غیبت کیا ہے ؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ خوب جانتے ہیں۔ ارشادفرمایا غیبت یہ کہ تو اپنے بھائی کا اُس چیز کے ساتھ ذکر کرے جو اسے بری لگے۔ کسی نے عرض کی۔ جو میں کہتا ہوں اگر میرے بھائی میں وہ موجود ہو تب تووہ غیبت نہیں ہو گی؟ فرمایا جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہے جب ہی تو غیبت ہے اور جب تم ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو یہ بہتان ہے۔ (صحیح مسلم شریف)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!غیبت کی تعریف جان لینے کے بعد اب ہمیشہ ہم کو خیال رکھنا چاہیئے کہ زبان سے کسی کے متعلق کوئی ایسی بات نہ نکلے جو غیبت کی تعریف میں شامل ہو ورنہ غیبت کے جرم کی سزا بہت ہی بھیانک ہے جو حدیث مبارکہ میں مذکور ہے جسے ہم میں کا کوئی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتالہٰذا زبان کی حفاظت کریں اور غیبت سے پرہیز کریں اللہ عزوجل ہم سب کو زبان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ