شریعت اور فطرت

ممکن ہے شریعت آپ کو معاف کر دے مگر فطرت کبھی بھی معاف نہیں کرتی

کیونکہ شریعت سو سالہ گناہ کرنے کے بعد بھی ایک لمحے کی معافی سے نجات کا رستہ نکال لیتی ہے

مگر فطرت اس ربڑ کے گیند کی طرح ہے کہ گیند کو جتنی زور سے پھینکو گے پلٹ کر اتنی ہی طاقت سے واپس آئے گا…

اسی طرح فطرت کہتی ہے

آپ جو کچھ معاشرے کو دو گے پلٹ کر آپ کی طرف ہی لوٹ آئے گا

گالی دو گے تو اُسی دن یا کسی دن پلٹ کر ضرور آئے گی.

اگر صلح کرواؤ گے؛صلح پلٹ کر تمہارے پاس اس طرح آئے گی کہ تمہارے گھر کو کبھی بھی بکھرنے نہیں دے گی……

ایک بات یاد رہے شریعت اور فطرت دو متضاد چیزیں نہیں ہیں..

ہم کو سب کچھ شریعت نے ہی سکھایا ہے مگر ہم بات کو سمجھنے کے لئے اس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں….

معاشرے میں انسان دو طرح کی خطائیں کرتا ہے..

ایک شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی

دوسری خطا فطرت کی خلاف ورزی

مثلاً

اگر کوئی کسی کی انگلی کاٹ ڈالے اور پھر اللہ سے اور اس بندے سے معافی مانگے؛ اور معافی مل جانے پر شریعت تو اس کو معاف کردے گی….

لیکن کیا فطرت بھی اسے معاف کر دے گی؟ یعنی کیا انگلی دوبارہ جُڑ جائے گی….. نہیں

روڈ پر غیر ارادی طور پر ایکسیڈنٹ ہو جائے شاید قانون اور شریعت معاف کر دے

لیکن فطرت اس کو کبھی میں معاف نہیں کرے گی کیونکہ ایک یا زائد گاڑیاں قابل مرمت پڑی ہیں اور اس کا ازالہ ان کی مرمت کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے

پھر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور بات کہی

فرماتے ہیں

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف

( اغماض ؛ یعنی چشم پوشی )

یعنی ایک فرد کی غلطی کو فطرت کبھی کبھی معاف کر دیتی ہے

مگر اجتماعی بے حسی؛ فتنہ پروری؛ ظلم و زیادتی؛ کسی بستی؛ قبیلہ؛ قوم یا امت کو تباہ کر دیتی ہے….

آخری گزارش

آپ کے قرب و جوار میں محلہ و بستی میں ایسا کچھ ہو رہا ہے جو آپ کی نظر میں غلط ہے تو اس کی درستگی کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کیجئے..

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

30/05/2021