أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡيَوۡمَ تُجۡزٰى كُلُّ نَـفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡيَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ۞

ترجمہ:

آج ہر شخص کو اس کی کمائی کا صلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں ہوگا، بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

ظلم کی اقسام اور اللہ سے ہر قسم کے ظلم کی نفی

المومن : ١٧ میں قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کی جزاء کا ذکر ہے، جس شخص نے جیسے عمل کیے ہوں گے اس کو اسی حساب سے جزاء دی جائے گی اور اس کی آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس دن کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ محققین نے کہا ہے کہ ظلم کی چار قسمیں ہیں : (١) ایک شخص ثواب کا مستحق ہو اور اس کو ثواب نہ دیا جائے۔ (٢) ایک شخص کو اس کا حق دیا جائے لیکن اس کو اس کا پورا حق نہ دیا جائے (٣) ایک شخص عذاب کا مستحق نہ ہو اور اس کا عذاب دیا جائے (٤) ایک شخص عذاب کا مستحق ہو لیکن اس کو اس کے جرم سے زیادہ عذاب دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر ظلم کی ان اقسام میں سے کسی قسم کا ظلم نہیں کرے گا۔

معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان میں کفر پیدا کرتا ہے، پھر اس کو کفر پر عذاب دیتا ہے اور یہ عین ظلم ہے، ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی شخص میں کفر کو پیدا کرتا ہے جو شخص کفر کا ارادہ کرتا ہے، انسان جس فعل کو بھی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں وہ فعل پیدا کردیتا ہے اور انسان کو اس کے اختیار اور ارادہ کے اعتبار سے جزاء اور سزا ملتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 17