علمِ فلسفہ میں انہماک سےپرہیزاورعلومِ دین میں مشغولیت کےلیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طلبۂ دین کو امام احمد رضا قادری کی نصیحت

انتخاب و پیش کش:

علامہ نثار مصباحی زیدہ مجدہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نوٹ : یہ اقتباس امام احمد رضا قدس سرہ کی کتاب “مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید” کے آخر سے لیا گیا ہے. عربی فارسی عبارات کے ترجمے رسائل رضویہ جلد 38 میں شامل اس رسالے سے لیے گئے ہیں۔ مشکل الفاظ کی اِس [ ] بریکٹ میں توضیح خاکسار نثار مصباحی نے کی ہے۔۔۔۔۔ کچھ جگہوں پر توضیح کے لیے اسی بریکٹ میں ایک دو لفظ اس خاکسار نے لکھے ہیں۔ جب کہ مترجمین کا کیا ہوا ترجمہ ہلالی بریکٹ ( ) کے اندر ہے.

یہ رسالہ فتاوی رضویہ مترجم، فتاوی رضویہ سافٹ ویئر، وغیرہ میں غلط سلط کمپوز ہوا ہے۔ اور کچھ غلطیاں ایسی ہیں جن سے کوئی طباعت پاک نہیں۔ صرف ہماری منتخب کردہ اسی عبارت میں اتنی کتابتی اغلاط تھیں کہ محض ان کی تصحیح میں تقریبا دو گھنٹے لگے۔ پھر بھی ہمیں 100 فیصد درستی کا دعویٰ نہیں، البتہ اب یہ مکمل صحیح عبارت سے قریب ترین ہے۔ان شاء اللّٰه……..۔۔۔۔۔۔۔(نثار)

۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

امامِ اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ طلبۂ دین کو فلسفہ وغیرہ میں انہماک سے پرہیز اور علومِ دین میں مشغولیت کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اے عزیز ! شیطان اول دھوکا دیتا ہے کہ مقصود بالذات تو علمِ دین ہے، اور علومِ عقلیہ وسیلہ و آلہ_پھر ان میں اشتغال کس لیے بے جا؟

ھیھات ! اگر یہ امر اپنے اِطلاق پر مسلّم بھی ہو تو اب اپنے حالات پر غور کرو کہ آلہ ومقصود کی شان ہوتی ہے [کہ] شب وروز آلہ میں غرق ہوگئے؟؟ مقصود کا نام تک زبان پر نہ آیا؟؟ اچھا توسُّل ہے ! اور اچھا قصد !!!! ؎

بوقتِ صبح شود ہمچو روز معلومت

کہ با کہ باختۂ عشق درشب دیجور

(صبح کے وقت تجھے روزِ روشن کی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تاریک رات میں تُو نے کس کے ساتھ عشق بازی کی ہے۔ت)

عزیزو ! اگر علمْ آخرت کے لیے سیکھتے ہو تو وﷲ کہ فلسفہ آخرت میں مضر_

اور دنیا کے لیے، تو یہاں وہ بھی بےخیر__ اس سے تو بہتر کہ مڈل پاس کرو کہ دس روپیہ کی نوکری پا سکو۔

عزیزو ! للّٰه انصاف ! مصطفٰی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث میں علم کو ترکۂ انبیا اور عُلَما کو ان کا وارث قرار دیا۔ ذرا دیکھو تو وہ علم یہی ہے جس میں تم سراپا منہمک، یا وہ جسے تم بایں بے پرواہی واستغنا تارک؟؟ [یعنی بےنیازی کے ساتھ چھوڑے ہوئے ہو.]

بھلا ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ مصطفٰی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا وارث بننا اچھا، یا ابنِ سینا وفارابی کا فضلہ خوار ؟ ع

ببیں تفاوتِ رَہ ازکجاست تابہ کجا

(ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ت)

عزیزو ! شیطان اس قوم کے کان میں پھونک دیتا ہے کہ عمر صرف کرنے کے قابل یہی علومِ فلسفیہ ہیں کہ ان کے مدارِک عمیق اور مسالک دقیق۔ [یعنی مواضعِ احکام و استدلال گہرے, اور راہیں/مسائل باریک ہیں] جب یہ آگئے تو علومِ دینیہ کیا ہیں؟ ادنٰی توجہ میں پانی ہوجائیں گے۔ !!

حالانکہ وﷲ محض غلطتمہیں ان علومِ ربانیہ کا مزہ ہی نہیں پڑا ورنہ جانتے کہ علم یہی ہیں۔ اور جو غموض ودِقت و لطف ونزاکت اِن میں ہے ان کا ہزارواں حصہ وہاں نہیں_ مگر کیا کیجئے کہ۔ ع

اَلنَّاسُ اَعْدَاء لِمَا جَھِلُوْا

(لوگ اُس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جس سے وہ جاہل ہوتے ہیں۔(ت)

اچھا، نہ سہی_ مگر کیا نفیس تدقیق عمدہ تحقیق ہے کہ ہزاراں برس گزرے آج تک کوئی بات منقح نہ ہوئی_ لوگ کہتے ہیں تلاحقِ آراء[مختلف رائیں ملنے] سے علمْ نضج[پختگی] پاتے ہیں وہاں [فلسفہ میں] اس کے خلاف۔ع

شد پریشاں،خوابِ شاں از کثرتِ تعبیرہا

(زیادہ تعبیروں کی وجہ سے ان کا خواب پریشان ہوگیا۔ت)

[ان کے] سَلف خَلف میں جسے دیکھیے کیا چمک چمک کر تقریریں کرتا ہے۔ گویا حقِ ناصع[روشن حق] اس کی بغل سے نکل کر کہیں گیا ہی نہیں [لیکن] جب دوسرا آیا اُس نے نئی ہانک سنائی، اگلے کی عقل اوندھی بتائی__ یوں ہی یہ سلسلۂ بے تمیزی لاتَقِفُ عِندحَدٍّ قبل یوم القیمۃ (قیامت سے پہلے یہ سلسلہ کسی حد پر نہیں رُکے گا۔ت)۔ چلا جاتا ہے اور چلا جائے گا۔ کچھ محقَّق ہوسکا، نہ ہرگز ہو۔ع

ہرکہ آمد عمارتے نو ساخت رفت و منزل بدیگرے پر داخت

(جو بھی آیا اس نے نئی عمارت بنائی۔ چلا گیا اور عمارت دوسرے کے حوالے کردی۔ت)

کہیے !! پھر اس “کاو،کاو” کا کیا محصَّل نکلا؟

اور کون سا نتیجہ دامن میں آیا؟ __دمِ مرگ جب دیکھیے تو ہاتھ خالی۔ !!!! ع : جہل تھا جو کچھ کہ سیکھا، جو پڑھا افسانہ تھا !! ایک فلسفی نزع میں ہاتھ ملتا اور کہتا تھا: عمر کھوئی کچھ تحقیق نہ ہو پایا، سوا اس کے کہ : ہر ممکن محتاج ہے اور امکان امرِ عدمی!! دُنیا سے چلا اور کچھ نہ ملا۔ !!!!

اور دوسرا امر -یعنی علومِ دینیہ اِس [فلسفہ] کے ذریعہ سے خود آجانا- ایسا باطلِ فضیح ہے جس کی واقعیت تمہارے اذہان کے سوا کہیں نہ ملے گی__

حاش للّٰه ! کام پڑے دام کھلتے ہیںدس مسائلِ دینی پوچھے جائیں، اور کوئی فلسفی صاحب اپنے تفلسُف کے زور سے ٹھیک جواب دے دیں تو جانیں !!! یوں تو زبان کے آگے بارہ ہَل چلتے ہیں۔ ع

کس نگوید کہ دُوغِ من تُرش است

(اپنی لّسی کو کھٹّا کوئی نہیں کہتا۔ت)

عزیزو ! یہ درس [درسِ نظامی] کہ اِن بلاد میں رائج، احمق اسے منتہائے علم سمجھتے ہیں۔ حاشا کہ وہ ابتدائی علم بھی نہیں۔ اس سے [فقط] استعداد آنا منظور ہے۔ _ رہا علم! _ ہیہات ہیہات! ہنوز دلی دور ہے۔ ع

بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے

(بہت سفر چاہیے تاکہ کچا پکا ہوجائے۔ت)

طالب علم بے چارہ “شِفا”، “اشارات”[1] سب لپیٹ گیا اور یہ بھی نہ جانا کہ “اصولِ دین” کو کیوں کر سمجھوں ! اور خدا و رسول کی جناب میں کیا اعتقاد رکھوں!!!! اگر کچھ معلوم ہے تو سُنی سنائی تقلیدی!!!_پھر حلال و حرام کا تو دوسرا درجہ ہے۔

افسوس !! واضعِ درس[درسِ نظامی بنانے والے] نے کتبِ دینیہ گنتی کی رکھیں [اور عقلی علوم کی کتابیں زیادہ] کہ[تاکہ] طلبہ خوض و غور کے عادی ہوجائیں اور ازاں جا [اِس وجہ سے] کہ ابھی عقل پختہ نہیں لہذا ایسی چیز میں مشق ہو جس کی اُلٹ پلٹ نقصان نہ دے_ مگر وہ ہو رہی اُلٹی _ کہ انہیں “لِمَ” و “لانسلم” (کیوں ؟ اور ہم نہیں مانتے۔ت) کی آفت چر گئی_ اور جزتسلیمی پر کہ مدار ایمان ہے، قیامت گزر گئی۔ !!!!

عزیزو ! احمد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،ابن حِبان،حاکم، بیہقی،عبدبن حمید، بغوی، باسانیدِ صحیحہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سیدِ عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِنَّ العَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ صُقِلَ قَلْبُهُ ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ علی قَلْبِهِ ، وَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تعالٰی: كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ یَكۡسِبُونَ [المطففين : 14]

جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ دھبّا پڑ جاتا ہے۔ پس اگر وہ اس سے جُدا ہوگیا اور توبہ استغفار کی تو اس کے دل پر صیقل ہوجاتی ہے۔ اور اگر دوبارہ کیا تو سیاہی بڑھتی ہے یہاں تک کہ اُس کے دل پر چڑھ جاتی ہے۔ اور یہی ہے وہ ‘زنگ’ جس کا ﷲ تعالٰی نے ذکر فرمایا کہ : یوں نہیں !! بلکہ زنگ چڑھادی ہے اُن کے دلوں پر ان کے گناہوں نے کہ وہ کرتے تھے۔

دیکھو! ایسا نہ ہو کہ یہ فلسفۂ مُزَخْرَفَہ تمھارے دلوں پر زنگ جمادے کہ پھر علومِ حقه صادقہ ربانیہ کی گنجائش نہ رہے گی ۔ کہتے یہ ہو کہ اس کے آنے سے وہ خود آجائیں گے؟!؟ حاشا !! جب یہ دل میں پیر گیا وہ ہرگز سایہ تک نہ ڈالیں گے کہ وہ محض نور ہیں، اور نور نہیں چمکتا مگر صاف آئینہ میں ۔

عزیزو ! اسی زنگ کا ثمرہ ہے کہ منہمکانِ تفلسف[فلسفے میں زیادہ مشغول رہنے والے] علومِ دینیہ کو حقیر جانتے، اور علماے دین سے استہزا کرتے۔ بلکہ انہیں جاہل اور لقبِ علم اپنے ہی لیے خاص سمجھتے ہیں۔ اگر آئینۂ دل روشن ہوتا تو جانتے کہ وہ مصطفی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے وارث و نائب ہیں۔ وہ کیسی نفیس دولت کے حامل وصاحِب ہیں جس کے لیے خدا نے کتابیں اتاریں، انبیا نے تفہیم میں عمریں گذاریں۔ وہ اسلام کے رکن ہیں۔ وہ سنت کے عماد ہیں۔ وہ خدا کے محبوب ہیں ۔ وہ جانِ رَشاد ہیں ۔

رہا اُن کے ساتھ استہزا، اس کا مزہ آج نہ کھلا تو کل قریب ہے۔ وسيعلم الذین ظلموا أی منقلب ينقلبون۔

عزیزو ! نفسِ خودی پسند آزادانہ “أقول” کا مزہ پا کر بھول گیا ۔ اور “قال رسول الله صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم” میں جو دل کا سرور اور آنکھوں کا نور ہے اسے بھول گیا۔ هيهات !! كہاں وہ فن جس میں کہا جائے “میں کہتا ہوں” یا نقل بھی ہو تو “ابن سینا گفت” !! اور وہ فن جس میں کہا جائے “خدا فرماتا ہے”، “مصطفی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں”۔ !!!!

جتنا “میں” اور “مصطفی” میں فرق ہے اتناہی اس “أقول” و “قال” اور دونوں علموں میں. !!!

کیا خوب فرمایا عالمِ قریش سیدنا امام شافعی رضی ﷲ تعالی عنہ نے:

كل العلوم سوى القرآن مشغلة

إلا الحديث وإلا الفقه في الدين

العلم ما كان فيه قال حدثنا

وما سواہ فوسواس الشياطين

((قرآن کے علاوہ تمام علوم ایک مشغلہ ہیں، سوائے حدیث کے اور سوائے دین میں فقاہت کے۔

علم تو وہ ہے جس میں کوئی شخص کہے کہ ہمیں حدیث بیان کی۔

اور اس کے ماسوا شیطانوں کا وسوسہ ہے..ت))

آنچہ قال الله نے قال الرسول

فضله باشد، فضله می خواں اے فضول !!

عزیزو ! خدارا غور کرو۔ قبر میں، حشر میں تم سے یہ سوال ہوگا کہ عقائد کیا تھے اور اعمال کیسے ؟ یا یہ کہ وہ کلی طبعی خارج میں موجود ہے یا معدوم ؟ اور زمانہ ‘غیر قار و حرکت بمعنى القطع

كائن في الأعيان’ ہیں، یا ‘آن سیال و حرکت بمعنی التوسط سے موہوم’ ؟؟!!!؟ !!

عزیزو ! میں نہیں کہتا کہ منطقِ اسلامیاں، ریاضی ، ہندسہ وغیرہا اجزائے جائزۂ فلسفہ[فلسفہ کے جائز اَجزا] نہ پڑھو۔ پڑھو، مگر بقدرِ ضرورت۔ پھر اِن میں انہماک[حد سے زیادہ مشغولیت] ہرگز نہ کرو بلکہ اصل کار علومِ دینیہ سے رکھو!!

راہ یہ ہے اور آئندہ کسی پر جبر نہیں۔

و الله يهدی من يشاء إلى صراط

مستقيم.

ربنا لا تزغ قلوبنا ںعد اذ ھديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب۔

((اختتامی کلمات، رسالہ مقامع الحدید،))

[1] یہاں “شفا” سے مراد ابن سینا کی “کتاب الشفا” ہے جو فلسفہ, منطق, ہیئت, اور ریاضی وغیرہ عقلی علوم پر مشتمل ہے. اور “اِشارات” سے ابن سینا ہی کی دوسری کتاب “الاِشارات والتنبیہات” مراد ہے جو منطق و فلسفہ پر مشتمل ہے………نثار

انتخاب و پیش کش:

نثار مصباحی

13 جون 2020ء