اسرائیل مصر کی چوکھٹ پر.

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ

رکن: روشن مستقبل دہلی

اقوام متحدہ میں بری طرح شکست اور انٹرنیشنل میڈیا میں چھپی اسرائیل کے ظلم کی داستان، غزہ میں انٹرنیشنل نیوز روم کو تہس نہس کرنا، خود کو ہی سپر پاور سمجھنے کی غلطی اسرائیل کو بھاری پڑ رہی ہے، کل اسرائیلی وزیر خارجہ مصر پہنچ گئے، یاد رہے یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر خارجہ کا 13 سالوں میں پہلا دورہ ہے، جس حماس کو مٹا دینے کی بات کر رہے تھے آج اسی سے بات کرنے کے لیے مصر کی چوکھٹ چومی جارہی ہے، یہ ذلت بھی اسرائیل جیسا ملک ہی اٹھا سکتا ہے.

ہٹلر وقت کو مٹی میں ملا دیتا ہے

وہ خدا ہے سر مغررو جھکا دیتا ہے

کویت نے اسرائیل سے تجارت پر لگائی پابندی.

کویت دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات، ختم کردیے ہیں، “ترکی اردو” کے کویت کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ تجارت کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ نے جو قانون منظور کیا ہے اس کے مطابق جو کویتی تاجر اسرائیل کے ساتھ تجارت کرے گا اسے ایک سال سے تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

یہ بل کویت کی پارلیمنٹ کے اراکین عدنان عبدالصمد، ڈاکٹر علی القطن، احمد الحمد، ڈاکٹر حشام الصالح اور خلیل الصالح نے پیش کیا۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ جو کویتی تاجر دنیا کے کسی بھی خطے سے یہودی ریاست اسرائیل کے ساتھ یا اسرائیل کے کسی ادارے یا نجی کمپنی کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ لین دین کرے گا اس پر یہ قانون لاگو ہو گا۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ ہزار کویتی دینار کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کی یکجہتی کا اظہار بھی قابل سزا جرم تصور کیا جائے گا۔

کویت ہمیشہ سے ہی فلسطین کی آزادی کی حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے”.

اب ہم آپ کو اسرائیلی وزیر خارجہ کے کچھ ٹویٹس دکھاتے ہیں جو اسرائیل کی ذلت کے منہ بولتے ثبوت ہیں.

اسرائیلی وزیر خارجہ Gabi Ashkenazi مصری وزیر خارجہ کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹوئٹ کرتا ہے

Thank you, FM #Sameh_Shoukry, for your invitation to visit #Egypt, the first formal visit of an Israeli FM in 13 years.

During the visit we will discuss regional issues as well as ways and means to strengthen our bilateral relations.

مصری تشریف لانے کے دعوت نامے کے لیے (وزیر خارجہ) سامح شکری آپ کا شکریہ، آپ کی وجہ سے اسرائیلی وزیر خارجہ کا 13 سالوں میں پہلا باضابطہ دورہ ہوا ۔

اس دورے کے دوران ہم علاقائی امور کے ساتھ ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے طریقوں اور دیگر ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

גבי אשכנזי – Gabi Ashkenazi

دوسرا ٹوئٹ بھی دیکھیں

We will discuss establishing a permanent ceasefire with #Hamas, a mechanism for providing humanitarian aid & the reconstruction of #Gaza with a pivotal role played by the intl. community.

First and foremost, Israel is fully committed to returning our MIA’s held by the Hamas.

ہم حماس کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے بارے میں بات کریں گے ، انسانی امداد کی فراہمی کے لئے ایک طریقہ کار اور غزہ کی تعمیر نو کا ایک کلیدی کردار بین الاقوامی برادری کے ساتھ ادا کریں گے.

سب سے پہلے اور اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل حماس کے زیرقیادت ہماری ایم آئی اے کی واپسی کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے ٹوئٹ ایسے کئے ہیں جیسے انھیں مصر نے ہاتھ پیر جوڑ کر دعوت دی ہو، لیکن دنيا بخوبی جانتی ہے کہ اسکرپٹ کیا ہے اور اس وقت کس کی، کس کو ضرورت ہے،ورنہ کیا وجہ ہے کہ کہ 13 سالوں تک اس جانب توجہ بھی نہ کی اور اب بھاگے بھاگے پہنچ رہے ہیں.

ع/ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے.

منافق کون؟

دنیا جانتی ہے کہ یہود سے بڑا کوئی منافق نہیں ہو سکتا اور اس کی ایک مثال ہم یہاں پیش کرتے ہیں.

اسرائیلی وزیر خارجہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ دیکھئے تو ایسا لگتا ہے جیسے اسرائیل ہر اس تنکے کا سہارا لینا چاہتا ہے جو اسے کنارے لگانے کی امید دکھاتا ہو، چوں کہ یہودی برادری بھی اس بار نیتن یاہو کے خلاف تھی اس لیے اسرائیلی وزیر خارجہ امریکا میں مقیم یہودی برادری سے ملتے ہیں اور اسے شئر کرتے ہیں، نیز جاپان کا اقوام متحدہ میں اسرائیل کا ساتھ دیے جانے پر کئی ٹوئٹ کے ساتھ شکریہ ادا کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، پہلے اقوام متحدہ میں شکست پر اسرائیلی وزیر خارجہ کی بھڑاس دیکھئے.

We reject the outrageous decision adopted today by the Human Rights Council.

The decision completely ignores #Hamas attacks and is a moral stain that lays bare the hypocrisy and blindness among the member states of the council.

ہم آج ہیومن رائٹس کونسل کے ذریعہ لیے جانے والے اشتعال انگیز فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔

اس فیصلے میں حماس کے حملوں کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ ایک اخلاقی داغ ہے جو قونصل کے ممبر ممالک میں منافقت اور اندھے پن کو جنم دیتا ہے.

اور اب جاپان کے شکریہ والا ٹوئٹ بھی دیکھیں.

@MofaJapan_en

I just spoke with Motegi,

The FM of #Japan.

I thanked him for the Japanese government’s support of #Israel & their condemnation of #Hamas’ terrorist attacks.

I was happy to hear that we see eye to eye on the Iranian issue and have the same goal >>

میں نے ابھی موٹیگی(جاپانی وزیر خارجہ) سے بات کی،

میں نے جاپانی حکومت کی اسرایل کی حمایت اور حماس کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ہم ایرانی مسئلے پر آنکھ میں آنکھ ڈالتے نظر آتے ہیں اور ہمارا ہدف ایک ہی ہے.

دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ يوجا

سراسر موم ہوجا یا پھر سنگ ہوجا

آپ دیکھ رہے ہیں کہ جاپانی وزیر خارجہ سے بات کرتے ہوئے یہ حماس کو دہشت گرد کہہ رہے ہیں وہیں اسي حماس سے مذاکرات بھی جاری ہیں، اور حماس کے ساتھ کام کرنے کو بھی تیار ہیں.

بہر حال اس وقت دنیا میں جتنی اسرائیل کی بے عزتی ہو رہی ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہودیوں پر دنیا آج بھی اعتبار نہیں کر پائی ہے اور انکی منافقت اور بے اعتباری آج بھی وہی ہے جو ہٹلر کے زمانے میں تھی، تاریخ سے منھ موڑا بھی جائے تو کیسے؟ ابھی اسرائیل کے قیام کو چار پانچ ہزار سال تو ہو نہیں گئے کہ لوگ کسی بھی بات پر اعتبار کر لیں گے، نوجوان قوم سب دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل کب اور کیسے وجود میں آیا اور پھر اس نے کس طرح اپنا رقبہ بڑھایا اور اپنے گھر میں جگہ دینے والے لوگوں کے ساتھ ہی اسرائیل نے جو ظلم کے پہاڑ میزبان پر توڑے ہیں وہ اب بھی ذہنوں اور تاریخ کے دریچوں میں محفوظ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں آج بھی اسرائیل کی حمایت میں صرف 9 ووٹ پڑے، جب کہ 11 روزہ جنگ کے دوران خود اسرائیلی صدر نے کئی ملکوں کے جھنڈے ٹوئٹ کرکے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہمارے ساتھ آدھی دنیا ہے، لیکن شاید اسرائیل نے یہ کہاوت نہیں سنی ہے ک” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور”.

31/51/2021