أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيۡهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا ‌ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ‌ ۚ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ ایک مثال بیان فرما رہا ہے، ایک غلام ہے جس میں کئی متضاد خیالات کے لوگ شریک ہیں اور ایک دوسرا غلام ہے جس کا صرف ایک شخص ہی مالک ہے، کیا ان دونوں غلاموں کی مثال برابر ہے ؟ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں بلکہ ان (مشرکین) میں سے اکثر نہیں جانتے

اللہ تعالیٰ کی توحید پر آسان، سادہ اور عام فہم دلیل

الزمر : ٢٩ میں فرمایا : ” اللہ ایک مثال بیان فرمارہا ہے، ایک غلام ہے جس میں کئی متضاد خیالات کے لوگ شریک ہیں اور ایک دوسرا غلام ہے جس کا صرف ایک شخص ہی مالک ہے، کیا ان دونوں غلاموں کی مثال برابر ہے ؟ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر ایک سادہ، آسان اور عام فہم دلیل بیان فرمائی ہے کہ یہ مشرکین یہ بتائیں کہ ایک غلام کے کئی مالک ہوں اور ان مالکوں کے درمیان اختلاف اور تنازع ہو اور ہر مالک اس کا مدعی ہو کہ وہ شخص اس کا غلام ہے اور ہر مالک اس کو اپنی طرف کھینچ رہا ہو، ایک مالک اس کو ایک وقت میں کوئی حکم دیتا ہے اور دوسرا مالک اسی وقت اس کے خلاف حکم دیتا ہے اور تیسرا مالک اسی وقت اسے دونوں کے خلاف کوئی اور حکم دیتا ہے تو وہ ان سب کی اطاعت کیسے کرے گا اور اطاعت نہ کرنے کی صورت میں اپنے مالوں کے قہروغضب اور ان کی سزا سے کیسے بچے گا، مثلاً ایک مالک حکم دیتا ہے کہ آج دن کے چار بجے فلاں زمین کو کھود ڈالو، دوسرا مالک حکم دیتا ہے : اس زمین کو اس وقت ہرگز نہ کھودنا اور اس زمین کے ٹکڑے میں فلاں جہ سے سامان لاکر رکھ دینا اور تیسرا مالک حکم دیتا ہے : فلاں جگہ سے ہرگز سامان نہ لانا بلکہ فلاں فلاں جگہ سے سامان لانا۔ بتائیے وہ ان تینوں مالکوں کی کیسے اطاعت کرے گا اور ان کی حکم عدولی کی صورت میں ان سب کے غضب اور ان کی سزا سے کیسے بچے گا، اس کے برخلاف جو شخص صرف ایک مالک کا غلام ہو، اس کے لیے اپنے مالک کی اطاعت کرنا اور اس کو راضی کرنا بہت آسان ہے۔

اسی طرح کا استدلال قرآن مجید کی ان آیتوں میں بھی ہے :

لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا۔ (الانبیاء : ٢٢ )

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا متعدد عبادت کے مستحق ہوتے تو آسمان اور زمین فاسد ہوجاتے۔ یعنی متعدد خدائوں کے تنازع اور ان کی باہمی کشاکش کی وجہ سے ابتدا آسمان اور زمین وجود میں نہ آسکتے۔

ماتخذاللہ من ولد وماکان معہ من الہ اذا لذھب کل الہ بما خلق ولعلا بعضھم علی بعض سبحن اللہ عما یصفون (المؤمنون : ٩١)

اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی عبادت کا مستحق ہے، ورنہ ہر خدا اپنی مخلوق کو الگ لے جاتا اور ضرور ان میں ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا، اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جو (مشرکین) اس کے متعلق بیان کرتے ہیں

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 29