلم پرسنل لا بورڈ سے رابطے کی اجازت دی تھی۔

اگر اس اجازت کی روشنی میں کوئی یہ کہے کہ تمام علمائے اہل سنت یا تمام عوام و خواص بدمذہب جماعتوں سے ربط و تعلق پیدا کر لیں تو میں ہرگز اس کا قائل نہیں۔

ہاں,میں اس کا ضرور متمنی ہوں کہ اہل سنت و جماعت(امام احمد رضا قادری کے متبعین)باہم شیر و شکر ہو جائیں۔فقہی اختلافات میں جہاں از روئے شرع اختلاف کی گنجائش ہے,وہاں نرمی اختیار کی جائے۔اعتقادی اختلاف جہاں اختلاف کی گنجائش نہیں,وہاں ضرور سختی کی جائے۔

جرح وتعدیل کی کتابوں میں یہ ملتا ہے کہ کسی محدث نے کسی راوی پر جرح کیا ہے,لیکن اس محدث کے تمام تلامذہ یا ان کے عقیدت مند اس راوی پر جرح نہیں کرتے۔ممکن ہے کہ اس محدث کو جو خبر ملی۔اس کی روشنی میں انہوں نے جرح کر دیا۔اس کے تمام تلامذہ و منتسبین نے گروپ بنا کر اس راوی پر جرح نہ کیا,بلکہ ہر ایک نے اپنے علم کے مطابق رائے پیش کی ہے۔فن جرح وتعدیل کے وابستگان ان حقائق سے بخوبی واقف ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:21:مئی 2021