ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت میں ہندی زبان و ادب کا کردار

تحریر:- مولانا حشم الدين رضوی الثقافي کسی بھی مذہب کی ترویج و اشاعت میں زبان و ادب کاکردار بہت اہم ہوتا ہے،کیونکہ اس مذہب کی تعلیمات و احکامات کو لوگوں تک پہنچانے کا واحد ذریعہ زبان ہے، اور زبان ہی انسانی خیالات و احساسات اور پیغامات کو آواز، الفاظ اور خط وکتابت کے ذریعے ظاہر کرتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں میں متفرق زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباََ سات سو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اگر ہندوستان کی بات کی جائےتو یہاں دنیا کی سب سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ویکیپیڈیا کی رپورٹ کےمطابق ہندوستان میں ۱۲۲؍بڑی زبانیں اور ۱۵۹۹ ؍دوسری زبانیں رائج ہیں، جبکہ ۷۵؍فیصد ہند-آریائی زبانیں(اردو کا بھی شمار آریائی زبانوں میں ہوتا ہے)بولی جاتی ہیں۔ باقی ۲۰؍فیصد دراوڑی زبانیں اور ۵؍فیصد کچھ اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔

سال ۲۰۱۱؍ کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ہندی ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اور بولنے والوں کی تعداد ٦٣. ٤٣فیصدہے۔ جب کہ کل زبانوں میں سنسکرت بولنے والوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ ہندوستان جوکہ دنیا کی آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پہ آنے والا ملک ہے اور زیادہ تر لوگوں کے تبادلہ خیال کا ذریعہ بھی ہندی ہے۔اب اس ملک میں اسلام کی ترویج و اشاعت میں ہندی زبان کا کیا کردار رہاہے اورکیا ہو سکتا ہے اسے جاننے سے قبل ہم ہندی زبان و ادب کی مختصر تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

ہندی زبان وادب کی مختصر تاریخ:

ہندی نے باقاعدہ زبان کی صورت کیسے اختیار کی اور کب اس میں باقاعدہ تصنیف و تالیف کا کام شروع ہوا اس تعلق سے ہندی ادب کے مورخین میں اختلاف ہے مگرکچھ محققین کی رائےمیں ہندی ادب کی پہلی تصنیف ساتویں صدی بکرمی میں ملتی ہے۔ مگر اکثر محققین اور ماہر لسانیات گیارہویں صدی عیسوی تسلیم کرتے ہیں جیسا کہ ”ہندی ادب کی تاریخ“ کے مصنف لکھتے ہیں:

’’اگر ان ابتدائی نقوش کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہندی ادب کی ابتدا کو ۱۱ویں صدی بکرمی کے لگ بھگ قرار دیا جاسکتا ہے۔جب اپ بھرنش ادب دھیرے دھیرے ختم ہو رہا تھا اور ہندی ادب اس خلا کو پر کرنے لگاتھا۔ گیارہویں صدی سے ہندی ادب کاجو سلسلہ قائم ہوا وہ بیچ میں میں کہیں منقطع نہیں ہوا، گو اس کی نوعیتیں بدلتی رہیں۔“(ہندی ادب کی تاریخ، ص:۳۰)

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندی زبان و ادب کی تاریخ تقریباََ ایک ہزار سال پرانی ہے۔ قدیم اور متوسط دور میں ہندوستان میں برج بھاشا اوراودھی زبان رائج تھی، پھر اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔اگر ہم موجودہ ہندی زبان و ادب کے عروج و ارتقاء کی بات کریں تو اس کا دور اٹھارہویں صدی کے بعد کی ہے ۔ جیساکہ مرزا خلیل بیگ اپنی کتاب میں “چٹر جی”کی کتاب(ہند آریائی اور ہندی) کا حوالہ دیتے ہوے رقم طراز ہیں:

’’قوم پرستانہ اور وطن پرستانہ مزاج رکھنے والے اور سنسکرت سے محبت رکھنے والے ہندو سوچ سمجھ کر ناگری رسم خط میں لکھی جانے والیسنسکرت آمیز ہندی کہ جانب مائل ہونے لگے۔اس سلسلے میں انھیں بنگال اور پنجاب (آریہ سماج) سے بہت مدد ملی۔ دھیرے دھیرے ہندو یہ محسوس کرنے لگے کہ ناگری رسم خط کا احیا بہت ضروری ہے۔ بنارس میں ۱۸۹۰ء میں ناگری پرچارنی سبھاکا قیام عمل میں آیا۔ اور ایک نئے عہدہندی کی حقیقی نشاۃِ ثانیہ کاآغاز ہوا۔‘‘ (ایک بھاشا جو مسترد کری گئی، ص:۷۹)

آج کی تاریخ میں جو ہندی زبان کثرت سے مستعمل ہے وہ نا گری ہندی یعنی ناگری حروف میں لکھی جانے والی سنسکرت آمیز ہندی ہے۔اور اس ہندی زبان کااستعمال ہندوپاک کےعلاوہ فزی،ماریشش،گیانہ اور نیپال میں بھی ہوتاہے۔ رہاہندو مصنفین اور پنڈتوں نے سنسکرت کو خوب تعمیرکرنے کی کوشش کی لیکن اس کے ثقل کی وجہ سے وہ ایک ذاتی زبان بن کر رہ گئی۔

اسلامی تعلیمات کے فروغ میں ہندی زبان کاکردار:

ہندوستان میں اسلام کی آمد کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مورخین نےزمانہ رسالت سے ہی ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کو جوڑا ہے۔ پھر یہ سلسلہ دور صحابہ و تابعین میں بھی برقرار رہا،اس کے بعد مسلم سلاطین و امرا کا دور آیا،جو کثرت سے ہندوستان میں آئے اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ان کی جنگیں ہوئیں اور وہ صاحب اقتدار ہوئے۔ لیکن ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ کا زیادہ تر حصہ اولیائے کرام اور صوفیائے کرام کے دامن سے وابستہ ہے۔ جنھوں نے اپنے اخلاق و کردار،اخلاص وارتباط کے ذریعے گلشن اسلام کی آبیاری فرمائی۔

اگر ہم ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی تاریخ اٹھاتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ابتدائی ادوار میں مبلغین اسلام نے ہندی زبان و ادب کا کافی سہارا لیا۔بلکہ ہندو محققین نےیہ بھی کہاہےکہ مسلمانوں نے ہندی زبان کو فروغ دینے میں نمایاں کردار انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں “ہندی کے مسلمان شعرا” کے مصنف نےہندو ماہر تاریخ جناب بھودیوکر جی کاایک مقولہ نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

’’جو زبانیں ہندوستان میں مروج ہیں ان سب میں اہم زبان ہندی ہے اور مسلمانوں کی مہربانی سے یہ تمام براعظم میں پھیل گئی”(ہندی کے مسلمان شعرا، ص:۱۷)

مشہور مورخ مسٹر چٹرجی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں :

”سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندی کی توسیع و ترقی ان بہت بڑی نعمتوں میں سےہے جس کو سلطنت مغلیہ نے ہندوستان کو عطا کیا۔‘‘(ہندی کے مسلمان شعرا،ص:۲۰)

اس سے قارئین نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہندی زبان و ادب کو کس طرح اپنے دل سے لگایااور اسے فروغ دیا۔

اب ہم ان گوشوں کو ذکرکرناچاہیں گے جس سے یہ واضح ہو کہ اسلام کی ترویج و اشاعت میں ہندی زبان کس قدر معاون ثابت ہوئی ہے۔

جب ہم تاریخ کی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ مسلمان جب ہندوستان میں گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں آئے تو اس وقت کھڑی بولی اور برج بھاشا بولی جاتی تھی جو کہ ہندی مغربی زبان کی شاخوں میں سے ایک ہے،نیز جہاں ایک طرف مسلم حکمرانوں کی جماعت تھی وہیں دوسری طرف حکمرانوں سے دور مسلم صوفیوں درویشوں اور فقیروں کا طبقہ تھا جو اسلام کا پیغام محبت اور تعلیمات اسلام کو عوام تک پہنچانا چاہتے تھے۔ یہ حضرات عربی فارسی اور ترکی کے عالم تو تھی ہی لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ اپنے روحانی پیغام کوعام لوگوں تک پہنچانے کے لیے یہاں کے مذہبی علوم اور زبان کو جاننا ضروری ہے۔ جس کی طرف ”ہندی کے مسلمان شعرا“کے مصنف اشارہ کرتے ہیں:

’’مسلمان صوفیوں اور درویشوں کا اصول تھا کہ وہ جس ملک میں بودوباش اختیار کرتے تھے۔ اس ملک کے عوام کے ساتھ خالص طور سے ان کے تعلقات زیادہ گہرے ہوتے، کیونکہ یہ بزرگ جن طریقوں اور اصولوں کو پھیلانے کی کوشش کرتے تھے،ان کی طرف زیادہ توجہ غریب طبقہ کرتا تھا۔ اس لئے ان لوگوں کو غریبوں کے ساتھ رہنا پسند تھا۔ ہندوستان میں جو مسلمان صوفی آئےان کے اخلاق اور محبت کی وسعت دیکھ کر مسلمانوں سے زیادہ ہندو عوام ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس لئے ضروری تھا کہ صوفیا عوام کی زبان سے واقف ہوں۔

ہندوستان کے ہرخطےکی بولی علاحدہ تھی۔ جو بزرگ جس علاقے میں پہنچے انہوں نے وہاں کے عوامی زبان کو اپنا ذریعہ گفتگو بنانے کی کوشش کی۔ زیادہ علاقوں میں برج بھاشا کا رواج تھا اس لئے ان بزرگوں نے ہندی زبان کو پورے طور سے اپنایا‘‘۔ (ہندی کے مسلمان شعرا، ص:۲۱)

یہی وجہ رہی کہ اولیائے کرام و صوفیائے عظام نے ہندی زبان کو تقریر و تحریر دونوں کا شرف بخشا اور ہندی زبان وادب اسلام کی دعوت و تبلیغ کا ذریعہ بنا۔

اب ہم اختصار میں ان چند صوفیوں اور درویشوں کے احوال کو جانتے ہیں جنہوں نے گزشتہ زمانے میں تبلیغ دین متین کےلیے ہندی زبان کو استعمال کیا اور دین اسلام کی آبیاری فرمائی۔

(۱) خواجہ خواجگان ہندالولی حضرت خواجہ غریب نواز(۱۱۴۳-۱۲۳۶) آپ جس وقت سرزمین ہند تشریف لائے۔ اس وقت کفرشرک کا بازار گرم تھا اور ماحول بھی ظالمانہ تھا مزید یہ یہ کہ اس وقت عوام ہندی زبان ہی سمجھتی تھی۔ اس لیے آپ نے پیغام خدا کو لوگوں تک پہنچانے میں ہندی زبان کوہی ذریعہ اظہار گفتگو بنایا۔اگرچہ اس زبان میں اور بھی دوسری زبانیں شامل تھیں۔ جیسا کہ ”اردو اور ہندی زبان کا ارتقا اور ان کا لسانی رشتہ“کے مصنف لکھتے ہیں:

’’مگر سید الاولیاء حضرت معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ جوشمال ہی سے وارد ہوئے اور اجمیر میں سکونت اختیار کی۔ باقی سارےہی اولیا اور خلفا اور ان کے دوسرے مریدین حضرت خواجہ اجمیری ہی کے واسطے سے ملک کے مختلف گوشوں میں رشد و ہدایت کے لئے پھیل گئے۔ان سب کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ دہلی یا نواح دہلی ہی تھا اس لیے بیشتر نے یہیں کی بولی کو ذریعہ اظہار بنانے کی کوشش کی۔‘‘(اردو اور ہندی زبان کا ارتقا اور ان کا لسانیاتی رشتہ، ص:۱۶۶)

(۲) حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (۱۱۷۳-۱۲۳۵) آپ خواجہ غریب نوز کے مرید و خلیفہ خاص تھے۔ آپ کےکئی ہندی مقولے مشہور کتابوں میں ملتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے آپ نے بھی ہندی زبان کو دعوت دین کا ذریعہ بنایا۔

(۳) شیخ فرید الدین گنج شکر(۱۱۷۸-۱۲۶۵) آپ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید اور خلیفہ تھے۔آپ کا مزار پاک دہلی میں ہے۔ آپ کی مادری زبان فارسی تھی اور ہندی زبان سے بھی دلچسپی تھی۔ آپ کے بہت سارے کلام ہندی میں ہیں مگر کلام میں جابجا فارسی کےالفاظ مستعمل ہے جیسا کہ ”اردو ہندی ہندوستان“ کے مصنف لکھتے ہیں:

’’ کھڑی بولی میں فارسی الفاظ کی آمیزش کے ساتھ سب سے پہلےابتدائی فقرے اور چند اشعار مشہور درویش اور صوفی بابا فرید گنج شکر سے منسوب ہیں‘‘( اردو ہندی ہندوستان،ص:۸)

(۴) سلطان المشائخ شیخ نظام الدین اولیا(۱۲۳۸-۱۳۲۵)آپ بابا فرید گنج شکر کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ نے بھی ہندی زبان کو دعوت دین کا ذریعہ بنایا۔حافظ محمود خان شیرانی اپنی کتاب ”پنجاب میں اردو“میں رقم طراز ہیں:

’’ مشائخ صوفیہ نے سب سے پیشتر دہلی اور پنجاب میں ہندی کی سرپرستی کی ان کا تعلق عوام الناس سے براہ راست تھا۔ اس لئے دیسی زبانوں کی تربیت انہی سے شروع ہوتی ہے۔بعض مشہور بزرگوں کے نام دیکھتے ہیں مثلا شیخ فریدالدین مسعود متوفی ۶۶۴ھ شیخ نظام الدین اولیاء متوفی ۷۲۵ھ امیر خسرو متوفی ۷۲۵ھ شیخ شرف الدین بو علی قلندر پانی پتی ۷۲۵ ھ انھوں نے شیخ نظام الدین اولیاء سے ہندی دوہروں میں مشاعرات کیے ہیں‘‘۔ (پنجاب میں اردو، ص:۱۴۴)

(۵) حضرت امیر خسرو (۱۲۵۳-۱۳۲۵)حضرت نظام الدین اولیا کے مرید تھے فارسی زبان کےاتنےزبردست شاعر تھے کہ ایران نے بھی ان کا لوہا مانا۔ آپ کو ہندی علم موسیقی میں ایسی مہارت تھی کہ آپ کے بنائے ہوئے اصولوں پر موجودہ زمانے میں بھی عمل کیا جاتا ہے ۔ فارسی کلام میں اکثر ہندی الفاظ استعمال کرتے تھے اور خود ہندی زبان و ادب کے زبردست عالم تھے۔ آپ کی ہندی زبان میں تصنیف خالق باری ومتفرقات ہیں۔

(۶) سید شاہ برکت اللہ بلگرامی(۱۶۶۰- ۱۷۲۹)آپ سلسلہ قادریہ کی عظیم بزرگوں میں سے ہیں۔بڑے عابد وزاہد تھے آپ کا شمار اہل اللہ میں ہوتا ہے۔ آپ ہندی زبان و ادب کے بہت بڑے عالم تھے۔ آپ کو ہندی شعر و ادب سے کافی لگاؤ تھا آپ ہندی میں پیمی تخلص فرماتے تھے۔ آپ کی ہندی زبان و ادب میں پیم پر کاش دیوان ہندی ایک عظیم شاہکار ہے۔

ان مشائخ کے علاوہ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے ملفوظات، حضرت گیسو دراز بندہ نواز کے رسالہ معراج العاشقین میں ہندی زبان کی اصطلاحیں ملتی ہیں اورحضرت مخدوم شیخ احمد عبدالحق ردولوی جو بڑے پایہ کے بزرگ تھے۔ آپ کو بھی ہندی زبان سے خاص شغف تھی۔

مذکورہ بالا مشایخ ودیگر بزرگان دین نے ہندی زبان و ادب کے ذریعے بہت ساری دینی خدمات انجام دیں ،مگر افسوس کہ بہت سارےصوفیااور اولیا کے ہندی ملفوظات و تالیفات ضائع ہوگئے ۔پر اب بھی بہت سےموجود ہیں جو مختلف کتب خانوں میں مسودے کی صورت میں رکھے ہوئے ہیں۔

اہم نکتہ:

سترہویں صدی قبل تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں داعیان اسلام نے ہندی زبان کا خوب سہارا لیا جیسا کہ ”اردو ہندی ہندوستانی“ کے مصنف لکھتے ہیں:

’’بابا فرید گنج شکر کے زمانے سے لے کر سترہویں صدی کے شروع تک یعنی تقریباً پانچ سو سال تک کھڑی بولی ہندی یا ہندوی کےنام سے صوفیاء، مشائخ، فقراءاپنی مذہبی تبلیغ کے لئے استعمال کرتی رہیں۔‘‘ (اردو ہندی ہندوستانی،ص:۱۰ مصنفہ، سجاد ظہیر)

اس کے بعد بھی عام زبان میں ہی تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا، مگر مسلم امرا کے اقتدار میں اختلاط زبان کے سبب غیر مسلم بھی فارسی اور اردو کو بخوبی پڑھ لیتے تھے ، یہاں تک کہ فارسی اور اردو ادب کے بڑے بڑے ہندو مصنف و شاعر گزرے ہیں۔ اس لیے اس زمانے میں دونوں زبان کی آمیزش کے ساتھ تبلیغ کا کام چلا۔ انیسویں صدی میں انگریزوں کی سازش سے ہندی، اردو کا مسئلہ اتنا اچھا لاگیا کہ غیر مسلموں نے اردوزبان سے بالکل ہی اپنا شغف ختم کر دیا۔ہاں عوام میں اختلاط زبان کے سبب آج بھی عام بول چال کی زبان اردو، ہندی مل کر ہے۔ لیکن تحریری تبدیلی کی وجہ سے غیر مسلموں بلکہ اکثر مسلمانوں کے لیےاردوپڑھنا دشوار ہوگیا۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اب کئی دہائیوں سے اسلام کی ترویج و اشاعت میں خالص ہندی کے بجائے صرف ہندی رسم الخط کے ذریعے لوگوں تک آسانی سے بات پہنچائی جارہی ہے۔

١جون٢٠٢١