أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

الزمر : ٥٢ میں فرمایا : ” کیا انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ “ یعنی رزق میں تنگی اور کشادگی کا مدار انسان کے علم اور اس کی عقل پر نہیں ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے علم اور عقل والے تنگ دست اور قلاش ہوتے ہیں اور بہت سے جاہل اور بیوقوف لوگ خوش حال اور مال دار ہوتے ہیں۔ پس مال کی کثرت اور قلت کا مدار اللہ کے فضل اور اس کی حکمت پر ہے، وہ اپنی حکمت کی وجہ سے یا کسی کو آزمائش میں مبتلا کرنے کے لیے اس کو مال کی تنگی میں مبتلا کردیتا ہے اور کسی کو ڈھیل دینے کے لیے یا اس پر فضل فرمانے کے لیے اس کو مال کی کثرت سے نوازتا ہے۔a

ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنا اور مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جانا یہ کفار کا طریقہ ہے، سو مسلمانوں کو چاہیے کہ ہرحال میں اللہ سے رابطہ رکھیں اور ہرحال میں اس کو یاد رکھیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو یہ پسند ہو کو مصائب اور شدائد میں اللہ اس کی دعا کو قبول کرے اس کو چاہیے کہ وہ راحت کے ایام میں اللہ تعالیٰ سے بکثرت دعا کرے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٨٢، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٦٣٠٦، الکامل لابن عدی ج ٥ ص ١٩٩٠)

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 52