أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اۨلَّتِىۡ وَعَدْتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اے ہمارے رب ! تو ان کو دائمی جنتوں میں داخل فرما دے جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو مغفرت کے لائق ہوں، بیشک تو بہت غالب اور بےحد حکمت والا ہے

تفسیر:

المومن : ٨ میں فرمایا : ” اے ہمارے رب ! تو ان کو دائمی جنتوں میں داخل فرمادے جن کا تو نے ان سے وعد فرمایا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں کو اور ان کی اولاد میں سے بھی مغفرت کے لائق ہوں، بیشک تو بہت غالب اور بےحد حکمت والا ہے “

ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہر مومن سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ اس کو دائمی جنت میں داخل فرمائے کیونکہ اس نے فرمایا ہے : ” جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کی وہ اس کی جزاء پائے گا “ اور آیت میں حاملین عرش کی یہ دعا بھی ہے کہ مؤمنوں کے نیک آباء، ان کی نیک بیویوں اور ان کی نیک اولاد کو بھی جنت میں داخل فرما کیونکہ جب انسان کے اقرباء بھی اس کے ساتھ ہوں تو اس کی راحت اور خوشی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس دعا کے آخر میں فرشتوں نے پھر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی کہ ” بیشک تو بہت غالب اور بہت حکمت والا ہے “ کیونکہ اگر غالب نہ ہو تو جزاء کیسے عطا فرمائے گا اور اگر وہ حکمت والا نہ ہو تو جنت میں درجات کس طرح مقرر فرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 8