الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 665

روایت ہےحضرت انس سےفرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں تشریف لائے ا ور اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے تھے فرمایا یہ دو دن کیسے ہیں وہ بولے کہ ہم ان دنوں میں زمانہ جاہلیت میں کھیلتے تھے ۱؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ نے تمہیں ان کے عوض ان سے دو اچھے دن دیئے ہیں بقرعید اورعیدالفطر۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ ان میں سے ایک کا نام نیروز تھا یعنی سال کا پہلا دن،یہ فارسی لفظ ہے نوروز سے بنا اور دوسرے کا نام مہرجان تھا۔غالبًا نیروز جنوری کی پہلی تاریخ ہوتا ہوگا،اورمہرجان جولائی میں۔واﷲ اعلم! ان لوگوں نے یہ دن مجوسیوں سے لیے ہوں گے جواصل میں فارسی النسل تھے۔

۲؎ یعنی تم ان دنوں میں کھیلنے کودنے کے عوض ان دو دنوں میں اﷲ تعالٰی کی عبادتیں کرکے خوشی مناؤ۔خیال رہے کہ اب بھی کفار اپنے بڑے دنوں میں جوئے کھیلتے ہیں،شرابیں پیتے ہیں،ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں،انسانیت سوز اور بے حیائی کے کام کرکے خوشیاں مناتے ہیں،اسلام میں ہر کام انسانیت بلکہ روحانیت کاہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ عاشورہ کے دن خوشی کرنا خارجیوں کا طریقہ ہے،اور رنج و غم کرنا،سینہ کوٹنا رافضیوں کی حرکتیں،تم ان دونوں سے بچو۔الحمدﷲ! حرمین شریفین میں اس دن میں یہ کچھ نہیں ہوتا،روافض نیروز کے دن خوشی مناتے ہیں،بہانہ یہ کرتے ہیں کہ اس دن عثمان غنی شہید ہوئے تھے مگر درحقیقت یہ مجوسیوں کی نقل ہے۔علماء فرماتے کہ اگر نیروز کے دن کسی مجوسی کو ایک انڈا بھی ہدیۃً دیا اس دن کی تعظیم کے لیے تو دینے والا کافر ہوا اور اس کے سارے اعمال ضبط ہوگئے۔