أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌ۚ لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ کی طرف (توحید کی) وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے نبیوں کی طرف کہ اگر (بالفرض) آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضرور ضائع ہوجائیں گے اور آپ ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے

الزمر 65 میں فرمایا : ” اگر (بالفرض) آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضرور ضائع ہوجائیں گے۔ “

اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اس کے تمام رسول اور بالخصوص ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شرک نہیں کریں گے اور ان کے اعمال ضائع نہیں ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ ” اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے “ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے اور جملہ شرطیہ کے صدق کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے دونوں جز صادق ہوں، دیکھئے یہ جملہ صادق ہے کہ اگر پانچ عدد جفت ہو تو وہ بغیر کسر کے برابر تقسیم ہوگا، حالانکہ اس کے دونوں جز کاذب ہیں اور قرآن مجید میں اس کی یہ مثالیں ہیں :

لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا۔ (الانبیاء :22) اگر زمین اور آسمان میں متعدد خدا ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام فاسد ہوجاتا۔

یہ جملہ صادق ہے حالانکہ اس کے دونوں جز کاذب ہیں، آسمان اور زمین میں متعدد خدا ہیں نہ ان کا نظام فاسد ہوا ہے۔

قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین (الزخرف :81) آپ کہیے : اگر رحمان کا بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کا عبادت گزار ہوتا۔

یہ جملہ صادق ہے حالانکہ اس کے دونوں جز کاذب ہیں، رحمن کا بیٹا ہے نہ آپ اس کے عبادت گزار ہیں۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں تعریض ہے، ذکر آپ کا ہے اور مراد آپ کی امت ہے، یعنی اگر بالفرض آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے تو اگر آپ کی امت کے کسی شخص نے شرک کیا تو اس کے اعمال توبہ طریق اولیٰ ضائع ہوجائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 65