بیٹیوں کی تربیت 🥀

🌸 بیٹیوں کو لاڈ پیار دیں ، اچھی تعلیم اور ماحول فراہم کریں ، لیکن ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیں ۔

اُمورِ خانہ داری ، مہمان نوازی اور وضع داری میں انھیں کسی قسم کی سُستی کا شکار نہ ہونے دیں ۔

🌸 پرانی عقل مند مائیں کہا کرتی تھیں:

بیٹیوں کو وقت ، بے وقت نیند سے بیدار کرتےرہنا چاہیے اور کھانا کھاتے ہوئے بھی بار بار اٹھانا چاہیے ، تاکہ سُستی کاہلی کا ان میں نام و نشان نہ رہے ۔

جومائیں امور خانہ داری میں بیٹیوں کی رعایت کرتی رہتی ہیں ، انھیں ہنر سکھانے کے بجائے کہتی‌ ہیں:

” یہ ابھی بچی ہے ، تھکی ہوئی ہے ، پڑھائی کرتی ہے ، ابھی اس کی نیند پوری نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ ۔ “

وہ بیٹیوں کو سُست اور کاہل بنادیتی ہیں ۔

ایسی بیٹیوں کی جب شادی ہوتی ہے تو چوں کہ ہنر تو وہ سیکھی نہیں ہوتیں ، اس لیے دن رات یا سوئی رہتی ہیں ، یا ٹی وی اور موبائل دیکھتی رہتی ہیں ؛ جو تھوڑا بہت کام کرتی بھی ہیں تو اسے بہت زیادہ سمجھ بیٹھتی ہیں ، اور تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہیں ۔

پھر ایک دن آتا ہے کہ نہ ختم ہونے والے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں ، جو زندگی کو عذاب بنا کے رکھ دیتے ہیں ۔

حافظ الحدیث پیر سید جلال الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ اپنے بڑےصاحبزادے کے لیے ایک جگہ رشتہ طے کرنے گئے ، اور رات وہیں قیام کیا ۔

جب عشا کی نمازکے بعد وظائف وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اپنی اہلیہ محترمہ رحمھمااللہ سے کہا:

بیٹی کو ذرا بلائیں ۔

انھوں نے بیٹی کی والدہ سے کہا تو وہ کہنے لگیں:

بیٹی سوگئی ہے ، صبح ملے گی ، ہم نے اسے کبھی سوئے ہوئے نہیں جگایا‌ ۔

آپ رحمہ اللہ صبح بغیر رشتہ طے کیے ہی خاموشی سے گھر آگئے اور کہنے لگے:

یہ بیٹی ہمارے والی نہیں ، ہمارا گھر تو دریشوں کا گھر ہے ، کوئی مہمان رات گئے بھی آسکتا ہے ؛ تو کیا‌ ہم صبح تک بہو کے بیدار ہونے کا انتظار کرتے رہا کریں گے کہ وہ اٹھے اور مہمان کو کھانا پانی دے ۔

🌸 قبلہ والد گرامی کہتے ہیں:

میرے ایک عمر رسیدہ دوست تھے ، جو عقل مند ، معاملہ فہم اور بڑے مال دار تھے ۔

ان کی ایک ہی بیٹی تھی ۔

جب اس کی شادی کا وقت آیا تو اسے پاس بٹھا کر کہنے لگے:

بیٹی ، میری بات غور سے سنو !

آج کے بعد تمھارا سسرال ہی تمھارا گھر ہوگا ، تم نے وہاں نِبھا کرکے دکھانا ہے ۔

تم نے بات بات پر اپنے شوہر سے ناراض ہوکے میکے نہیں چلے آنا ، جب بھی یہاں آنا ہے ہنسی خوشی آنا ہے ۔

یہ کبھی نہیں سوچنا کہ تم‌ ایک‌امیر باپ کی بیٹی ہو ، بلکہ تمھارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ تم ایک بااصول باپ کی بیٹی اور اپنے شوہر کی فرماں بردار بیوی ہو ۔

سسرال میں چھوٹی موٹی باتیں ہوجایا کرتی ہیں ، تُم نے انھیں کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا ۔

نہ وہاں کی باتیں میکے آکر کرنی ہے ، نہ میکے کی سسرال میں ۔

اللہ کریم ہماری بیٹیوں کے نیک نصیب کرے ، اور ہمیں ان کی دینی دنیوی اچھی تربیت کرنے کی توفیق بخشے !

✍️لقمان شاہد

29-5-2021 ء