أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مُتَّكِــئِيۡنَ فِيۡهَا يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ۞

ترجمہ:

وہ ان میں تکیے لگائے ہوئے ہوں گے وہ ان میں بکثرت پھلوں اور مشروبات کو طلب کریں گے

متقین کے لیے جنت کی نعمتیں

ص ٓ : ٥١ میں فرمایا : ” وہ ان میں تکیے لگائے ہوں گے، وہ ان میں بہ کثرت پھلوں اور مشروبات کو طلب کریں گے “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متقین جنتوں میں تکیے لگائے ہوں گے اور دوسری آیات میں تکیہ لگانے کی کیفیت کو بیان فرمایا ہے، جو حسب ذیل ہیں : ھم وازو اجھم فی ظلل علی الارائٓئک متکون (یٰس : ٥٦) جنتی اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے

متکئین علی رفرف خضر وعبقری حسان (الرحمن : ٧٦) وہ سبز مسندوں پر اور غیر معمولی حسین بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے

اور وہ انواع و اقسام کے پھلوں اور میوئوں کو اور طرح طرح کے مشروبات کو طلب کریں گے، ان میں دودھ، شہد اور غیر نشہ آور شراب کے مشروبات ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 51