مدنی چینل پر ایک ویڈیو دکھائی جارہی تھی جسمیں امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ وضو کا طریقہ بیان فرمارہے تھے،

عمامہ اتار کر آپ مسح کا طریقہ ارشاد فرمارہے تھے، امیر اہلسنت کےپیشانی میں بال کم ہیں، اس پر میرے کچھ کزنز

نے انکا مذاق اڑایا ، اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کسی

“اور” سے متاثر تھے۔۔۔۔!!

ہم نے عرض کی ! امام دارلھجرہ ،سیدنا امام مالک رحمہ اللہ،
خلیفہ دوم، سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ اور شیرِ خدا،
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی ” اصحابِ اصلع” سے
تھے !!
وہ مبہوت ہوکر مجھے سنتے رہے، اور سوال داغ دیا یہ
” اصحابِ اصلع ” کیا ہوتا ہے؟؟؟؟
ہم نے کہا : جس کی پیشانی میں سر کے بال کم ہوں اسے
عربی میں ” اصلع ” کہا جاتا ہے
پھر سوال کیا ۔یہ کہاں لکھا ہے؟
ہم نے کہا : جن کو آپ مانتے ہیں ، اور وہ جنکو اپنا پیر تسلیم کرتے ہیں، وہ اسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں
میری مراد شیخ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ ہیں
اور یہ بات اپنی مشہور کتاب ” بستان الحدثین” میں نقل
فرمائی ہے،
یہ سن کر انکی ندامت کی انتہا نہ رہی ، آثارِشرمندگی
چہرے سے نمایاں تھے ، چوں کہ بات ان کے پیران کی
تھی اسی واسطے چپ ہونے میں ہی عافیت جانی ۔
مشورہ : مد مخالف کوئی بھی ہو اسکی ذاتیات پر کبھی
حملہ نہ کریں، نہ اسکی ذاتی ذندگی کریدنے کی کوشش کریں، نہ اسکا اس انداز میں مذاق اڑائیں، تمسخر و اوچھے
پن سے دور رہیں، کیوں کہ یہ سب حمق و جہل و عجز کی نشانی ہیں !!

ابنِ حجر

13/6/2021ء