مردار گدھے کا گوشت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضرتِ ماعِز اسلمی رضی اللہ عنہ کو جب سنگسارکیا گیا تو دو شخص آپس میں گفتگو کرنے لگے ایک نے دو سرے سے کہا اسے تو دیکھو اللہ رب العزت نے اس کی پردہ پوشی کی تھی کہ اس کے جرم پر کوئی گواہ نہیں تھامگر اس کے نفس نے نہ چھوڑا کتّے کی طرح سنگسار کیا گیا…… حضور ﷺ نے ان دونوں کی باتوں کو سن کر سکوت فرمایاکچھ دیر تک چلتے رہے کہ راستے میں مرا ہوا گدھا ملا جو پائو ںپھیلائے ہوئے تھا حضور ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا جائو اس مردار گدھے کا گوشت کھائو، انہوں نے عرض کیا یا نبی اللہ ﷺ اسے کون کھائے گا ؟ ارشاد فرمایا جو تم نے اپنے بھائی کی غیبت کی وہ اس مردہ گدھے کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے وہ یعنی ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہے ہیں۔ (ابودائود)

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل نے حضرت ماعزرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے دنیا کی سزا کو پسند فرمایا اور آخرت کی تکلیف سے بچ گئے۔ ان سچے تائب اور فکر آخرت میں سرشار خدا کے بندے کی جب غیبت کی گئی تو حضور ﷺ نے مردار گدھے کے گوشت کھانے کا حکم دیا اور حضرت ماعز کے بارے میں بھی بتادیا کہ اس سچے تائب اور فکرآخرت میں سرشار کا مقام کیاہے؟پتہ چلا کہ اگر اللہ عزوجل کسی کو توبہ کی توفیق عطافرمائے تو اس توبہ کرنے والے کو کبھی برانہ کہا جائے اسلئے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والے پر مولا کرم کی نظر فرماتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں خود کو بہت زیادہ پارسا اور دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی ہے۔ اللہ ہم سب کو ایسی برائیوں سے خصوصاً غیبت سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ