أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا يُجَادِلُ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِى الۡبِلَادِ ۞

ترجمہ:

اللہ کی آیتوں میں صرف کفار جھگڑا کرتے ہیں، سو شہروں میں ان کے چلنے پھرنے سے اے مخاطب ! تم دھوکے میں نہ آنا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اللہ کی آیتوں میں صرف کفار، جھگڑا کرتے ہیں، سو شہروں میں ان کے چلنے پھرنے سے اے مخاطب ! تم دھوکے میں نہ آنا ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد دیگر گروہوں نے تکذیب کی تھی اور ہر امت نے اپنے رسول پر قابو پانے کا ارادہ کیا تھا اور باطل باتوں سے جھگڑا کیا تھا تاکہ وہ اس کے ذریعہ حق کو مغلوب کردیں۔ پس میں ان کو اپنی گرفت میں لے لیا تو کیسا تھا میرا عذاب اور اسی طرح آپ کے رب کا فیصلہ کفار کے خلاف ثابت ہوگیا کہ وہ دوزخی ہیں (المومن : 4-6)

جدال کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور جدال کی اقسام

المومن : ٤ میں فرمایا : ” اللہ کی آیتوں میں صرف کفار جدال کرتے ہیں “۔ جدل کا لغوی معنی ہے : ” رسی بٹنا اور عرف میں اس کا معنی ہے : کسی شخص کی رائے کو دلائل الزامیہ سے اپنے موقف کی طرف پھیرنے کی کوشش کرنا، جھگڑا کرنے کو جدال کہتے ہیں۔ یعنی جب مباحثہ سنجیدگی کی حدود سے متجاوز ہو کر جھگڑے میں داخل ہوجائے تو یہ جدال ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور قرآن مجید کی آیتوں میں جدال کرنا کفر ہے۔

قرآن مجید کی آیتوں میں جدال یہ ہے کہ جیسا کہ کفار نے کہا : قرآن مجید میں مکھی اور مکڑی کا ذکر ہے اور یہ بہت چھوٹی چھوٹی اور حقیر چیزیں ہیں اور ان کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور انہوں نے کہا : قرآن میں شجرۃ الزقوم کا ذکر ہے کہ وہ دوزخ میں درخت ہیں اور ان کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور انہوں نے کہا : قرآن میں شجرۃ الزقوم کا ذکر ہے کہ وہ دوزخ میں درخت ہے اور درخت لکڑی کا ہوتا ہے تو لکڑی آگی میں کیسے رہ سکتی ہے اور انہوں نے قرآن مجید کی سحر اور شعر کہا اور قرآن مجید میں اس طرح جال کرنا کفر ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جدال فی القران کفر “ قرآن مجید میں جال کرنا کفر ہے۔ بخاری اور مسلم کی شرائط کے موافق اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٥٢٩، مسند احمد ج ٤ ص ٤٩٤ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٢ ص ٤٧٦، رقم الحدیث : ٧٥٠٨، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠، مسندابویعلیٰ رقم الحدیث : ٥٨٩٧، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٥٧٤)

اس طرح ایک اور حدیث میں حضرت ابوجبیم (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد روایت کیا ہے :

لا نمارو افی القران فان مراء فیہ کفر۔ قرآن کریم میں بحث اور جھگڑا نہ کرو، کیونکہ قرآن کریم میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ١٧٠ قدیم، مسند احمد ج ٢٩ ص ٨٥، رقم الحدیث : ١٧٥٤٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٥٢٨، املعجم الکبیر ج ٥، رقم الحدیث : ٤٩١٦، مجمع الزوائد ج ١ ص ١٥٧، حلیہ الاولیاء ج ٩ ص ٢١٦، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٨٦٠)

اور جو جدال جائز بلکہ بعض اوقات مستحب اور بعض اوقات واجب ہے، وہ یہ ہے کہ حق کو ثابت کرنے کے لیے اور باطل کا رد کرنے کے لیے کافروں اور بےدینوں سے جدال کیا جائے، قرآن مجید میں ہے :

وجادلھم بالتیھی احسن۔ (النحل : 125) اور ان کی عمدہ طریقہ سے بحث کیجئے۔

اس کے بعد فرمایا : ” سو شہروں میں ان کے چلنے پھرنے سے اے مخاطب ! تم دھوکے میں نہ آنا “۔

مشرکین مکہ تجارت اور کسب معاش کے لیے مکہ سے نکل کر دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں اور بہت آرام اور اطمینان اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں اور انہیں کسی آفت اور مصیبت کا سامنا نہیں ہوا، اس سے اے مخاطب ! تم یہ نہ سمجھنا کہ میں ان سے راضی اور خوش ہوں، بلکہ میں نے ان کو مہلت دی ہوئی ہے اور اگر یہ اپنی اسی روش پر قائم رہے تو میں وقت آنے پر ان کو اپنی گرفت میں لے لوں گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 4