حدیث کا صحیح ہونا دو طرح سے ہوتا ہے:

1) صحتِ اصطلاحی یعنی حدیث کے راویوں میں ایسے اوصاف پائے جائیں جن کی وجہ سے محدثین ان پر صحت کا حکم لگاتے ہیں۔

2) صحتِ عملی یعنی مجتهد کے نزدیک اس حدیث پر عمل کرنا صحیح ہو۔

بعض اوقات حدیث اصطلاحی اعتبار سے صحیح ہوتی ہے لیکن وہ مجتهد کے نزدیک کسی سبب سے قابلِ عمل نہیں ہوتی اور یہ 18 اسباب ہیں جن کی بنا پر وہ حدیث مجتهد کے نزدیک قابلِ عمل نہیں ہوتی ( ان شاء الله ان اسباب پر ایک مستقل تحریر لکھی جائے گی )۔

جبکہ بعض اوقات حدیث ضعیف ہوتی ہے لیکن مجتهد اس حدیث پر عمل کرتا ہے اور اس عمل کی بنا پر اس حدیث کو قوت حاصل ہو جاتی ہے ، امام ترمذی ، امام سخاوی ، امام جلال الدین سیوطی اور امام ابن الهمام کے کلام میں اس کی وضاحت موجود ہے۔

اور امام اعظم رحمه الله کے قول ” جب کوئی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو وہ ہی میرا مذهب ہے” میں حدیث صحیح کی دوسری قسم ہی مراد ہے۔

ایک اور قابلِ توجہ ہے کہ ابتدا سے لیکر آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی صحابی یا فقیه نے کسی صحیح حدیث میں تاویل نہ کی ہو یا اس پر عمل کو متروک و مردود نہ کہا ہو بلکہ زمانہ صحابہ میں بھی ایسے کئی واقعات موجود ہیں کہ کسی صحابی پر کوئی صحابی حدیث پیش کرتا لیکن اس صحابی کے نزدیک وہ حدیث قابلِ عمل نہ ہوتی تو وہ اسے رد کر دیتا جیسا کہ اس بارے میں سیدنا عمر فاروق ، سیدنا عبد اللہ بن مسعود ، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنهم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنها اور دیگر کئی صحابہ کا عمل دلالت کرتا ہے۔ لہذا اگر فقهاء احناف کسی صحیح حدیث کو رد کر دیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صحیح حدیث پر عمل کرنے والے نہیں بلکہ ان کے پیشِ نظر کوئی قرآنی آیت یا کوئی اور حدیث ہوتی ہے یا کوئی ایسا سبب ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ صحیح حدیث قابلِ عمل نہیں ہوتی۔

( مفهوم من رسالة الفضل الموهبی فی معنی اذا صح حدیث فهو مذهبی )

✍️ غلام رضا

09-06-2021ء