تفضیلی جہلاء ضعیف و منقطع روایات سے حضرت علی ؓ سے منسوب ایسی روایات پھیلاتے رہتے ہیں جو بقیہ صحیح و حسن احادیث اور اثار کے خلاف ہوتی ہیں جب انکو مطلع کیا جاتا ہے اس بات پر تو وہ کھوتے جیسی ضد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سند میں کوئی کذاب راوی نہیں تو ہم فضیلت میں روایت قبول کرینگے

جبکہ یہ جاہل فضیلت کے نام پر روایات اٹھا کر تفضیلیت کے مسلے میں سینگھ اڑا رہے ہوتے ہیں

انکے لیے ایک الزامی پھکی ہے کہ شاید ان لوگوں کو اپنی جہالت نظر آجائے ۔۔۔

کہ روایت کے منکر و باطل ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ متروک یا کذاب راوی ہو سند میں بلکہ بعض اوقات تو صحیح الاسناد روایات بھی موضوع ہوتی ہے متن کے اعتبار سے ہر سند صحیح سے روایت کا صحیح ہونا لازم نہیں ہوتا ۔ تو منکر و شاذ متن سے مروی روایت کیسے قبول کی جا سکتی ہیں فضیلت کے نام پر

امام عبدالرزاق ایک روایت لاتے ہیں :

وكيع بن الجراح قال: أخبرني شريك، عن أبي إسحاق، أن عليا، لما تزوج فاطمة قالت للنبي صلى الله عليه وسلم: زوجتنيه أعيمش، عظيم البطن؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لقد زوجتكه وإنه لأول أصحابي سلما، وأكثرهم علما، وأعظمهم حلما»

ابو اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے جب حضرت فاطمہ ؓ سے شادی کی تو حضرت سیدہ فاطمہؓ نے رسول کریمﷺ سے عرض کی :

یا رسول اللہﷺ آپ نے میری شادی ایک بڑے پیٹ والے سے کرادی ہے

تو حضورﷺ نے فرمایا : میں نے تمہاری شادی ایسے صحابی سے کی ہے جو سب سے پہلے اسلام لایا تھا اسکے پاس علم بھی زیادہ ہے اور بردباری بھی بڑی ہے

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 9783]

اس روایت کو امام طبرانی نے الدبری کے طریق سے اپنی معجم میں بیان کیا درج ذیل سند سے :

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري، عن عبد الرزاق، عن وكيع بن الجراح، قال: أخبرني شريك، عن أبي إسحاق الخ۔۔۔

[المعجم الكبير ، برقم: 156]

اب اس روایت میں کوئی کذاب راوی بھی نہیں شریک متغیر حافظہ والے ہیں جنکا تفرد قبول نہیں ہوتا ہے ۔ اور دوسرے طقبہ کے مدلس ہیں جبکہ انکا سماع ابو اسحاق سے قبل از اختلاط ہے یا نہیں یہ بھی مبھم مسلہ ہے کیونکہ ابو اسحاق کو بھی آخر میں اختلاط ہو گیا تھا

اور وہ خود بھی تیسرے درجہ کے مدلس ہیں انہوں نے تصریح بھی نہیں کی کہ یہ بات انہوں نے خود حضرت علی سے سنی تھی یا کسی اور سے ۔۔۔

لیکن چونکہ اس میں اسلام قبول کرنے کی فضیلت اور علم کی فضیلت تو ثابت ہو رہی ہے حضرت علی کے بارے لیکن حضرت فاطمہ کا حضرت علی کو نا پسند کرنا اور حضرت علی کے بڑے پیٹ کو بطور خامی نبی کریمﷺ کو شکایت کرنا ثابت ہو رہاہے تو کیا حضرت فاطمہ ؓ کے بارے یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کے فیصلہ پر نکارت کریں اور حضرت علی کو موٹے پیٹ کی وجہ سے کراہت کا اظہار کریں ؟

جبکہ روایت میں کوئی کذاب راوی نہیں اور انقطاع ہونے سے بھی روایت ضعیف بنتی ہے موضوع نہیں

تو معلوم ہوا یہ روایت دیگر روایات کے برعکس منکر و باطل ہے متن کے اعتبار سے اور غیر احتجاج بہ ہے

ہاں البتہ حضرت علی موٹے پیٹ والے تھے یہ اور سند سے امام ابو اسحاق سے ثابت ہے

جیسا کہ امام طبرانی اپنی سند سے بیان کرتے ہیں :

حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي، ثنا يحيى بن معين، ثنا حجاج بن محمد، ثنا شعبة، قال: سألت أبا إسحاق أنت أكبر من الشعبي؟ فقال لي: الشعبي أكبر مني بسنة، أو سنتين قال: ورأى أبو إسحاق عليا رضي الله عنه، وكان يصفه لنا «عظيم البطن أجلح» قال شعبة: «وكان أبو إسحاق أكبر من أبي البختري، ولم يدرك أبو البختري عليا ولم يره»

امام شعبہ فرماتے ہیں :

میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : آپ شعبی سے بڑے ہیں ؟ مجھے شعبی نے کہا ہے آپ ان سے ایک سال یا دوسال بڑے ہیں ۔ امام ابو اسحاق نے حضرت علی کو دیکھا ہم کو بتایا کہ آپ (حضرت علی) کا پیٹ بڑا تھا ۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ ابو اسحاق بختری سے بڑے تھے ابو بختری نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی انکو دیکھا ہے

[المعجم الكبير برقم : 159]

اس روایت کے سارے رجال ثقہ ہیں متفقہ علیہ

اسی طرح حضرت علی کے حلیہ کے متعلق ایک اور روایت امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حدثنا زكريا بن يحيى الساجي، حدثنا أبو بكر بن نافع، ثنا أمية بن خالد، ثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن أبي الطفيل، قال: ذكرت لابن مسعود قول علي رضي الله عنه فقال: «ألم تر إلى رأسه كالطست، وإنما حوله كالحفاف»

صحابی رسولﷺ حضرت ابو طفیل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود ؓ کے سامنے حضڑت علیؓ کے قول کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم نے علی کا سر دیکھا تھا ؟ تھا ل کی طرح ہے اور آپ کے سر کے بال نہیں ہیں ، اسکے چاروں طرف بالوں کا گھیرا ہے

[المعجم الكبير برقم:160]

اس روایت کی سند بھی حسن ہے

ایک اور روایت بیان کرتے ہیں امام طبرانی!!

حدثنا عبدان بن أحمد، ثنا يوسف بن حماد المعني، ثنا وهيب بن جرير، ثنا أبي، عن أبي رجاء العطاردي، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه، مسمنا أصلع الشعر، كأن بجانبه إهاب شاة»

(نوٹ سند میں وھب بن جریر ہے ، وھیب خطاء ہے)

حضرت ابو رجاء عطاردی فرماتے ہیں :

میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا ہے ، آپ کے سار کے اگلے حصے کے بال نہیں تھے ، ایسے محسوس ہوتا تھا کہ آپکے سر کے ارد گرد بکری کی کھال کے بال ہیں (یعنی سخت بال تھے اور سر کے درمیان میں بال نہ تھے )

[[المعجم الكبير برقم:161]

اس روایت کے بھی سارے رجال ثقہ و صدوق ہیں ۔

تحقیق:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی