أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِىۡ جَنۡۢبِ اللّٰهِ وَاِنۡ كُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

(پھر ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص یہ کہے ہائے افسوس ! میری ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے متعلق کی ہیں، بیشک میں ضرور مذاق اڑانے والوں میں سے تھا

تفسیر:

قیامت کے دن فساق کی اپنی بداعمالیوں پر ندامت اور اظہار افسوس

الزمر : ٥٦ میں فرمایا : ”(پھر ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص یہ کہے : ہائے افسوس ! میری ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے متعلق کی ہیں، بیشک میں ضرور مذاق اڑانے والوں میں سے تھا “

یعنی تم کو اللہ کی طرف رجوع کرنے، اخلاص سے اس کی اطاعت کرنے اور قرآن مجید کی اتباع کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہیں کیا اور اس کے نتیجہ میں تم کو آخرت میں عذاب ہوا تو پھر تم کہو گے کہ ہائے افسوس ! میری ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے متعلق کی ہیں۔

اس آیت میں ” جنب “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : پہلو اور کروٹ اور معاندین اسلام اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے اللہ کے لیے اعضاء کا ثبوت ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جنب کا اصل معنی ہے : جانب، کروٹ اور پہلو کو بھی جنب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ایک جانب میں ہوتے ہیں یعنی ایک جانب بندہ ہے اور دوسری جانب اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں تو بندہ کو اس پر افسوس ہوگا کہ اس نے اللہ کے احکام میں بہت کو تاہیاں کیں نیز اس وقت وہ بندہ کہے گا کہ بیشک میں ضرور مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔ یعنی اس نے صرف اس پر اکتفاء نہیں کی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے احکام میں کو تاہیاں کیں بلکہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں لگے رہتے تھے وہ ان کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 56