أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ يُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُنَزِّلُ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنۡ يُّنِيۡبُ ۞

ترجمہ:

وہی تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل فرماتا ہے اور صرف وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وہی لوگ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل فرماتا ہے اور صرف وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں، سو تم اللہ کی عبادت کرو، اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے، خواہ کافروں کو بُرا لگے (وہ) بلند درجات عطا فرمانے والا، عرش کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے جس دن سب لوگ ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہوگی، آج کس کی بادشاہی ہے ؟ صرف اللہ کی، جو واحد سب پر غالب ہے (المؤمن : 13-16)

آفاق اور انفس میں اللہ کی نشانیاں

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار پر وعید کی آیات کا ذکر فرمایا تھا اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت کا ذکر فرمایا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ جو ایسے غالب اور قوی کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اسی وعید کے سزاوار ہیں۔

المؤمن : ١٣ میں بتایا ہے کہ اللہ تعالٰ تمہارے نفسوں میں اور آفاق میں اپنی توحید کے دلائل اور اپنی قدرت کے شواہد دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے جو تمہارے رزق کا سبب ہے، جس سے تمہارا بدن کے لیے غذا اور قوت فراہم ہوتی ہے، سو اے مؤمنو ! تم صرف خدا واحد کی عبادت کرو اور اپنی اطاعت اور عبادت میں کسی اور کی رضا اور خوشنودی کو شامل نہ کرو۔ کیونکہ اخلاص ہی طیب ہے اور اللہ تعالیٰ طیب ہے، وہ طیب کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 13