أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرۡ اِسۡمٰعِيۡلَ وَ الۡيَسَعَ وَذَا الۡكِفۡلِ‌ؕ وَكُلٌّ مِّنَ الۡاَخۡيَارِؕ ۞

ترجمہ:

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجئے اور یہ سب نیک ترین ہیں

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اپنے والد اور بھائی سے منفصل کرنے کی توجیہ

ص ٓ: ٤٨ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجئے اور یہ سب نیک ترین ہیں۔ “ اور اسماعیل بن ابراہیم کو یاد کیجئے، اس سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا تھا، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر ان کے والد گرامی اور ان کے بھائی سے منفصل کیا ہے، متصل نہیں کیا۔ اس میں یہ تنبیہ کرنا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صبر میں سب سے بڑھ کر تھے اور یہاں صبر کی صفت کا ہی بیان مقصود ہے اور وہ صبر میں سب سے بڑھ کر اس لیے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے پیش کردیا تھا، یا اس لیے کہ وہ تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ افضل الانبیاء والمرسلین یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد کریم ہیں۔

الیسع بن اخطوب :

ان کو حضرت الیاس نے بنی اسرائیل پر خلیفہ بنایا تھا، پھر ان کو نبی بنایا گیا۔ وہب بن منبہ نے کہا ہے کہ حضرت الیسع حضرت الیاس کے صاحب تھے، یہ دونوں حضرت زکریا سے پہلے گزرے ہیں، ان کی تفصیل بتیان القرآن ج ٣ ص ٥٧٧ میں ملاحظہ فرمائیں۔

ذوالکفل :

یہ حضرت الیسع کے عم زاد ہیں، ان کو ان کے والد کی وفات کے بعد شام کی طرف مبعوث کیا گیا، ان کی نبوت میں اختلاف ہے، اللہ تعالیٰ نے جس طرح تعریف وتحسین کیساتھ ان کا ذکر انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی ہیں۔ امام ابو منصور ماتریدی متوفی ٣٣٥ ھ نے لکھا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ الیسع اور ذوالکفل دونوں بھائی تھے اور ذوالکفل ایک نیک آدمی کے نیک اعمال کے کفیل ہوگئے تھے، جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا، ان کا مفصل حال ہم نے بتیان القرآن ج ٧ ص ٦٥٥۔ ٦٥٤ میں لکھا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 48