۲۴۱۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : القی لعلی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم وسادۃ فقعد علیھا وقال:لا یأبی الکرامۃ اِلا حمار۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امیرالمو منین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کہیں تشریف فرما ہوئے،صاحب خانہ نے حضرت کے لیئے مسند حاضر کی، آپ اس پر رونق افروز ہوئے،اور فرما یا: کوئی گدھا ہی عزت کی بات قبو ل نہ کریگا۔ فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۴

]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

اللہ جل وعلا نے علماء و جہلاء کو برا بر نہ رکھا تو مسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازم ہے ،اسی باب سے ہے علماء دین کو مجالس میں صدر مقام ومسند اکرام پر جگہ دینا کہ سلفا وخلفا شائع وذائع اور شرعا وعرفا مندوب ومطلوب ،ہاں علماء وسادات کو یہ ناجائز و ممنوع ہے کہ آپ اپنے لیئے سب سے امتیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑا جانیں کہ یہ تکبر ہے اور تکبر ملک جبارجلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیں ، بندہ کے حق میں گناہ اکبر ہے ،الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین ،کیا جھنم ،میں نہیں ہے ٹھکا نہ تکبر والوں کا ،جب سب علماء کے آقا سب سادات کے باپ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انتہا درجہ کی تواضع فرماتے اور مقام ومجلس وخو رش وروش کسی امر میں اپنے بندگان بارگاہ پر امتیاز نہ چاہتے تو دوسرے کی کیا حقیقت ہے ،مگر مسلما نوں کو یہی حکم ہے کہ سب سے زائد علماء وسادات کا اعزاز وامتیاز کریں ، یہ ایسا ہے کہ کسی شخص کو لوگوں سے اپنے لئے قیام مکروہ اورلوگوں کا معظم دینی کے لئے قیام مندوب،پھرجب اہل اسلام انکے ساتھ امتیاز خا ص کا برتائو کریں تواس کا قبو ل انہیں ممنوع نہیں۔ فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۹۷۳

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۱۔ مسند الفردوس للدیلمی، ۵/ ۱۲۱ ٭ زہر الفردوس، ۴/ ۲۲۱