مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

احباب اہل سنت کی تشویش اور اس کا حل

اہل سنت وجماعت سواد اعظم ہے۔یہ اہل اسلام کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ایسی بڑی جماعت میں کچھ فکری اختلاف ہونا بعید نہیں۔افراد انسانی کی فطرت وطبعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔طرز فکر جداگانہ ہے۔عقل وشعور متفاوت ہونے کے سبب نتائج فکر جداگانہ ہوتے ہیں۔

جب ایک گھر کے چند افراد میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے تو ایک بڑی جماعت جو عرب وعجم میں پھیلی ہوئی ہے,نیز چار طبقات یعنی حنفی,مالکی, شافعی وحنبلی میں منقسم ہے,اس کثیر الافراد جماعت میں اختلاف رائے کچھ بعید نہیں۔ہاں,جو اختلاف صاحب رائے کومذہب سے خارج کر دے,یا صاحب رائے پر فسق کا حکم عائد ہو تو ایسا اختلاف معتبر نہیں۔

ہند وپاک کے احباب اہل سنت بعض فقہی امور میں اختلاف رائے اور اختلافی ماحول کے سبب تشویش میں مبتلا ہیں۔ان کے اطمینان قلبی کے لئے عرض ہے کہ گرچہ بظاہر ماحول غیر مناسب ہے,لیکن ان شاء اللہ تعالی ہم دس بارہ سالوں میں عرب وعجم میں چھا جائیں گے۔

علمائے اہل سنت وجماعت دنیا بھر میں محنت وجفا کشی کر رہے ہیں۔خدام دین اپنے تبلیغی دائرہ کار کو وسعت دے رہے ہیں۔ایشیا وافریقہ اور یورپ وامریکہ میں احباب اہل سنت بیدار ہو کر عملی اقدام شروع کرچکے ہیں۔

یہ بات بھی سچ ہے کہ ہر غلط فکر کا تعاقب ہو گا۔کوئی بھی غلط فکر مستحکم ہو کر دین ومذہب کا جز نہیں بن سکے گی۔اگر حقیقت میں کوئی فکر یا طرز عمل غلط ہے تو اس کو زندگی نہیں مل سکے گی۔

حضور اقدس سرور دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کو دنیا وآخرت کااختیار عطا فرمایا گیا۔آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےقرب خداوندی کو پسند فرمایا,لیکن قیامت تک کے لئے وہی رسول ونبی ہیں۔اب ان کا ہی کلمہ پڑھنا ہو گا,اور ان کے ہی مذہب کو قبول کرنا ہو گا۔

حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام آج بھی اپنے دین ومذہب کے محافظ ونگہبان ہیں۔وہ حسب ضرورت امت کے افراد کو دین اسلام کی مختلف خدمتیں تفویض فرماتے رہتے ہیں۔

ہمیں ابھی بس اتنا کرنا ہے کہ اس لامرکزیت کے ماحول میں سواد اعظم کو امام احمد رضا قادری کے اعتقادات اور افکار ونظریات سے منسلک کرنے کی کوشش کرنی ہے,کیوں کہ وہ خدمت دین کے لئے دربار اعظم سے مقرر فرمودہ عالم اہل سنت تھے,اور عشق مصطفوی کی مجسم تفسیر-جزاہ اللہ تعالی خیر الجزاء:آمین

عرب وعجم میں بے شمار افراد سواد اعظم اہل سنت وجماعت کو امام احمد رضا قادری کے افکار ونظریات سے منسلک کرنے کی کاوش فرما رہے ہیں۔اللہ تعالی ان تمام کو سرخرو فرمائے:آمین

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:04:جون 2021