أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ الۡاَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِى الصُّدُوۡرُ ۞

ترجمہ:

خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور سینہ میں چھپی ہوئی باتوں کو اللہ خوب جانتا ہے

تفسیر:

آنکھوں کی خیانت اور دل کی چھپی ہوئی باتیں

انسان جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کا تعلق ظاہری اعضاء سے بھی ہوتا ہے اور باطنی اعضاء سے بھی ہوتا ہے، ظاہری اعضاء سے نافرمانی وہ ہے جو نظر آتی ہے اور باطنی اعضاء سے جو نافرمانی ہوتی ہے وہ سینہ میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس سے بندوں کو کوئی معصیت اور خیانت چھپی ہوئی نہیں ہے، خواہ وہ آنکھوں سے نظر آنے والی خیانت ہو خواہ سینہ میں چھپی ہوئی خیانت ہو۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آنکھوں کی خیانت وہ ہے جو انسان اجنبی عورتوں کی طرف شہوت سے دیکھتا ہے، ہاں اگر اتفاقاً کسی طرف نظر پڑجائے تو وہ انسان کے لیے معاف ہے لیکن اس کو دوسری نظر ڈالنے کی اجازت نہیں، حدیث میں ہے : حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یارسول اللہ ! اگر کسی پر اچانک نظر پڑجائے ؟ آپ نے فرمایا : اپنی نظر ہٹالو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٥٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٤٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٧٦، جامع المسانید السنن مسند جریر بن عبداللہ رقم الحدیث : ١٥٩١)

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اے علی ! تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا، کیونکہ پہلی بار تمہیں معاف ہے اور دوسری بار کی تمہیں اجازت نہیں ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٤٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٧٧)

جب انسان کسی اجنبی عورت کی طرف دیکھتا ہے تو دراصل وہ اس کی نظر نہیں ہوتی بلکہ شیطان کی طرف سے چھوڑا ہوا ایک تیر ہوتا ہے، جو اس کے دل میں جاکر پیوست ہوجاتا ہے اور جب انسان کسی خوبصورت بےریش لڑکے کی طرف دیکھتا ہے تو شیطان اس کو انسان کی نگاہ میں اجنبی عورت سے سو گنا زیادہ حسین بناکر پیش کرتا ہے۔ کیونکہ جب کسی اجنبی عورت کی محبت اس کے دل میں گھر کر جائے تو اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا ایک شرعی جائز طریقہ ہے کہ وہ اس کے نکاح کرلے لیکن اگر وہ کسی بےریش لڑکے پر فریفتہ ہوجائے تو سوائے گناہ کے اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا کوئی جائز راستہ نہیں ہے۔ انسان کے دل میں خواہشیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان سب کی خبر ہے اور سب کا علم ہے خواہ وہ نیک خواہشیں ہوں یا بری خواہشیں ہوں لیکن اللہ انسان پر اسی وقت گرفت فرماتا ہے جب وہ اپنی کسی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کا عزم مصمم کرلے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 19