أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِى النَّارِ‌ ۞

ترجمہ:

جس کے متعلق عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے کیا آپ اس کو دوزخ سے چھڑا لیں گے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

جس کے متعلق عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے کیا آپ اس کو دوزخ سے چھڑالیں گے ؟ لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے (جنت میں) بالاخانے ہیں، ان کے اوپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں، ان کے نیچے دریا جاری ہیں، یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے بادل نازل فرماتا ہے، پھر اس سے زمین میں چشمے جاری کرتا ہے، پھر اس سے مختلف قسم کی فصل اگاتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ فصل پک کر زرد ہوجاتی ہے، پھر وہ اس کو چورا چورا کردیتا ہے، بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نصیحت ہے (الزمر : ٢١۔ ١٩)

گناہ کبیرہ کے مرکتبین کی شفاعت پر ایک اعتراض کا جواب

الزمر : ١٩ میں فرمایا ہے : ” جس کے متعلق عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے کیا آپ اس کو دوزخ سے چھڑا لیں گے ؟ “

معتزلہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ مرتکب کبیرہ کی شفاعت جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا ہے : ” کیا آپ ان کو عذاب سے چھڑالیں گے “ اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس سے پہلے طاغوت کی عبادت کرنے والوں کا ذکر فرمایا تھا اور طاغوت کی عبادت کرنے والے کفار اور مشرکین ہیں اور کفار اور مشرکین کے متعلق اللہ تعالیٰ خبر دے چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشے گا، فرمایا :

ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء (النساء : ٤٨) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔

اور اگر اللہ تعالیٰ کفار اور مشرکین کو بخش دے تو خود اس کے قول کے خلاف ہوگا اور اس سے اس کے کلام میں کذب اور جہل لازم آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہیں اور محال تحت قدرت نہیں ہوتا اور انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت ان کے لیے ہوتی ہے جن کی مغرفت ممکن ہو اور وہ مؤمنین ہیں جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوگئے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے النساء : ٤٨ میں خود فرمایا ہے کہ وہ شرک سے کم گناہ کو اس کے لیے بخش دے گا، جس کے لیے چاہے گا اور گناہ کبیرہ شرک سے کم درجہ کا گناہ ہے، سو اس کی مغفرت ممکن ہے اور تحت قدرت ہے اور جس کی مغفرت ممکن ہو اس کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت بھی ممکن ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ الزمر ١٩ میں مرتکبین کبائر کا ذکر ہے یعنی گناہ کبیرہ کرنے والوں کے متعلق عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ کبیرہ گناہ شرک سے کم ہے اور اللہ تعالیٰ النساء : ٤٨ میں فرما چکا ہے کہ شرک سے کم گناہ کرنے والوں میں سے جن کو وہ چاہے بخش دے گا، خواہ انہوں نے توبہ کی ہو یا نہ کی ہو اور خواہ ان کی شفاعت کی جائے یا نہیں، بلکہ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوے کہ اللہ تعالیٰ بعض مرتکبین کبیرہ کو شفاعت کے بغیر محض اپنے فضل و کرم سے بخش دے گا، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کبیرہ گناہ کرنے والے مؤمنوں کی بخشش کی تین صورتیں ہیں : اللہ تعالیٰ ان گنہگاروں کو ان کی توبہ بےسخش دے، بغیر توبہ کے ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت سے بخش دے اور یا توبہ اور شفاعت کے بغیر ان کو محض اپنے فضل و کرم سے بخش دے۔

 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 19