{قسم کھانے کا بیان}

قسم کی قسمیں}

شریعت میں قسم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی ہوتی ہے یا کلام اللہ کی قسم ہوتی ہے ۔ غیر اللہ کی قسم کا شریعت میںکوئی اعتبار نہیںہے نہ ایسی قسم منعقد ہوتی ہے اور نہ اس کا کوئی کفّارہ ہے ۔

حدیث شریف: سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد (یعنی غیر اللہ) کی قسم کھانے سے منع فرماتاہے ۔سوجو قسم کھانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے یا خاموش رہے ۔

مسئلہ : غُصّے میں آکر یہ کہہ کہ اگر میں یہ کام کروں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو، اس کی لعنت ہو ، مجھ پر آسمان پھٹ پڑے ،مجھ پر خدا کی پھٹکار ہو، سرکارِ اعظم ﷺکی شفاعت نصیب نہ ہو ان کلمات کے کہنے سے قسم نہیں ہوتی لیکن ایسے کلمات استعمال کرنے سے بچناچاہیے اگرایسے کلمات استعمال کئے اورجھوٹا ثابت ہوا تو گنہگار ہوگا لہٰذا اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے ۔

مسئلہ : بعض لوگ قسم کھانے کے ارادے سے یوں کہہ دیتے ہیں کہ اگر میں فلاں کام کروں تو فلاں چیز مجھ پر حرام ہے یا یہ کہے کہ تجھ سے بات کرنا مجھ پر حرام ہے یعنی حلال چیز کو اپنے اُوپر حرام قرار دے دیا توایسی صورت میںکسی کے کہنے سے حلال چیز حرام نہیں ہوتی چیزوں کو حلال وحرام قرار دیتے کا حق صرف اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکو ہے تاہم اس سے قسم منعقد ہوجائے گی اوراگر وہ اسے توڑ دے گا تو کفّار ہ لازم ہوگا۔

مسئلہ : ایک شخص نے آئندہ کسی کام کرنے یا نہ کرنے میں قسم کھائی اورپھر اس کے خلاف کیا یعنی قسم کو توڑ دیا فقہی اصطلاح میں اسے حانث کہتے ہیں کردہ حانث ہوگااس کی تلافی کے لئے کفّارہ ادا کرنا چاہیے ۔

ّقسم کا کفّارہ کیا ہے }

دس مسکینوں کو اپنے اوسط معیار (درمیانے طریقے) کے مطابق دووقت کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو لباس فراہم کرے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تین دن کے روزے رکھے۔