وہ شخص جس نے گویا آسمانوں کی سیر کی اور جنت و جہنم والوں کو دیکھا

ازقلم اسد الطحاوی :

امام ابو نعیم اصبھانی اپنی تصنیف حلیہ الاولیاء میں ایک روایت بیان کرتے ہیں :

حدثنا عبد الله بن محمد بن جعفر، ثنا علي بن إسحاق، ثنا حسين بن الحسن، ثنا عبد الله بن المبارك، ثنا عبد الله بن عون، عن رجاء بن حيوة، عن محمود بن الربيع قال: كنا عند عبادة بن الصامت فاشتكى، فأقبل الصنابحي، فقال عبادة: من سره أن ينظر إلى رجل كأنما رقي به فوق سبع سموات فعمل ما عمل على ما رأى فلينظر إلى هذا

امام محمود بن ربیع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سیدنا عبدادہ بن صابت ؓ (صحابی رسولﷺ) کی عیادت کے لیے انکے پاس گئےتھے ۔ اچانک حضرت ابو عبدللہ صنابحیؓ حاضر ہوئے تو حضرت عبادہ بن صامتؓ فرمانے لگے :

” جو ایسے شخص کی زیارت کا خواہشمند ہو جس نے گویا ساتوں آسمانوں کی سیر کا شرف پایا ہو ، جنت و دوزخ والوں کو دیکھا ہو اور اسکے عجائبات دیکھ کر عمل بجالایا ہو وہ اس آنے والے آدمی (ابو عبداللہ صنابحی) کی زیارت کر لے ”

[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد 5، ص 129]

سند کے رجال کا مختصر تعارف!!!

۱۔ عبد الله بن محمد بن جعفر بن حيّان، أبو محمد الأصبهاني الحافظ، أبو الشيخ

قال أبو بكر بن مردويه: ثقة مأمون، صنف ” التفسير “، والكتب الكثيرة في الأحكام وغيره.

وقال أبو بكر الخطيب: كان حافظا ثبتا متقنا.

[تاريخ الإسلام برقم: 323]

۲۔ عليّ بن إسحاق بن إبراهيم. أبو الحَسَن الأصبهانيّ الملقَّب بالوزير.

قَالَ أبو الشّيخ: كان حَسَن الحديث.

[تاريخ الإسلام برقم : 304]

۳۔ الحسين بن الحسن بن حرب السلمي

الإمام، الحافظ، الصادق، أبو عبد الله السلمي، المروزي، صاحب ابن المبارك، جاور بمكة، وجمع، وصنف.

وحدث عن: ابن المبارك بشيء كثير.

[سیر اعلام النبلاء برقم : 67]

۴۔ امام عبداللہ بن مبارک (متفقہ علیہ متقن الامام )

۵۔ عبد الله بن عون بن أرطبان المزنى ، أبو عون البصرى

ثقة ثبت فاضل من أقران أيوب فى العلم و العمل و السن

[تقریب التہذیب ]

۶۔ رجاء بن حيوة بن جرول و يقال : جندل بن الأحنف بن السمط الكندى أبو المقدام و يقال أبو نصر الشامى الفلسطينى

ثقة فقيه

[تقریب التہذیب [

۷۔ محمود بن الربيع بن سراقة بن عمرو بن زيد بن عبدة الأنصارى الخزرجى

(ٍصحابی رسولﷺ)

اس تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کی سند حسن ہے

اور اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ

حضرت امام عبداللہ الصنابحی کی فضیلت بیان کرنے والے صحابی رسولﷺ حضرت عبادہ بن صامت ؓ ہیں اور ان سے بیان کرنے والے صحابی رسولﷺ حضرت محمود بن ربیع ؓ ہیں

حضرت امام ابو عبداللہ الصنابحی کا تعارف!!!

انکے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ صحابی رسول ﷺ ہیں یا نہیں

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں

الفقيه، أبو عبد الله عبد الرحمن بن عسيلة المرادي، ثم الصنابحي، نزيل دمشق.

قدم المدينة بعد وفاة النبي -صلى الله عليه وسلم – بليال، وصلى خلف الصديق.

وحدث عنه، وعن: معاذ، وبلال، وعبادة، وشداد بن أوس، وطائفة.

وعنه: مرثد اليزني، وعدي بن عدي، وعطاء بن يسار، ومكحول، وأبو عبد الرحمن الحبلي، وعدة.

یہ فقیہ ابو عبداللہ عبد الرحمن بن عسلیہ ہیں جو کہ الصنابحی ہیں یہ دمشق میں رہتے تھے پھر مدینہ تشریف لے آئے نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد انہوں نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں اور ان سے روایت کیا ہے

اور انہوں نے معاذ ، بلا ، عبادہ اور شداد بن اود اور طائفہ سے روایت کیا ہے

قال ابن معين: وعبد الله الصنابحي يشبه أن يكون له صحبة

عبداللہ الصنابحی انکے بارے یہی لگتا ہے کہ یہ صحابی رسولﷺ ہیں

[سیر اعلام النبلاء برقم : 117]

امام ابن حجر عسقلانیؒ اصابہ میں فرماتے ہیں :

عبد الله الصنابحي :

مختلف فيه.

قال مالك في الموطأ: عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله الصنابحي، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «إذا توضأ العبد المسلم خرجت خطاياه … » الحديث.

كذا هو عند أكثر رواة الموطأ.

وأخرجه النسائي من طريق مالك، ووقع عند مطرف وإسحاق بن الطباع، عن مالك بهذا عن أبي عبد الله الصنابحي، زاد «5» أداة الكنية، وشذ بذلك.

وأخرجه ابن مندة من طريق أبي غسان محمد بن مطرف، عن زيد بن أسلم بهذا السند، عن عبد الله الصنابحي مثل رواية مالك، ونقل الترمذي عن البخاري أن مالكا وهم في قوله: عن عبد الله الصنابحي، وإنما هو أبو عبد الله، وهو عبد الرحمن بن عسيلة، ولم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم.

وظاهره أن عبد الله الصنابحي لا وجود له، وفيه نظر،

فقد روى سويد بن سعيد عن حفص بن ميسرة، عن زيد بن أسلم حديثا غير هذا، وهو عن عطاء بن يسار أيضا، عن عبد الله الصنابحي، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «إن الشمس تطلع بين قرني شيطان … »

الحديث.

وكذا أخرجه الدارقطني في غرائب مالك، من طريق إسماعيل بن أبي الحارث وابن مندة من طريق «1» إسماعيل الصائغ، كلاهما عن مالك، وزهير [بن محمد] «2» ، قالا: حدثنا زيد بن أسلم بهذا.

قال ابن مندة: رواه «3» محمد بن جعفر بن أبي كثير «4» ، وخارجة بن مصعب، عن زيد.

قلت: وروى زهير بن محمد، وأبو غسان محمد بن مطرف، عن زيد بن أسلم بهذا السند حديثا آخر عن عبد الله الصنابحي، عن عبادة بن الصامت في الوتر.

أخرجه أبو داود فوروده عند الصنابحي في هذين الحديثين من رواية هؤلاء الثلاثة عن شيخ مالك يدفع الجزم بوهم مالك فيه.

وقال العباس بن محمد الدوري، عن يحيى بن معين: عبد الله الصنابحي الذي روى عنه المدنيون»

يشبه أن يكون له صحبة.

وذكر ابن مندة، عن ابن أبي خيثمة، قال: قال يحيى بن معين: عبد الله الصنابحي.

ويقال أبو عبد الله.

قال: وخالفه غيره، فقال: هذا عن أبي عبد الله. وذكر أبو عمر مثل هذا المحكي عن ابن معين، وقال: الصواب أبو عبد الله إن شاء الله.

وقال ابن السكن: يقال له صحبة، معدود في المدنيين.

وروى عنه عطاء بن يسار، وأبو عبد الله الصنابحي مشهور، روى عن أبي بكر، وعبادة، ليست له صحبة، وقد وهم ابن قانع فيه وهما فاحشا، فزعم أن أباه الأعسر، فكأنه توهم أنه الصنابح بن الأعسر الماضي في حرف الصاد، وليس كما توهم.

انکی (صحابیت ) کے بارے اختلاف ہے

امام مالک نے موطا میں عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار سے عن عبداللہ الصنابحی عن النبیﷺ روایت کی ہے فرمایا : جب مسلمان بندہ وضوع کرتا ہے تو اسکی برائیاں دھل جاتی ہیں (الحدیث )

موطا کے اکثر راویوں کے نزدیک اسی طرح ہے

اور امام نسائی نے اسے بطریق مالک نقل کیا ہے اور مطرف کی کتاب اور اسحاب بن الطباع کی کتاب میں عن مالک اسی سند سے عن ابی عبداللہ الصنابحی با ضافہ حرف کنیت لکھا ہے جو شاذ ہے ۔

ابن مندہ نے اسے بطریق ابی غسان محمد بن مطرف عن زید بن اسلم اسی سند سے عن عبداللہ الصنابحی امام مالک کی روایت کی طرح نقل کیا ہے ۔

اور امام ترمذی امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ امام مالک کو عن عبداللہ کہنے میں وھم ہوا ہے ۔ وہ تو ابو وبداللہ ہیں اور یہی عبد الرحمن بنعسلیہ ہیں ۔ نبی اکرمﷺ سے سماع نہیں کیا ہے انہوں نے ۔ اسی سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عبداللہ صنابحی کا وجود ی نہیں ہے اور اس میں نظر ہے

(نوٹ)

: یہاں امام بخاری کا فیہ نظر کہنا جرح کے زمرے میں نہیں بلکہ امام بخاری کبھی کبھار کسی راوی کا کسی سے سماع مشکوک یا غیر ثابت ہونے پر اسکے سماع کی نفی کے لیے بھی فیہ نظر کا کلام کرتے ہیں )

چناچہ سوید بن سعید نے عن حفص بن میسرہ عن زید بن اسلم کے عاوہ ایک اور حدیث نقل کی ہے جس اسی طرح عن عطاء بن یسارعن عبداللہ الصںابحی مروی ہے :

میں نے رسولﷺ کو فرماتے سنا کہ سورج شیطان کے دو سینگھوں میں طلوع ہوتا ہے (الحدیث)

اسی طرح یہ روایت دارقطنی نے غرائب مالک میں نقل کی ہے ۔

ابن مندہ کہتے ہیں اسے محمد بنجعفر بن ابی کثیر اور خارجہ بن مصنف نے بھی زید سے نقل کیاہے

امام ابن حجر عسقلانی تمام دلائل نقل کرنے کے بعد اپنا تجزیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

میں کہتا ہوں : زھیر بن محمد اور ابو غسان محمد بن مطرف نے عن زید بن اسلم اسی سند سے ایک اور حدیث عبداللہ الصنابحی سے بحوالہ عبادہ بن ثابت وتر کے بارے نقل کی ہے

اسے ابو داود نے درج کیا ہے صنابحی کے ہاں ان دونوں حدیثوں میں سے بروایت ان تین افراد نے عن شیخ مالک آنا اس بارے مں امام مالک کے وھم کے یقینی ہونے کو ختم کرتاہے ۔

عباس الدوری امام یحییٰ بن معین سے نقل کرتے ہیں : عبداللہ الصنابحی جن سے اہل مدینہ روایت کرتے ہیں لگتا ہے یہ صحابی رسولﷺ ہیں ۔

ابن مندہ نے ابن ابی خیثمہ سے نقل کیا ہے کہ ابن معین نے فرمایا : عبداللہ الصنابحٰ بقول بعض ابو عبداللہ لکھتے ہیں اوروں نے انکی مخالفت کی ہے

انکا کہنا ہے عن ای عبداللہ ابو عمر کا بیان ہے

ابن معین سے اسی طرح کے الفاظ منقول ہیں فرماتے ہیں ان شاء اللہ ابو عبداللہ (کنیت) ہی درست ہے

ابن سکن کہتے ہیں : بقول بعض صحابی ہیں۔ اہل مدینہ میں شمار ہوتے ہیں ان سے عطاء بن یسار روایت کرتے ہیں ابو عبداللہ صںابحی مشہور ہیں ۔ حضرت ابو بکر اور عبادہ سے روایت کرتے ہیں یہ صحابی نہیں ہیں ۔

ادھر ابن قانع کو ان کے بارے بہت سخت وھم ہوا ہے وہ سمجھے ہیں کہ انکے والد الاعسر ہیں لگتا ہے انہوں نے وھم سے انہیں الصنابحی بن العسر سمجھ بیٹھے ہیں جنکا ذکرحرف صاد میں ہوا ہے ۔ ایسی بات نہیں جیسا نکا وھم ہے۔

[الإصابة في تمييز الصحابة برقم : 5062]

نتیجہ!!! صحابی رسولﷺ غیر نبی حتیٰ کے تابعی کے لیے بھی ایسے الفاظ استعال کیے ہیں کہ انکا عمل ایسا تھا گویا کہ انہوں نے خود آسمانوں اور جنت و دوزخ کا منظر دیکھا ہوا ہے اور جنتی جہنمیوں کو بھی ۔۔۔۔ اور انکےعجائب بھی جو لوگوں کے لیے غیب ہیں

تحقیق: دعاگو اسد اطحاوی الحنفی