حدیث نمبر 675

روایت ہے حضرت ابوحویرث سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو لکھا ۱؎ جب کہ وہ نجران میں تھے کہ بقرعید جلدی پڑھو اورعیدا لفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو ۲؎(شافعی)۳؎

شرح

۱؎ ابوالحویرث کو بعض نے صحابی ماناہے اوربعض نے تابعی۔صحیح یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،عمرو ابن حزم صحابی ہیں،انصاری ہیں،غزوہ خندق وغیرہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کے مشہور شہر نجران کا حاکم بناکربھیجا جب کہ آپ کی عمر صرف ۱۷ سال تھی۔

۲؎ وجہ ظاہرہے کہ عید کے دن فطرہ نماز سے پہلے دیاجاتاہے اور بقرعید کے دن قربانی نماز کے بعدہوتی ہے،نیز عید میں کھانا نماز سے پہلےکھایا جاتاہے اور بقرعید میں نماز کے بعد اس لیے نمازعید کچھ دیر سے پڑھنا بہتر ہے اور بقرعید جلدی۔خیال رہے کہ نماز عیدین کا وقت آفتاب چمکنے سے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے،اور نصف النہار تک رہتا ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ اس حدیث کی اسناد میں ابراہیم ابن محمدہیں جومحدثین کے نزدیک قوی نہیں،ابن حجر نے فرمایا کہ حدیث ضعیف ہے۔لیکن فضائل ومستحبات میں ضعیف حدیث قبول اورقابل عمل ہوتی ہےکیونکہ یہاں وقت مستحبہ کا ذکر ہے۔