أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَفِيۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ‌ ۚ يُلۡقِى الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ لِيُنۡذِرَ يَوۡمَ التَّلَاقِ ۞

ترجمہ:

(وہ) بلند درجات عطا فرمانے والا، عرش کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے

تفسیر:

المؤمن : ١٥ میں فرمایا : ”(وہ) بلند درجات عطا فرمانے والا، عرش کا مالک ہے۔ “

اللہ تعالیٰ خود بلند ہے اور مخلوق کے درجات بلند کرنے والا ہے

اس آیت میں ” رفیع الدرجات “ کا لفظ ہے، اس کے معنی میں دو احتمال ہیں : ایک یہ کہ وہ بلند درجات عطا فرمانے والا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ خود بلند شان والا ہے، اگر اس کا معنی یہ ہو کہ وہ بلند درجات عطا فرمانے والا ہے، تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام، علماء عظام، عام لوگوں اور خصوصا ہمارے نبی سیدمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلند درجات عطا فرمانے والا ہے۔

انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق فرمایا :

تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض منھم من کلمہ اللہ ورفع بعضھم درجت۔ (البقرہ : 253)

یہ رسول ہیں جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض نبیوں کو ہم نے بہت دریجات کی بلندی عطا فرمائی۔

اور علماء کے درجات بلند کرنے کے متعلق فرمایا : یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت۔ (المجادلہ :11) اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور علماء کے درجات بلند فرماتا ہے۔ اور اولیاء اللہ کے درجات بلند کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جو لوگ میری جلال ذات سے محبت کرتے ہیں ان ج کے لیے نور کے ایسے منبر ہوں گے جن کی انبیاء اور شہداء تحسین کریں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٠، مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٦ طبع قدیم، مسنداحمدج ٣٦ ص ٣٨٤، رقم الحدیث : ٢٦٠٦٤، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٧، المعجم الکبیر ج ٢٠ ص ١٦٧، حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ١٢١ )

وھوالذی جعلکم خلئف الارض ورفع بعضکم فوق بعض درجت لیبلوکم فی ما اتکم۔ (الانعام :125)

اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کا بعض پر درجہ بڑھایا تاکہ تمہاری ان چیزوں میں آزمائش کرے جو تم کو دی ہیں۔ اور خصوصاً ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متلق فرمایا :

وللاخرۃ خیرلک من الاولی (الضحیٰ : 4) اور آپ کے بعد ولی ساعت ضرور پہلی ساعت سے افضل ہے ورفعانا لک ذکرک (الم نشرح :2) اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا ورفع بعضھم رجت۔ (البقرہ :253) اور بعض نبیوں (سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت درجات کی بلندی عطا فرمائی۔ اور اگر اگر اس آیت کا معنی یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ خود بہت شان اور بہت بلنددرجہ والا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات، جمال اور جلال کے اعتبار سے تمام موجودات میں ہر لحاظ سے بلند اور برتر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وجود واجب اور قدیم ہے اور وہ ہر چیز بےغنی ہے اور اس کے ماسوا سب ممکن اور حادث ہیں اور سب اس کے محتاج ہیں، سب فانی ہیں اور وہ باقی ہے، وہ ازلی، ابدی اور سرمدی ہے، سب محدود ہیں وہ لامحدود ہے، ہر چیز کی ابتداء اور انتہاء ہے، اس کی نہ کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء ہے، وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے، اس کا علم ذاتی ہے اور باقی سب کا علم اس کی عطا سے ہے، وہ سب سے زیادہ قادر اور قدیر ہے، باقی سب کی قدرت اس کی عطا کردہ ہے، وہ احد ہے، اس کا کوئی شریک اور نظیر نہیں ہے، وہ حی اور قیوم ہے، اس پر غفلت طاری ہوتی ہے نہ اس کو نیند آتی ہے، وہ اپنی ہر صفت میں بےمثل اور بےعدیل ہے، صرف وہی عبات کا مستحق ہے اور وہی واحدحاجت روا ہے۔

اور فرمایا : ” وہ عرش کا مالک ہے “ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے، عرش کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عالم اجسام میں عرش کا سب سے عظیم اور بلند جسم ہے، ہمیں جو چیز بلند معلوم ہوتی ہے، ان میں سب سے بلند چیز عرش عظیم ہے اور وہ بھی اللہ کی مملوک ہے۔

اس کے بعد فرمایا : ” وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ “

روح کو وحی سے تعبیر کرنے کی وجوہ

اس آیت میں وحی کے لیے روح کا لفظ ذکر فرمایا کیونکہ جس طرح جسم کی حیات روح سے حاصل ہوتی ہے اسی طرح علوم اور معارف کی حیات وحی سے حاصل ہوتی ہے، وحی کے ذریعہ انسان کو ایسا دستور عطا کیا گیا جس پر عمل کرنے سے انسان باقی مخلوقات میں معزز اور مشرف ہوا۔

اس آیت میں قیامت کے دن کو ملاقات کا دن فرمایا ہے اور اس کو حب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں :

١) لوگوں کی روحیں ان کے جسموں سے منفصل اور الگ ہوجائیں گی اور جب قیامت کا دن آئے گا تو روحوں کو دوبارہ ان کے جسموں میں ڈالا جائے گا اور اس دن بچھڑی ہوئی روحوں کو اپنے جسموں سے ملاقات ہوگی۔

٢) اس دن تمام مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور ایک دوسرے کے احوال سے واقف ہوگی۔

٣) اس دن فرشتوں کو ناز کیا جائے گا اور فرشتوں کی انسانوں سے ملاقات ہوگی۔

٤) اس دن ہر انسان کو اس کے اعمال دکھائے جائیں گے اور اس کا صحیفہ اعمال اس کے ہاتھ میں ہوگا اور ہر شخص اپنے عمل سے ملاقات کرے گا۔

٥) اس دن انسان اپنے رب سے ملاقات کرے گا جیسا کہ قرآن مجید کی بکثرت آیات میں ہے :

فمن کا یرجوا لقاء ربہ۔ (الکہف :110)

پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے۔

تحیتھم یوم یلقونہ سلم۔ (الاحزاب :44)

جس دن وہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا۔

الذین یظنون انھم ملقوا ربھم (البقرہ : 46)

جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

٦) یہ وہ دن ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی تمام اولاد سے ملاقات کریں گے۔

٧) یہ وہ دن ہے جس میں ہر انسان اپنے اعمال کی جزاء یا سزا سے ملاقات کرے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 15