{کفریہ کلمات}

اس زمانے میںجہالت اورنئی تہذیب کی نحوست کی وجہ سے کچھ مرد اور کچھ عورتیں اس قدربے لگام ہیں کہ جو اُن کے منہ میں آتاہے بک دیا کرتے ہیں ۔ کبھی ہنسی مذاق میں ، دل لگی یا غضب وغصّہ میں بسا اوقات ایسے کلمات منہ سے نکل جاتے ہیں جس سے لوگ کافر ہوجاتے ہیں اوراُن کا نکاح بھی ٹوٹ جاتاہے مگر اُنہیں خبر تک نہیں ہوتی کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں اس سے تجدید ایمان اورتجدید نکاح کرنا ہوگا۔

مسئلہ : شراب پیتے وقت یا جوا کھیلتے وقت یا زنا کرتے وقت بسم اللہ شریف پڑھنا کفر ہے ۔

مسئلہ: جوشخص یہ کہہ دے کہ میں شریعت کو نہیںمانتا یا شریعت کا کوئی حکم یا کسی سُنّی مسلمان کا فتویٰ سُن کر یہ کہے کہ یہ سب ہوائی باتیں ہیں یایہ کہہ دے کہ شریعت کے حکم اورفتویٰ کو چولہے یا بھاڑ میں ڈال دو یاکہہ دے کہ میں شریعت وریعت کو نہیں جانتا یا نہیںجانتی ۔ یاشوہر کا بیوی کو کسی حرام کام سے منع کرنے فوٹو یا بے پردگی سے روکنے پر بیوی کا یہ کہنا کہ دوسری عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں آگ لگی شریعت صرف میرے لئے ہی رہ گئی ہے یا یہ کہہ دے کہ ہم شریعت پرعمل نہیںکریں گے یا کہہ دے کہ بسم اللہ ، سبحان اللہ روٹی کی جگہ کام نہ دے گا ہمیں روٹی چاہیے توایسے کلمات کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔

مسئلہ : کسی شخص کو اپنے ایمان میں شک ہویعنی کہتا ہے کہ مجھے اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں۔ یایہ کہتاہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر ہوں ۔وہ کافر ہے البتہ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ نہیں معلوم میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں توکافر نہیں جو شخص ایمان وکفر کوایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

مسئلہ : اگر یہ کہا کہ خدا مجھے اس کام کے لئے حکم دیتا جب بھی نہ کرتاتو ایسا شخص کافر ہے یونہی ایک نے دوسرے سے کہا میں اورتم خدا کے موافق کا م کرو دوسرے نے کہا میں خدا کاحکم نہیں جانتا یا کہا یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

مسئلہ : کسی نے کہا کہ گناہ نہ کرو ورنہ خدا تجھے جہنم میں ڈالے گا اُس نے کہا میں جہنم سے نہیں ڈرتا یا کہا خدا کے عذاب کی کچھ پروا ہ نہیں ایسا کہنے والا کافر ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ : انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کرنا۔ اُن کی جناب میں ادنیٰ سی بھی گستاخی کرنا یا اُن فواحش وبے حیائی کی طرف منسوب کرنا کفر ہے مثلاً (معاذ اللہ) یوسف علیہ السلام کو زنا کی طرف نسبت کرنا۔

مسئلہ : مزامیر کے ساتھ قرآن پڑھنا کفر ہے ۔

مسئلہ : کسی نے نماز پڑھنے کو کہا جواباً کہا کہ نماز پڑھنے سے کیا فائدہ یا مجھے نماز سے کیا فائدہ ہوا یا روزے کے بارے میں کہے کہ کیا ہم بھوکے ہیں کھانا نہیںملتا کہ ہم روزہ رکھیں ارے میاں یہ بھوکوں کاکام ہے اسی طرح کے کلمات جس سے فرضیت کا انکار سمجھا جاتاہو نماز روزے کی تحقیر ہوتی ہو سب کفر ہے ۔(بہارِ شریعت)

مسئلہ : وہ فرقے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے اورکلمہ پڑھتے ہوں اور زبان سے کلمہ کفر بولتے ہوں اوراس پر اصرار کرتے ہوں یا وہ اپنی کُتب میں کفریہ کلمات حضور ﷺ، انبیاء کرام علیہم السلام اورصحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں اِن کی شان میں گستاخانہ عبارتیں ڈائریکٹ یاان ڈائریکٹ لکھتے ہوں یا ایسے لکھنے والوں کو اپنا پیشوا اورمولوی مانتے ہوں بلکہ صرف مسلمان جانتے ہوں وہ مُرتد کے حکم میں ہیں۔

مُرتد} جو شخص سرکارِ اعظم ﷺکی جانب منسوب کسی چیز کی توہین کرے یا عیب لگائے مثلاً آپ ﷺکے بال مبارک، ناخن مبارک ، لباس مبارک یاکسی سنّت کی تحقیر کرے مثلاً داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا،عمامہ باندھنا، عمامہ کا شملہ لٹکانااورکدّو کواس وجہ سے ناپسند بتانا کہ سرکارِ اعظم ﷺکو پسند تھا تو ایسے کلمات سے دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔

مسئلہ : کسی سنّت کا مذاق اُڑانا عمامہ کو پگڑا تحقیر اً کہنا ، داڑھی کو تحقیراً داڑھا کہنا، سنّتوں بھرے لباس کو تحقیراً فقیروں کا لباس کہنا ایسی صورت میںبھی کفر صادر آئے گا۔

مسئلہ : کسی بااثر یا مالدار آدمی یا حاکم کی توجہ حاصل کرنے کے لئے لوگ کہہ بیٹھتے ہیں کہ اُوپر اللہ تعالیٰ ہے ۔ نیچے آپ ہیں۔ یہ کلمہ کفر ہے ۔ (خانیہ )کیونکہ اُوپر والا کہہ کر خداتعالیٰ کی حد مقرر کرنا یا مخصوص جگہ بتانا کفر ہے۔

مسئلہ : کسی نے کہا کہ ان شاء اللہ تم اس کام کو کرو گے اس نے کہہ دیا کہ ’’اجی میں بغیر ان شاء اللہ کروں گا‘‘ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : ایک نے دوسرے سے کہا کہ توخدا سے نہیں ڈرتا ؟اُس نے غصّہ میںکہا نہیں۔ یا کہا خدا تعالیٰ اس کے سوا کیا کرسکتا ہے کہ جہنم میں ڈال دے ؟یا اُس نے کہا خدا کہاں ہے ؟ یہ سب کفریہ کلمات ہیں۔(عالمگیری)

مسئلہ : اللہ تعالیٰ کے نام کی تصغیر کرنا کفر ہے ۔جیسے کسی کا نام عبداللہ یا عبدالخالق یا عبدالرحمن ہو اُسے پکارنے میں آخر میں الف وغیرہ حروف ملادیں جن سے تصغیر سمجھی جاتی ہے ۔ (بحرا لرائق)

مسئلہ : مصیبتوں سے گھبرا کر یہ کہنا کہ تونے مال لیا، اولاد لی اوریہ لیا وہ لیا اب کیا کرے گا؟ یااولاد کی یا شوہر کی موت پر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ توانصاف نہیں کرتا یاہمارے گھر کے پیچھے پڑگیا ہے اس طرح بکنا کفر ہے ۔

مسئلہ : رُسَلُ الملائکہ حضرت جبریل وعزرائیل یاکسی مُقرّب فرشتے کی ادنیٰ سی بھی گستاخی کفر ہے مثلاً کوئی رقم مانگنے آئے تو یوں کہنا کہ یہ ملک الموت آگیا ہے اپنے دشمن یا ڈاکو کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ ملک الموت نازل ہوگیا ہے یہ سب کلمہ کفر ہیں۔

مسئلہ : اسلام میں شک کرنا اوریہ کہنا کہ معلوم نہیں مسلمان ہوں یا کافر یا اپنے مسلمان ہونے پر افسوس کرنا مثلاً یہ کہنا کہ میںمسلمان ہوگیا یہ اچھا نہیںہوا کاش میں ہندو ہوتا یا عیسائی ہوتاتو بہت اچھاہوتا یا یہ کہنا کہ میں نہ ہندو ہوں نہ مسلمان ہوں میں صرف انسان ہوں یا یہ کہنا کہ کعبہ تو معمولی پتھر کا ایک پُرانا گھر ہے اس میں کیا رکھا ہے کہ اس کی تعظیم کروں یا یہ کہنا کہ زکوٰۃ توٹیکس ہے مُلّا لوگوں کا یہ دھندا ہے ان تمام بولیوں سے آدمی کافر ہوجاتاہے۔

مسئلہ : کھانا کھانے جائے تویہ کہنے کہ پیٹ پوجا کرنے جارہا ہوں یہ دُرست نہیں ہے کیونکہ پوجا صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے ۔

مسئلہ : کسی کو کم عقل جان کر یہ کہنا کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ اس میں دماغ ڈالنا بھول گیا ہے یہ کلمہ کفر ہے ۔

مسئلہ : آج کل انڈین فلموں کے گانے جس میں مندرجہ بالا کفریہ کلمات ہوتے ہیں ۔مثلاً ’’حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے توہم کیسے جانیں‘‘ ۔ ’’دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی کائے کو دنیا بنائی ‘‘۔’’تجھے سجدہ کروں تیری عبادت کروں‘‘۔ ’’میرا مندر ، میری مسجد اورپوجا صرف تم ہو‘‘۔’’خدا سے نہیںڈرتے توتم سے کیوں ڈریں‘‘۔’’ملتا خد ا تو پوچھتا یہ ظلم تونے کیوں کیا‘‘۔ ’’قدرت نے بنایا گیا فرصت سے میرے یار کو‘‘۔ اسی قسم کے سینکڑوں گانے جس میں کفر یہ کلمات ہیں اس قسم کے گانے بولنے اورسُننے سے آدمی یا عورت دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ گانا سُننا ویسے ہی حرام ہے پھر اس میں کفر یہ کلمات توصریحاً کفر ہے ۔

جتنے بھی کلمات کا ذکر کیا گیا ایسے کلمات اگر منہ سے نکل جائیں تو فوراً کلمہ پڑھیں اگر کسی سے سُنیں تواُسے فوراً کلمہ پڑھائیں اوراگر شادی شدہ ہیں توتجدیدِ نکاح کریں۔اور کسی کامل سے بیعت ہوں تو تجدید بیعت بھی ۔

مسئلہ : اگر کوئی کافر آپ سے یہ کہے کہ مجھے مسلمان ہونا ہے توفوراً اُسی وقت اُسے کلمہ پڑھوا دیں اگر تاخیر کی کہ چلو مولوی صاحب کے پاس جاتے ہیں تو ایسی صورت میں تاخیر کروانے والا بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ وہ اس کے کفر پر راضی رہا لہٰذا فوراً کلمہ پڑھوائیں پھراس کے بعد بے شک کسی مولوی صاحب کے پا س لے جاکر نام رکھوائیں ۔

مسئلہ: کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تواس سے دلیل مانگنا کہ تواگر نبی ہے تومعجزہ دکھا تومعجزہ مانگنے والا کافر ہوجائے گا کیونکہ یہ بات ایمانیات میں سے ہے کہ ہمارے آقا ﷺخاتم النبین ہیں۔پھر کسی دوسرے سے معجزہ کیوں طلب کیا۔

مشکلات کے وقت بکے جانے والے کفریات کی مثالیں}

(۱) ’’فُلاں صاحب لوگوں کے ساتھ کچھ بھی کریں اللہ کی طرف سے ان کوفل (Full) آزادی ہے ۔‘‘

(۲)’’ہم اُن کے ساتھ اگر تھوڑا بھی کچھ کرلیں ، اللہ ہمیں فوراً پکڑ لیتاہے ۔‘‘(۳) ’’اللہ نے ہمیشہ میرے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے ۔‘‘(۴) ’’ہمیشہ سب کچھ اللہ پر چھوڑکر بھی دیکھ لیا کچھ نہیں ہوتا۔‘‘(۵) ’’اللہ عزوجل نے میری قسمت ابھی تک تو ذرا اچھی نہیں بنائی۔‘‘(۶) ’’شاید اس کے خزانے میںمیرے لئے کچھ بھی نہیں، میری دنیاوی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوئیں، زندگی بھر میری کوئی دعا قبول نہیں ہوئی ، جس کو چاہا وہ دور چلا گیا، ہر خواب میرا ٹوٹا، تمام ارمان کُچلے گئے ، اب آپ ہی بتائیں میں اللہ پر کیسے ایمان لاؤں؟‘‘(۷)’’ایک شخص نے ہماری ناک میں دم کررکھا ہے ، مزے کی بات یہ ہے کہ اللہ بھی ایسوں کے ساتھ ہوتاہے ۔‘‘(۸) ’’ جس شخص نے مصیبتیں پہنچنے پر کہا، اے اللہ تعا لیٰ نے مال لے لیا، فُلا ں چیز لے لی، اب کیا کرے گا؟ یااب کیاچاہتا ہے؟ یا اب کیا باقی رہ گیا ؟ یہ قول کفر ہے ۔‘‘(بہار شریعت حصّہ ۹ص۱۷۲)(۹) جو کہے ، ’’اگر اللہ تعالیٰ نے میری بیماری کے باوجود مجھے عذاب دیا تو اس نے مجھ پر ظلم کیا۔‘‘ یہ کہنے والا کافر ہے ۔(البحر الرائق ج۵ص۲۰۹)

(۱۰) ’’اللہ نے ہمیشہ بُرے لوگوں کا ساتھ دیا۔‘‘ (۱۱) ’’اللہ نے مجبوروں کو اور پریشان کیا ہے ۔‘‘

تنگدستی کے باعث بکے جانے والے کفریات کی مثالیں}

(۱) جو کہے ،’’اے اللہ ! عزوجل مجھے رزق دے اورمجھ پر تنگدستی ڈال کر ظلم نہ کر۔ ایسا شخص کافر ہے ۔(فتاویٰ عالمگیری ج۳ص۲۶۰)(۲) سیاسی پناہ لینے یا تنگدستی کی وجہ سے کفار کے یہاں نوکری کی خاطر ویزا فارم پریا کسی طرح کی رقم وغیرہ کی بچت کے لئے درخواست پر اگر خود کو جھوٹ موٹ عیسائی ، یہودی ، قادیانی یاکسی بھی کافر ومرتد گروہ کا فرد لکھا یا لکھوایا تب بھی کافر ہوگیا۔(۳)کسی سے مالی مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہنا یا لکھنا کہ اگر آپ نے کام نہ کردیا تو میں قادیانی یا عیسائی بن جاؤ ں گا۔ ایسا کہنے والا فوراً کافر ہوگیا۔ یہاں تک کہ بالفرض اگر کوئی کہے کہ میں 100سال کے بعد کافر ہوجاؤں گاوہ ابھی سے کافر ہوگیا۔(۴) کسی نے مشورہ دیا کہ کافر ہوجاؤ تو وہ کافر بنے یا نہ بنے مشورہ دینے والا کافر ہوچکا۔ نیز کسی نے کفر بکایا کسی پر حکم کفر لگا اس پر راضی ہونے والے پر بھی حکمِ کُفر ہے کیوں کہ اس نے کسی کے کفر میں مبتلا ہونے کو پسند کیا اور کفر کو پسند کرنا بھی کفر ہے ۔(۵) اگر واقعی اللہ ہوتا تو غریبوں کا ساتھ دیتا، مقروضوں کا سہارا ہوتا۔(۶)جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا میں کچھ نہیں دیا تو آخر پیدا ہی کیوں کیا ! یہ قول کفر ہے ۔(عالمگیری ج۲ ص۲۶۲)(۷)کسی مسکین نے اپنی محتاجی کو دیکھ کر یہ کہا، ’’اللہ عزوجل فلاں بھی تیرا بندہ ہے ، اسے تو نے کتنی نعمتیں دے رکھی ہیں اورایک میں بھی تیرا بندہ ہوں مجھے کس قدر رنج وتکلیف دیتاہے ! آخر یہ کیا انصاف ہے ؟‘‘(بہار شریعت حصّہ ۹ص۱۷۰)(۸) ’’کہتے ہیں اللہ عزوجل صَبْر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ میں کہتا ہوں یہ سب بکواس ہے ۔‘‘(۹) ’’جن لوگوں کو میں پیارکرتاہوںوہ پریشانی میں رہتے ہیں اورجو میرے دشمن ہوتے ہیں اللہ عزوجل ان کو بہت خوشحال رکھتا ہے ۔‘‘(۱۰)’’کافروں اورمالداروں کو راحتیں اورناداروں پر آفتیں ! بس جی اللہ تعالیٰ کے گھر کا تو سارا نظام ہی اُلٹا ہے۔‘‘(۱۱) اگر کسی نے اپنی یا کسی عزیز کی بیماری، غربت یا مصیبت کی زیادتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر اس طرح اعتراض کیا مثلاً کہا، ’’اے میرے رب! توکیوں ظلم کرتاہے ؟ حالانکہ میں (یا اُس) نے توکوئی گناہ کیا ہی نہیں۔‘‘ تووہ کہنے والا کافر ہے ۔

فوتگی کے موقع پر بکے جانے والے کفریات کی مثالیں}

(۱) کسی کی موت ہوگئی اس پر دوسرے شخص نے کہا،’’ا للہ تعالیٰ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘(۲) کسی کا بیٹا فوت ہوگیا ، اُس نے کہا، اللہ تعالیٰ کو یہ چاہیے ہوگا یہ قول کفر ہے کیونکہ کہنے والے نے اللہ تعالیٰ کو محتاج قرار دیا۔ (فتاویٰ بزازیہ ج۶ ص۳۴۹) (۳)کسی کی موت پر عام طور پر لوگ بک دیتے ہیں، اللہ عزوجل کو نہ جانے اس کی کیا ضرورت پڑ گئی جو جلدی بلالیا یا کہتے ہیں ،اللہ عزوجل کو بھی نیک لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے جلد اُٹھا لیتاہے ۔(یہ سن کر معنیٰ سمجھنے کے باوجود عموماً لوگ ہاں میں ہاں مِلاتے یا تائید میں سرہلاتے ہیں ان سب پر حکمِ کفر ہے۔) (۴) کسی کی موت پر کہا، یااللہ ! عزوجل اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں پر بھی تجھے ترس نہ آیا!(۵) جوان موت پر کہا، یا اللہ ! عزوجل اس کی بھری جوانی پر ہی رَحم کیا ہوتا ! اگر لینا ہی تھا تو فلاں بڈھے یا بڑھیا کو لے لیتا۔ (۶) یااللہ ! عزوجل آخر اس کی ایسی کیا ضرورت پڑ گئی کہ ابھی سے واپس بُلالیا۔

تجدید ایمان (یعنی از سرِ نو ایمان لانے ) کا طریقہ}

دل کی تصدیق کے بغیر صرف زبانی توبہ کافی نہیں ہوتی ۔ مثلاً کسی نے کفربک دیا، اُس کو دوسرے نے بہلا پُھسلا کر اس طرح توبہ کروادی کہ کُفر بکنے والے کو معلوم تک نہیںہوا کہ میں نے فُلاں کُفر کیا تھا، یوں توبہ نہیں ہوسکتی ، اُس کا کُفر بدستور باقی ہے ۔لہٰذا جس کُفر سے توبہ مقصود ہے وہ اُسی وقت مقبول ہوگی جب کہ وہ اُس کفر کو کفر تسلیم کرتاہو اور دل میں اُس کفر سے نفرت وبیزاری بھی ہو جو کُفر سرزد ہوا توبہ میں اُس کا تذکرہ بھی ہو۔ مثلاً جس نے ویزا فارم پر اپنے آپ کو عیسائی لکھ دیا وہ اس طرح کہے، ’’یا اللہ عزوجل ! میں نے جو ویزا فارم میں اپنے آپ کو عیسائی ظاہر کیا ہے اس کفر سے توبہ کرتاہوں ۔لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ عزوجل و ﷺ (اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد ﷺاللہ عزوجل کے رسول ہیں)‘‘ اس طرح مخصوص کفر سے توبہ بھی ہوگئی اور تجدیدِ ایمان بھی ۔ اگر معاذ اللہ کئی کفریات بکے ہوں اگر یا د نہ ہو کہ کیا کیا بکا ہے تو یوں کہے ، ’’یا اللہ عزوجل مجھ سے جو جو کفر یا ت صادر ہوئے ہیں میں ان سے توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ پھر کلمہ پڑھ لے، (اگر کلمہ شریف کا ترجمہ معلوم ہے تو زبان سے ترجمہ دوہرانے کی حاجت نہیں۔) اگر یہ معلوم ہی نہیں کہ کفر بکا بھی ہے یا نہیں تب بھی اگر احتیاطاً توبہ کرنا چاہیں تو اس طرح کہیں، ’’یااللہ عزوجل اگر مجھ سے کوئی کفر ہوگیا ہو تومیں اُس سے توبہ کرتا ہوں ‘‘ یہ کہنے کے بعد کلمہ پڑھ لیں۔

مدنی مشورہ}

روزانہ سونے سے قبل احتیاطی توبہ وتجدید ایمان کرلینا چاہیے اوراگر بآسانی گواہ دستیاب ہوں تو میاں بیوی توبہ کرکے گھر کی چاردیواری میں کبھی کبھی احتیاطاً تجدید نکاح بھی کرلیا کریں۔ ماں ، باپ ، بہن بھائی اور اولاد وغیرہ عاقِل وبالغ مسلمان مرد وعورت نکاح کے گواہ بن سکتے ہیں۔ (احتیاطی توبہ وتجدید ایمان وتجدیدِ بیعت وغیرہ کے بعد اگر یا د آیا کہ توبہ سے پہلے فُلاں فُلاں صریح کفریات صادرِ ہوئے تھے تو اب ان سے دل میں بیزاری کافی ہے ۔ از سر نو توبہ وغیرہ کی حاجت نہیں البتہ کفریات یا دآنے سے قبل اگر بغیر مہر مقرر کئے احتیاطی تجدیدِ نکاح کیا تھا تو اب ’’مہر مِثْل ‘‘ یعنی عموماً اس کے خاندان میں عورتوں کو جو مہردیا جاتاہے اُس کی ادائیگی واجب ہوجائے گی ۔)

تجدید نکاح کا طریقہ}

تجدیدِ نکاح کا معنی ہے ، ’’نئے مَہر سے نیا نِکاح کرنا‘‘ اس کے لئے لوگوں کو اکٹّھا کرنا ضَروری نہیں ۔ نکاح نام ہے ایجاب وقبول کا۔ ہاں بوقتِ نکاح بطورِ گواہ کم از کم دو مَردمسلمان یاایک مرد مسلمان اوردومسلمان عورتوں کا حاضر ہونا لازمی ہے ۔ خطبۂ نکاح شرط نہیں بلکہ مستحب ہے ۔ خطبہ یاد نہیں تو اَعُوْذُ بِاللّٰہ اوربسم اللّٰہ شریف کے بعد سورئہ فاتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ کم از کم دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یااُس کی رقم مہر واجب ہے ۔ مثلاً آپ نے ۳۱۳ روپے اُدھار مَہر کی نیت کرلی ہے (مگر یہ دیکھ لیں کہ مذکورہ چاندی کی قیمت ۳۱۳ روپے سے زائد تونہیں) تواب مذکورہ گواہوں کی موجودگی میں آپ ’’ایجاب‘‘ کیجئے یعنی ، عورت سے کہیے میں نے ۳۱۳ روپے مہر کے بدلے آپ سے نکاح کیا۔ ‘‘ عورت کہے، ’’میںنے قبول کیا۔‘‘ نکاح ہوگیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت ہی خطبہ یا سورئہ فاتحہ پڑھ کر ’’ایجاب‘‘ کرے اورمَرد کہے ، ’’میںنے قبول کیا‘‘ ، نکاح ہوگیا۔ تین مرتبہ ایجاب وقبول مستحب ہے۔ بعد نکاح اگرعورت چاہے تو مہر معاف بھی کرسکتی ہے ۔ مگر مرد بلا حاجت شرعی عورت سے مہر معاف کرنے کا سوا ل نہ کرے۔

مدنی مشورہ}

ٍ جن صورتوں میں نکاح ختم ہوجاتاہے مثلاً صریح کفر بکا اورمرتد ہوگیا توتجدید نکاح میں مہر واجب ہے البتہ احتیاطی تجدیدِنکاح میںمہر کی حاجت نہیں۔ (ملخص از ردالمختار ج۴ ص۳۳۸، ۳۳۹)

تنبیہ}

مرتد ہوجانے کے بعد اور توبہ وتجدید ایمان سے قبل جس نے نکاح کیا اُس کا نکاح ہوا ہی نہیں۔

نکاح فضولی کا طریقہ}

عورت کو بے شک خبرتک نہ ہواور کوئی شخص مَرد سے مذکورہ گواہوں کی موجودگی میں عورت کی طرف سے ’’ایجاب‘‘ کرلے ۔ مثلاً کہے ، میں نے ۳۱۳ روپے ادھار مہر کے بدلے فُلانہ بنت فُلاں بن فلاں کا تجھ سے نکاح کیا۔ مرد کہے میں نے قبول کیایہ نکاح فضولی ہوگیاپھر عورت کواِطلاع کی گئی اور اس نے قبول کرلیا، تونکاح منعقد ہوگیا۔ مرد بھی ’’ایجاب ‘‘ کرسکتاہے ۔ نکاحِ فضولی حنفیوں کے یہاں جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے البتہ شافعیوں ، مالکیوں اورحنبلیوں کے یہاں باطل ہے ۔

ایمان کی حفاظت کا ورد}

بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللّٰہ عَلیٰ نَفْسِیْ وَوُلْدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ o

صبح وشام تین تین بار پڑھنے سے ، دین وایمان ، جان ، مال ، بچے ، سب محفوظ رہیں۔