أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِۙ ۞

ترجمہ:

اس کتاب کو نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو بہت غلبہ والا، بےحد علم والا ہے

تفسیر:

العزیز اور العلیم کا معنی

المومن : ٢ میں العزیز اور العلیم کے الفاظ ہیں۔

العزیز کے دو معنی ہیں : ایک معنی ہے غالب، یعنی ایسا قادر کہ کوئی شخص بھی قدرت میں اس کے مساوی نہ ہو اور دوسرا معنی ہے : جس کی کوئی مثل نہ ہو، اس کے بعد دوسری صفت العلیم کو ذکر فرمایا ہے اور یہ عالم کا مبالغہ ہے، یعنی بہت بڑا عالم، جو تمام معلومات کو محیط ہو،

اللہ تعالیٰ کے علم کی چھ خصوصیات ہیں :

(١) اس کا علم ذاتی ہے یعنی کسی سے حاصل شدہ نہیں ہے۔

(٢) اس کا علم غنی ہے، یعنی کسی آلہ کا یا غور وفکر کا محتاج نہیں ہے۔

(٣) اس کا علم ازلی وابدی ہے، اسکی کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء ہے

(٤) اس کا علم واجب ہے، یعنی اس کے علم کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہونا محال ہے

(٥) اس کا علم دائمی ہے، اس میں تبدل و تغیر محال ہے

(٦) اس کا علم انتہائی کامل ہے یعنی ہر معلوم کی ذات، ذاتیات، صفات لازمہ، مفارقہ اضافیہ سب کا اسے تفصیلی علم ہے، مثلاً ایک ذرہ کو کتنے انسانوں نے دیکھا، کتنے پرندوں نے دیکھا، کتنے چرندوں نے دیکھا، اس پر کتنے ہوا کے جھونکے گزرے، کتنے بارش کے قطرے برسے، وہ کتنی چیزوں کے سامنے رہا، کتنی چیزوں کے پیچھے رہا، کتنی چیزوں کے اوپر، کتنی چیزوں کے نیچے، کتنی چیزوں کے دائیں اور کتنی چیزوں کے بائیں رہا۔ غرض اللہ تعالیٰ کو ایک ذرہ کا بھی غیر متناہی در غیر متناہی وجوہ سے علم ہے اور اس کا علم انسان کی عقل میں آہی نہیں سکتا اور ایک ذرہ کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کے علم کی مماثل نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 2