أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ وَبَدَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمۡ يَكُوۡنُوۡا يَحۡتَسِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ظالموں کے ساپ روئے زمین کی تمام چیزیں ہوتیں اور اتنی ہی اور بھی ہوتیں تو وہ قیامت کے دن کے برے عذاب سے بچنے کے لیے اس کو ضرور فدیہ میں دے دیتے اور ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ عذاب ظاہر ہوگا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا

الزمر : ٤٧ میں فرمایا : ” اور اگر ظالموں کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوتیں اور اتنی ہی اور بھی ہوتیں تو وہ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے اس کو ضرور فدیہ میں دے دیتے اور ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ عذاب ظاہر ہوگا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا “

اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے کی جو وعیدسنائی ہے اس میں دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں : ایک یہ کہ اگر وہ بالفرض روئے زمین کی تمام دولت کے بھی مالک ہوتے اور اس کو آخرت کے عذاب سے نجات کے لیے خرچ کردیتے تو وہ اس عذاب سے نجات نہیں پاسکتے تھے، دوسری چیز یہ ہے کہ حدیث میں جنت کی صفت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا ہے۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٤٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٢٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٩٧)

سو جس طرح مومنوں کو جنت میں ایسی نعمتیں ملیں گی جو ان کے ہم و گمان میں بھی نہیں ہوں گی اسی طرح کافروں کو دوزخ میں ایسا عذاب دیا جائے گا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 47