أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ‌ ؕ قُلۡ اَوَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے سفارشی بنارکھے ہیں، آپ کہیے : خواہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل وخرد رکھتے ہوں

الزمر : ٤٤۔ ٤٣ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے سفارشی بنا رکھے ہیں، آپ کہیے : خواہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل وخردرکھتے ہوں آپ کہیے کہ تمام شفاعتوں کا مالک اللہ ہی ہے، تمام آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے “

بتوں کی شفاعت کرنے کا رد اور ابطال

یہ آیت اہل مکہ کے رد میں نازل ہوئی، کیونکہ وہ یہ زعم کرتے تھے کہ بت اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مشرکین سے یہ کہیے : کیا تم بتوں کو سفارشی بنا رہے ہو، خواہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور انہیں کسی چیز کی عقل نہ ہو اور جب وہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں تو اللہ کے پاس تمہارے شفاعت کرنے کے کیسے مالک ہوں گے اور وہ اس بات کو کیسے سمجھیں گے کہ تم ان کی عبادت کرتے ہو۔

پھر مشرکین کو دلیل سے ساکت کرنے کے بعد فرمایا :” تمام شفاعتوں کا مالک اللہ ہی ہے “ یعنی کوئی شخص کسی کی شفاعت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، جب تک کہ جس کی شفاعت کی جائے وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ نہ ہو اور شفاعت کرنے والے کو شفاعت کا اذن نہ دیا گیا ہو اور بتوں کی شفاعت کے معاملہ میں دونوں چیزیں مفقود ہیں۔

امام فخر الدین محمد بن عمرازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

بعض لوگوں نے اس آیت کے مطلقاً شفاعت کی نفی پر استدلال کیا ہے اور یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو شفاعت کرنے کا اذن نہ دے تو وہ شفاعت نہیں کرسکتا۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٤٥٧۔ ٤٥٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 43