مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

یہ ایک نفس الامری حقیقت ہے اور انسانی فطرت بھی کہ کسی کی تحریر وتقریر پڑھ اور سن کر ہر شخص وہی معنی مراد لیتا ہے جس جانب اس کا ذہن سبقت کرتا ہے۔خواہ وہ متکلم کی مراد ہو یا نہ ہو۔

ہمارے بعض مضامین دیکھ کر بعض احباب اہل سنت کو یہ خیال گزر سکتا ہے کہ یہ شخص ہمیں امام احمد رضا قادری کی طرف متوجہ کرکے ہمیں اپنے شیخ وسلسلہ سے دور کرنا چاہتا ہے,حالاں کہ ہمارا مقصود یہ نہیں۔

ہم نےامام احمد رضا قادری کے اعتقادات اور افکار ونظریات پر مستحکم ہونے کی دعوت دی ہے,اور عشق مصطفوی کی ترغیب دی ہے۔

خود امام احمد رضا اس باب میں ایک انوکھے طبقہ کے فرد ہیں۔وہ صراحت بھی کرتے ہیں۔

تجھے جانا تجھے مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

یہ خواص کا ایک طبقہ ہے۔یہ نفوس قدسیہ محض رشتہ ایمانی اور تعلق کلمہ خوانی کے سبب بلا کسی وسیلہ اور واسطہ کے براہ راست حضور اقدس تاجدار کائنات علیہ التحیۃ والثنا سے اپنے روابط وتعلقات قوی سے قوی تر کرتے جاتے ہیں۔جن کو جو ذریعہ بہتر ومؤثر نظر آتا ہے,اسی کو اختیار کرتے ہیں اور دربار اعظم کی حاضری اور قرب نبوی سے سرفراز ہوتے ہیں۔

اس طبقہ میں امام احمد رضا قادری,علامہ فضل رسول بدایونی,علامہ فضل حق خیر آبادی,شیخ عبد الحق محدث دہلوی,علامہ عبد الرحمن جامی,سید التابعین حضرت اویس قرنی اور ان کے ہزارہا امثال ونظائر شامل وداخل ہیں۔رضی اللہ تعالی عنہم ونفعنا ببرکاتہم:آمین

اس طبقہ کے افراد آپس میں بھی ایک دوسرے کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔وہ پلکیں بھی نہیں جھپکاتے,تاکہ ایک آن کو بھی جلوہ حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا کا سلسلہ موقوف نہ ہو۔

اس طبقہ کے افراد ہر کسی کو عشق مصطفوی کی دعوت دیتے ہیں,وہ کسی کو اپنی ذات کی طرف متوجہ نہیں کرتے۔امام احمد رضا تو حرم خداوندی میں بیٹھ کر بھی لوگوں کو ذات اقدس نبوی کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

کعبہ تو دیکھ چکے اب کعبے کا کعبہ دیکھو

اس طبقہ کے خوش نصیب افراد یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ جملہ خلائق میں ہمارا بلا واسطہ تعلق صرف ذات پاک مصطفوی سے ہے۔باقی جملہ معظمان دین اور مومنین سے بالواسطہ تعلق ہے کہ آں حضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے جن سے ربط وتعلق کا حکم فرمایا اور جن کے لئے جس قدر درجات بیان فرمائے,ان درجات وحیثیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ معظمان دین اور مومنین سے بالواسطہ ربط وتعلق رکھتے ہیں۔یہی نفس الامری حقیقت بھی ہے۔ہر امتی کا اللہ تعالی سے تعلق بھی اپنے رسول ونبی کے واسطہ ہی سے ہوتا ہے۔

ع/ تجھے جانا تجھے مانا نہ رکھا غیر سے کام

توضیح:ذات پاک مصطفوی سے براہ راست تعلق ہے۔دیگر معظمان دین اور مومنین سے بالواسطہ۔

“نہ رکھا غیر سے کام”کا مفہوم یہ ہے کہ جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے منقطع ہے۔ہم نے بھی اس سے تعلق نہ رکھا۔

ہم قوم کو امام احمد رضا قادری کے مسلک ومذہب پر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں,کیوں کہ وہی مذہب حق ہے,نیز ہم نے اپنی تحریروں میں عشق محمدی کی ہی دعوت دی ہے۔یہی مسلک اعلی حضرت ہے۔

جان ودل ہوش وخرد سب تو مدینے پہنچے

کیوں نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

گر اس بلند رتبہ طبقہ میں ہم شامل وداخل نہیں تو کم ازکم عشق مصطفوی کے نقیب تو بن جائیں۔یہ سعادت مند مشغلہ ہے,اور دونوں جہاں کے حسنات وبرکات کا ذریعہ۔

احباب اہل سنت جس سنی صحیح العقیدہ شیخ طریقت سے وابستہ ہیں,ان سے وابستہ رہیں۔باب اعتقادیات میں امام احمد رضا قادری کی تعلیمات کو اپنائیں۔اگر حنفی المسلک ہیں تو باب فقہیات میں بھی امام احمد رضا کی تحقیقات پر کاربند ہوجائیں۔

عہد حاضر میں بیعت برکت کا طریقہ مروج ہے اور مشائخ کرام شیخ اتصال ہیں۔وہ اپنے مریدین کا روحانی تعلق حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے قائم کرتے ہیں۔

ہم نے بھی اپنے مضامین میں عشق مصطفوی اور محبت نبوی کی دعوت دی ہے,پس میں باب شرعیات میں بھی آپ کا ہم درد وخیر خواہ ہوں اور باب روحانیات میں بھی۔

دنیا وآخرت کی ساری نعمتیں دربار اعظم ہی سے تقسیم ہوتی ہیں۔ہم اپنے قلب وذہن اور افکار وتصورات کا رخ ان کی جانب کر دیں تو دل کی دنیا ہی بدل جائے۔وہی مقصود ہیں,وہی مطلوب۔وہی مرکز عقیدت ہیں,وہی مرجع محبت۔ہم انہیں سے ہیں۔ہم انہیں کے ہیں۔

امام احمد رضا قادری طبیب حاذق ہیں۔ان سے نسخہ کیمیا لے کر دربار اعظم تک پہنچو۔

بخدا خدا کا یہی ہے در

نہیں اور کوئی مفر مقر

جو ویاں سے ہو یہیں آ کے ہو

جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:04:جون 2021