أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ وَجِآىْ َٔ بِالنَّبِيّٖنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور زمین اپنے رب کے نور سے چمکے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور تمام نبیوں اور تمام شہداء کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور زمین میں اپنے رب کے نور سے چمکے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور تمام نبیوں اور تمام شہداء کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جاننے والا ہے (الزمر : 69-70)

رب کے نور سے کیا مراد ہے نور عقلی یا نور حسی ؟

الزمر : ٦٩ میں رب کے نور کا ذکر ہے، نور کی دو قسمیں ہیں : نور عقلی اور نور حسی، نور عقلی وہ ہے جس کا بصیرت اور عقل سے ادراک کیا جاتا ہے، جیسے نور عقل اور نور قرآن اور نور حسی وہ ہے جو روشن اجسام مثلاً چاند اور سورج سے حاصل ہوتا ہے، یہ وہ روشنی ہے جس کی آنکھیں ادراک کرتی ہیں، نور عقلی یا نور نور معنوی کا اطلاق قران مجید کی ان آیتوں میں ہے :

قد جائکم من اللہ نور وکتب مبین (المائدہ :15)

بے شک اللہ کی جانب سے تمہارے پاس نور آگیا اور کتاب مبین افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فحوعلی نور من ربہ۔ (الزمر :22)

کیا پس جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ہے۔

اور نور حسی یعنی وہ پھیلی ہوئی روشنی جس کی مدد سے آنکھیں دیکھتی ہیں، اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے :

ھوالذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا۔ (بونس :5) وہی ہے جس نے سورج کو ضاء اور قمر کو نور بنایا۔

ضیاء اور ضوء اس روشنی کو کہتے ہیں جو اصل ہو اور نور عام ہے خواہ وہ روشنی اصلی ہو یا کسی اور سے مستفاد ہو، اس لیے سورج کی روشنی کو ضیاء فرمایا اور چان کی روشنی کو نور فرمایا۔

ویکعل لکم نورا تمشون بہ۔ (الحدید :28) اور اللہ تمہارے لیے ایک روشنی پیدا کردے گا جس کے ذریعہ تم چلے گے۔

واشرقت الارض بنور ربھا۔ (الزمر :69) اور زمین اپنے رب کے نور سے چمکے گی۔

(محصلہ مفردات امام راغب ج ٢ ص ٦٥٨، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

رب کے نور کی تفسیر میں امام رازی سے اختلاف

بعض ملحدین کہتے ہیں کہ نور روشن جسم کو کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جسم ہے، کیونکہ اس کے نور سے زمین چمکے گی، امام رازی نے ان کے جواب میں فرمایا ہے کہ یہاں نور کا مجازی معنی مراد ہے اور وہ عدل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے عدل سے زمین چمکے گی اور اس سے نور حسی اور نور مشاہد مراد نہیں ہے بلکہ نور معنوی اور نور عقلی مراد ہے۔ جیسے عادل بادشاہ کے لیے کہتے ہیں کہ اس کے عدل سے آسمان چمک اٹھے اور دنیا اس کے عدل سے روشن ہوگئی، جیسے کہتے ہیں کہ تمہارے ظلم سے اندھیرا چھا گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم قیامت کے دن اندھیروں (کی صورت میں) ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٧٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٣٠، مسند احمد ج ١٠ ص ٣٤٢، رقم الحدیث : ٦٢١٠، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت ١٤١٦ ھ) باقی رہا کہ اس پر کیا قرینہ ہے کہ یہاں نور سے مراد عدل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، یعنی اللہ تعالیٰ عدل فرمائے گا اور اسی سے زمین چمکے گی۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٤٧٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

ممکن ہے امام رازی کا یہ جواب صحیح ہو لیکن میرے نزدیک اس نور سے مراد حسی نور ہے کیونکہ زمین کے روشن ہونے اور چمکنے کا آنکھیں ادراک کرتی ہیں، یہ اداراک عقلی نور کے ساتھ خاص نہیں ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے نور سے زمین چمکے گی کہ اس نور کی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت اس کی تعظیم کی وجہ سے ہے جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ میں ہے۔

ہرنفس کے مکمل حساب کی وضاحت

زمین کے چمکنے کے بعد اس آیت میں کتاب کا ذکر ہے ” اور کتاب رکھ دی جائے گی “ کتاب سے مراد ہوسکتا ہے کہ لوح محفوظ ہو، جس میں قیامت تک کے تمام دنیا کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے صحائف اعمال مراد ہوں۔ قرآن مجید میں ہے :

وکل انسان الزمنہ طئیرہ فی عنقہ ونخرج لہ یوم القیمۃ کتب یلقہ منشورا (بنواسرائیل :13)

ہم نے ہر انسان کے مقسوم (یا اعمال) کو اس کے گلے میں لٹکادیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کا صحیفہ اعمال نکال لیں گے جس کو وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا

اس کے بعد تمام نبیوں اور شہداء کو لایا جائے گا، انبیاء (علیہم السلام) کو جمع کرکے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : ہم نے تمہیں دنیا میں اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا پھر تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ اور شہداء سے مراد ہوسکتا ہے کہ آپ کی امت ہو، کیونکہ قیامت کی دن جب پچھلی امت کے کفاریہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیاتو آپ کی امت یہ شہادت دے گی کہ ان نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو تبلیغ کی تھی۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شہداء سے مراد کراماً کاتبین ہوں جو انسان کے اعمال لکھتے رہتے ہیں، وہ قیامت کے دن انسان کے اعمال پر گواہ ہوں گے، قرآن مجید میں ہے :

وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (ق :21) ہر شخص کے ساتھ ایک لانے والا ہوگا اور ایک گواہ

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ مؤمنین ہوں جو اللہ کی کراہ میں شہید ہوگئے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ وہ تمام مقدمات جن کا دنیا میں صحیح فیصلہ نہیں ہوسکا، خواہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہو یا بندوں کے حقوق سے، قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 69