أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جو سچے دین کو لے کر آئے اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔

تفسیر:

الزمر : ٣٣ میں فرمایا : ” اور جو سچے دین کو لے کر آئے اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔ “

سچے دین کو لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے کے مصداق میں متعدد اقوال

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اس آیت کے حسب ذیل مصادیق ذکر کیے ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : صدق سے مراد لا الہ الا اللہ اور اس کو لانے اور اس کی تصدیق کرنے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کیونکہ سب سے پہلے آپ نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور سچے دین کی تصدیق کی۔

(٢) حضرت علی (رض) نے فرمایا : سچے دین کو لانے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔

(٣) قتادہ نے کہا : صدق سے مراد قرآن مجید ہے اور اس کی تصدیق کرنے والے تمام مؤمنین ہیں۔

(٤) مجاہد نے کہا : صدق سے مراد قرآن کریم اور اس کی تصدیق کرنے والے اہل قرآن ہیں۔

(٥) سدی نے کہا : صدق سے مراد قرآن مجید ہے، اس کو لانے والے حضرت جبرائیل ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

(جامع البیان جز ٢٤ ص ٦۔ ٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

ان اقوال میں راجح قول کا بیان

جمہور مفسرین کا مختار یہ ہے کہ صدق کو لانے والے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔ چھٹی صدی کے مشہور شیعہ مفسر ابوعلی الفضل بن الحسن الطبرسی لکھتے ہیں : قوی قول یہ ہے کہ صدق کو لانے والے اور تصدیق کرنے والے دونوں سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ابوالعالیہ اور کلبی سے یہ قول منقول ہے کہ صدق کو لانے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں اور مجاہد، ضحاک اور ئمہ اہل بیت سے مروی ہے کہ صدق کو لانے والے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور تصدیق کرنے والے حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں۔ (مجمع البیان جز ٨ ص ٧٧٧، دارالمعرفۃ، بیروت، ١٤٠٦ ھ)

امام فخرالدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور مفسرین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ صدق کو لانے والے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس سے حضرت ابوبکر کا مراد ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعویٰ نبوت کی تصدیق کی تھی اور جو سب سے پہلے تصدیق کرنے والا ہو وہی سب سے افضل ہے اور حضرت علی (رض) کی بہ نسبت حضرت ابوبکر کو اس آیت سے مراد لینا زیادہ راجح ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے وقت حضرت علی کمسن تھے جیسے گھر میں کوئی بچہ ہوتا ہے اور حضرت علی کے اسلام لانے سے اسلام کو، کوئی زیادہ قوت اور شوکت حاصل نہیں ہوئی اور حضرت ابوبکر بڑی عمر کے تھے اور معاشرہ میں ان کی بہت عزت اور وجاہت تھی اور جب انہوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تصدیق کی تو اس سے اسلام کو بہت زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوئی، اس وجہ سے اس آیت میں ” وصدق بہ “ سے حضرت ابوبکر صدیق کو مراد لینا زیادہ راجح ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٤٥٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس کے بعد فرمایا : ” وہی لوگ متقی ہیں “ یعنی جن لوگوں نے سچے دین کی تصدیق کی، وہی متقی ہیں اور وہی کفر اور شرک اور اللہ تعالیٰ کی معصیت کو ترک کرنے والے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 33