أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان کے کیے ہوئے برے کام ان کے لیے ظاہر ہوں اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان کا احاطہ کرلے گا

الزمر : ٤٨ میں فرمایا : ” اور ان کے کیے ہوئے برے کام ان کے لیے ظاہر ہوں گے اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان کا احاطہ کرلے گا “

اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے آخرت میں ان پر عذاب کے آثار مرتب ہوں گے اور وہ عذاب ہر طرف سے ان کا احاطہ کرلے گا۔

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں کی گئی ہیں :

ابواللیث نے کہا : انہوں نے کچھ ایسے اعمال کیے ہوں گے جن کے متعلق ان کا گمان یہ ہوگا کہ ان کو ان کاموں پر اجروثواب ملے گا، لیکن ان کے شرک اور کفر کی وجہ سے ثواب کے بجائے انہیں ان کاموں پر عذاب ہوگا۔

بعض علماء نے کہا : اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کام کرتے ہیں، وہ لوگ قیامت کے دن رسوا ہوں گے اور جن اعمال کے متعلق ان کا گمان تھا کہ وہ میزان میں نیکیوں کے پلڑے میں ہوں گے اس دن وہ اعمال برائیوں کے پلڑے میں ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 48