حضرت علی ؓ کا صحابی رسولﷺ اھبان بن صیفی ؓاور حضرت حکم بن عمروؓ کو (حضرت امیر معاویہؓ) کے خلاف جنگ کے لیے بلانا اور ان حضرات کا نصیحت رسولﷺ کی وجہ سے شامل ہونے سے انکار کرنا

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

امام طبرانی اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں :

حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري، ثنا يحيى بن زهدم بن الحارث الغفاري، حدثني أبي، قال: قال لي أهبان بن صيفي: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أهبان، أما إنك إن بقيت بعدي فسترى في أصحابي اختلافا، فإن بقيت إلى ذلك اليوم، فاجعل سيفك من عراجين» قال: فجعلت سيفي من عراجين، فأتاني علي رضي الله عنه، فأخذ بعضادتي الباب، ثم سلم، فقال: يا أهبان، ألا تخرج؟ فقلت: بأبي وأمي يا أبا الحسن، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم – أو أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم، أو أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم، أو تقدم إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم – شك ابن زهدم – فقال: «يا أهبان، أما إنك إن بقيت بعدي فسترى في أصحابي اختلافا، فإن بقيت إلى ذلك اليوم فاجعل سيفك من عراجين» فأخرجت إليه سيفي فولى علي رضي الله عنه

یحییٰ بن زھدم بن حارث کہتے ہیں میرے والد نے مجھے بیان کیا کہ مجھے حضرت اھبان بن صیفیؓ نے فرمایا کہ مجھے رسولﷺ نے فرمایا :”اے اھبان! تو ُمیرے بعد زندہ رہے گا ، میرے صحابہؓ میں اختلاف دیکھے گا ، اگر توُ ان دنوں میں موجود ہو تو اپنی تلوار کھجور کی لکڑی سے بنا لینا ”

(یعنی ان دو گروہوں میں سےکسی بھی ایک کی طرف سے قتال نہ کرنا )

تو میں نے اپنی تلوار کھجور کی لکڑی سے بنالی ۔میرے پاس حضرت علیؓ تشریف لائے ،میرے دروازے کی چوکھٹ پکڑی ، پھر سلام کیا ۔ فرمایا : اے اھبان! کیا نکلیں گے ؟

(حضرت امیر معاویہ سے لڑنے کے لیے )

میں نے کہا : اے ابو الحسن(حضرت علیؓ) میرے ماں باپ آپؓ پر قربان! مجھے رسولﷺ نے وعدہ لیا تھا، ابن زھدم کو شک ہے ، فرمایا اے اھبان! تو ُ میرے بعد زندہ رہے گا ، میرے صحابہؓ میں اختلاف دیکھے گا ، اگر توُ ان دنوں زندہ رہا تو تو ُ اپنی تلوار کھجور کی لکڑی سے بنا رکھنا ، میں نے اپنی تلوار رکھ لی پس حضرت علیؓواپس تشریف لے گئے ۔

[المعجم الكبير برقم : 868]

سند کے رجال کی تحقیق:

1۔ پہلا راوی : يحيى بن عثمان بن صالح السهمي

امام ذھبی انکو صدوق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

صدوق قال ابن أبي حاتم تكلم فيه

یہ صدوق ہیں ابن ابی حاتم نے کہاکہ اس کے بارے کلام کی گیا ہے

[ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق برقم : 375]

اور سیر اعلام میں ابن ابی حاتم کی جرح کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السهمي

العلامة، الحافظ، الأخباري، أبو زكريا السهمي المصري. قال ابن يونس: كان عالما بأخبار مصر، وبموت العلماء، حافظا للحديث

وقال ابن أبي حاتم: كتبت عنه، وكتب عنه أبي، وتكلموا فيه

قلت: هذا جرح غير مفسر، فلا يطرح به مثل هذا العالم

یحییٰ بن عثمان یہ علامہ حافظ اخباری (مورخ) ہیں ابن یونس کہتے ہیں کہ یہ تاریخی روایات کے عالم تھے مصر میں اور حافظ الحدیث تھے

ابن ابی حاتم نے کہا کہ میں نے ان سے لکھا ہے اور میرے والد (ابو حاتم) نے بھی ان سے لکھا ہے

اور انکے بارے کلام کیا گیا ہے

میں (الذھبی) کہتا ہوں کہ یہ جرح غیر مفسر ہے ایسی جروحات سے اس درجے کے عالم کو مجروح نہیں کیا جا سکتا

[سیر اعلام النبلاء برقم : 171]

3۔تیسرے راوی : يحيى بن زهدم بن الحارث الغفاري

امام ابن ابی حاتم انکے بارے کہتے ہیں :

يحيى بن زهدم البصري نزيل مصر وهو ابن زهدم بن الحارث الغفاري روى عن ابيه زهدم بن الحارث روى عنه محمد بن عزيز الايلى وابى، كتب عنه ابى سنة ست عشرة ومائتين.

نا عبد الرحمن قال سألت ابى عنه فقال: شيخ أرجو أن يكون صدوقا، كان بصريا وقع إلى مصر

یحییٰ بن زھدم یہ بصری ہیں ان سے میرے والد (ابو حاتم) نے لکھا ہے

ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے انکے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ (میرے) شیخ ہیں اور میں نے ان سے (روایات ) لی ہیں یہ صدوق ہیں یہ بصری تھے اور مصر کی طرف گئے

[الجرح والتعدیل برقم : 618]

اس روای پر ایک جرح ہے کہ جب یہ عرس بن عمیرہ سے بیان کریگا تو وہ روایات موضوع ہونگی کیونکہ وہ یہ نسخہ سے بیان کرتا تھا

جیسا کہ امام ابن حبان کہتے ہیں :

يحيى بن زهدم بن الحارث الغفاري من أهل مصر يروي عن أبيه روى عنه أحمد بن علي بن الأفصح والمصريون عنه عن أبيه عن العرس بن عميرة نسخة موضوعة لا يحل كتابتها إلا على جهة التعجب ولا الاحتجاج به مما يحل لأهل الصناعة والسبر

کہ یحییٰ بن زھدم بن حارث الغفاری یہ مصر کے ہیں یہ اپنے والد کے طریق سے عرس بن عمیرہ سے موضوع نسخہ روایت کرتے ہیں

[المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين برقم : 1199]

باقی یہ روایت عرس بن عمیرہ کے طریق سے نہیں ہے بلکہ یہ زھدم خود صحابی رسول ﷺ سے بیان کرتا ہے اور اس سے اسکا بیٹا یحییٰ بن زھدم بیان کرتا ہے

کیونکہ امام ابن حبان نے خود تخصیص کی ہے کہ نسخہ والی موضوع روایات أحمد بن علي بن الأفطح بیان کرتا تھا یحییٰ بن زھدم سے انکے والد سے وہ عرس بن عمیرہ سے

جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :

أحمد بن علي بن الأفطح المعري سكن مصر يروي عن يحيى بن زهدم عن أبيه عن العرس بن عميرة بنسخة مقلوبة البلية فيها من يحيى بن زهدم وأما هو في نفسه إذا حدث عن الثقات فصدوق ثنا عنه الحسين بن إسحاق الحلال الأصبهاني بالكرخ بنسخته

احمد بن علی یہ مصر میں رہنے والے تھے یہ یحییٰ بن زھدم سے انکے والد کے طریق سے عرس بن عمیرہ کے طریق سے نسخہ بیان کرتے تھے جو کہ مقلوب ہے جس میں یحییٰ بن زھدم ہے ۔ اور وہ امام ہے فی نفسی جب وہ حدیث بیان کرے ثقات سے تو وہ صدوق ہے (اس نسخے کے علاوہ )

اور ان سے روایت کرنے والے الحسین بن اسحاق الحلال ہے صبھانی ہیں جو کرخ میں یہ نسخہ سماع کیا

[الثقات ابن حبان برقم : 12201]

4۔ چوتھا راوی زھدم بن حارث الغفاری ہے

یہ راوی مقبول درجہ کا ہے

ابن حبان نے انکو ثقات میں درج کیا ہے

اور

امام بخاری نے اپنی تاریخ میں انکو بغیر جرح و تعدیل سے نقل کیا ہے لیکن یہ لکھا ہے کہ اسکا سماع حضرت اھبان بن صیفی سے ہے

زَهدَم بْن الحارث، الغِفاريّ.

رأَى ابْن عُمر.

قاله لي مُحَمد بْنُ عُقبة، قَالَ: حدَّثنا مُحَمد بْن عُثمان القُرَشِيّ، قال: حدَّثنا زَهدَم البَصرِيّ، سَمِعَ وُهْبان بن صَيفي، سَمِعَ منه ابنه يَحيى.

زھدم بن حارث غفاری

انہوں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا ہے

مجھے محمد بن عقبہ نے کہا انہوں نے کہا مجھے محمد بن عثمان قرشی نے کہا انہوں نے کہا مجھے زھدم بصری نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت اھبان بن صیفی سے سنا ہے اور ان سے انکے بیٹے یحییٰ نے سنا ہے

[تاریخ الکبیر برقم : 1498]

تو اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا مرکزی راوی مقبول ہے مگر ثقہ یا صدوق درجہ کا نہیں کہ جسکا تفرد قبول کیا جا سکے

لیکن اسکی شاہد اور ایک روایت ہے جسکو امام طبرانی اور امام ابن ماجہ اور دیگر متعدد محدثین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے

امام طبرانی نے بھی اسکو بیان کیا ہے درج ذیل اسناد سے :

حدثنا علي بن عبد العزيز، وأبو مسلم الكشي قالا: ثنا عثمان بن الهيثم المؤذن، حدثني عبد الله بن عبيد، عن عديسة بنت أهبان بن صيفي، قالت: حيث قدم علي بن أبي طالب البصرة، جاء إلى أبي فقام على الباب، فقال: السلام عليكم ورحمة الله، قال: ألا تخرج فتعينني على هؤلاء القوم؟ قال: بلى إن شئت، يا جارية ناوليني السيف، فناولته السيف فوضعه في حجره، ثم استله، قال: «إن خليلي وابن عمك صلى الله عليه وسلم أمرني إذا كان قتال بين قبيلتين من المسلمين، أن اتخذ سيفا من خشب» فاستل بعضه وهو في حجره، فقال: إن شئت خرجت معك بهذا، قال: لا حاجة لي فيك

حدثنا المقدام بن داود، ثنا أسد بن موسى، ثنا حماد بن سلمة، عن أبي عمرو القسملي، عن بنت أهبان،

حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا عبيد بن يعيش، ثنا يونس بن بكير، عن صالح بن رستم، عن عبد الله بن عبيد، عن عديسة بنت أهبان بن صيفي الغفاري

حدثنا معاذ بن المثنى، ثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، ثنا عبد الله بن عبيد مؤذن مسجد جرادان، عن عديسة بنت أهبان بن صيفي،

حدثنا القاسم بن عباد الخطابي، ثنا محمد بن سليمان لوين، ثنا حماد بن زيد، عن عبد الكبير الغفاري، قال: حدثتني عديسة بنت أهبان بن صيفي

اس روایت کی اسناد صحیح ہیں صحابی رسولﷺ اھبان بن صیفی کی بیٹی تک پھر وہ آگے اپنے والد کا حضرت علی سے یہ واقعہ بیان کرتی ہیں

ہم نے جو پہلی سند نقل کی ہے اس سے متن نقل کرتے ہیں :

حضرت عدیسہ بن اھبان بن صیفی فرماتی ہیں :

اس وقت جب حضرت علی بن ابو طالب بصر ہ تشریف لائے تو میرے باپ کے پاس بھی آئے ۔ آپؓ آکر دروازے پر کھڑے ہوگئے ، فرمایا : اسلام علیکم! کیا آپ نہیں نکلیں گے کہ اس قوم (امیر معاویہ ) کے خلاف میری مددکریں ؟

میرے باپ نے جواب دیا : کیوں نہیں ! اگر آپؓ چاہیں اے بیٹی(عدیسہ )مجھے تلوار پکڑاو، میں نے تلوار پیش کی ، اسے اپنی گود میں رکھ کر ہ سونتا ۔ عرض کی : میرے خلیل اور آپ ؓ کے چچازاد بھائیﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ جب مسلمان کے دو گروہوں کے درمیان جنگ ہو تو توُ تلوار لکڑی کی بنا لینا ، آپ نے اس تلوار کا کچھ حصہ باہر نکالا تھا ، وہ ابھی ان کی گود میں تھی ، عرض کی : اگر آپ ؓ چاہیں تو یہ تلوار ہاتھ میں لیکر آپؓ کے ساتھ نکلوں ۔

حضرت علی ؓ نے فرمایا : مجھے تیری ضرورت نہیں ہے ۔

[المعجم الكبير برقم : 863 تا 67]

اسکی سند کے رجال ثقہ صدوق ہیں لیکن بنیادی راوی جو عدیسہ جو صحابی رسولﷺ کی بیٹی ہیں انکے بارے اما م ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں مقبولہ لکھا ہے

اور انکے منہج کے مطابق مقبول کی اصطلاح کا اطلاق لین راوی پر ہوتا ہے کہ جسکی متابعت و شواہد میں روایت مل جائے تو وہ حسن ہوتی ہے

اس لیے علامہ شعیب الارنوو ط نے مسند احمد میں اس روایت کے حاشیہ میں حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں :

حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، عديسة بنت أهبان بن صيفي الغفارية روى لها الترمذي وابن ماجه هذا الحديث الواحد، وهي وإن لم يوثقها أحد، لكنها تابعية وابنة صحابي، وقد روى عنها جمع، وقد توبعت على هذا الحديث كما سيأتي في تخريجه،

یہ حدیث اپنے تمام طریق کے جمع ہونے کے سبب شواہد کی بنیاد پر حسن ہے ، عدیسہ بن اھبان بن صیفی الخفاریہ جنکی روایت کو اما م ترمذی ، امام ابن ماجہ نے فقط یہی روایت کی تخریج کی ہے اور کسی نے انکی توثیق نہیں ثابت ، لیکن یہ تابعیہ اور صحابی رسولﷺ اھبان کی بیٹی ہیں ، اور اور ان سے روایت کیا ہے اور انکی متابعت ہوئی ہے اسی حدیث میں کہ جیسا کہ اسکی سابقہ تخریج بیان کی ہے

[مسند احمد بن حنبل برقم : 20670، حاشیہ علامہ شعیب الارنووط]

اور یہ حکم نبی اکرمﷺ نے فقط ایک صحابی ابھان کو نہیں دیا تھا بلکہ حکم بن عمروؓ کو بھی دیا تھا

جسکی روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے

اور

امام حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی اسکو نقل کیا ہے

اما م حاکم بیان کرتے ہیں :

أخبرنا أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجر، ثنا يحيى بن عثمان بن صالح السهمي، ثنا محمد بن أبي السري العسقلاني، ثنا المعتمر بن سليمان، حدثني أبي، عن أبي حاجب، قال: كنت عند الحكم بن عمرو الغفاري إذ جاءه رسول علي بن أبي طالب رضي الله عنه، فقال: إن أمير المؤمنين، يقول لك: إنك أحق من أعاننا على هذا الأمر، فقال: إني سمعت خليلي ابن عمك رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا كان الأمر هكذا أو مثل هذا أن اتخذ سيفا من خشب»

ابو حاجب کہتے ہیں میں عمرو بن حکم کے پاس تھا حضرت علی کا قاصد آیا انکے پاس اس نے کہا حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ آپ زیادہ حقدار ہیں جو اس معاملہ (امیر معاویہ کے خلاف) میں میری مدد کریں ۔ انہوں (حضرت حکم بن عمرو) ے عرض کی : میں نے اپنے دوست اور آپؓ کے چچا رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :

” جب معاملہ اس طرح ہو تو لکڑی کی تلوار بنانا ، تو میں نے لکڑی کی تلوار بنائ ہے ۔

امام ذھبی نے اس روایت پر سکوت کیا ہے

[مستدرک الحاکم برقم: 5867 سكت عنه الذهبي في التلخيص]

اس روایت کے رجال کی تحقیق :

1۔پہلا راوی : أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله بن حمزة بن جميل البغدادي،

الشيخ، المسند، الثقة، محدث سمرقند، أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله بن حمزة بن جميل البغدادي، المشهور: بالجمال.

شیخ المسند ثقہ محدث سمر قند

[سیر اعلام النبلاء برقم : 325]

2۔دوسرا راوی : يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السهمي

: يحيى بن عثمان بن صالح السهمي

امام ذھبی انکو صدوق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

صدوق قال ابن أبي حاتم تكلم فيه

یہ صدوق ہیں ابن ابی حاتم نے کہاکہ اس کے بارے کلام کی گیا ہے

[ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق برقم : 375]

اور سیر اعلام میں ابن ابی حاتم کی جرح کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السهمي

العلامة، الحافظ، الأخباري، أبو زكريا السهمي المصري. قال ابن يونس: كان عالما بأخبار مصر، وبموت العلماء، حافظا للحديث

وقال ابن أبي حاتم: كتبت عنه، وكتب عنه أبي، وتكلموا فيه

قلت: هذا جرح غير مفسر، فلا يطرح به مثل هذا العالم

یحییٰ بن عثمان یہ علامہ حافظ اخباری (مورخ) ہیں ابن یونس کہتے ہیں کہ یہ تاریخی روایات کے عالم تھے مصر میں اور حافظ الحدیث تھے

ابن ابی حاتم نے کہا کہ میں نے ان سے لکھا ہے اور میرے والد (ابو حاتم) نے بھی ان سے لکھا ہے

اور انکے بارے کلام کیا گیا ہے

میں (الذھبی) کہتا ہوں کہ یہ جرح غیر مفسر ہے ایسی جروحات سے اس درجے کے عالم کو مجروح نہیں کیا جا سکتا

[سیر اعلام النبلاء برقم : 171]

3۔تیسرا راوی : محمد بن أبي السري متوكل العسقلاني

امام ذھبی انکے بارے کہتے ہیں :

الحافظ، العالم، الصادق، أبو عبد الله بن متوكل العسقلاني

[سیراعلام النبلاء برقم : 64]

4۔چوتھا راوی : معتمر بن سليمان بن طرخان التيمي

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

الإمام، الحافظ، القدوة، أبو محمد ابن الإمام أبي المعتمر التيمي

كان من كبار العلماء.

قال ابن معين: ثقة.

وقال أبو حاتم: ثقة، صدوق.

وقال ابن سعد: كان ثقة،

یہ امام حافظ ہیں کبار علماء میں سے ایک تھے

ابن معین نے انکو ثقہ قرار دیا ، ایسے ہی ابو حاتم ، نے صدوق اور امام ابن سعد نے بھی ثقہ قرار دیا

[سیر اعلام النبلاء برقم: 123]

5۔پانچواں راوی: سليمان بن طرخان أبو المعتمر التيمي

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

الإمام، شيخ الإسلام، أبو المعتمر التيمي، البصري.

وكان مقدما في العلم والعمل.

وقال أحمد بن حنبل: هو ثقة

وقال يحيى بن معين، والنسائي، وغيرهما: ثقة.

قال العجلي: ثقة، من خيار أهل البصرة.

یہ علم اور عمل میں مقدم تھے

امام احمد نے انکو ثقہ قرار دیا ، امام ابن معین ، نسائی وغیرہ نے انکو ثقہ قرار دیا

اور اما م عجلی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں اور اہل بصرہ کے اہل خیر لوگوں میں سے تھے

[سیر اعلام النبلاء برقم: 92]

6۔چھٹا راوی : زرارة بن أوفى أبو حاجب العامري

امام ذھبی کہتے ہیں :

الإمام الكبير، قاضي البصرة، أبو حاجب العامري، البصري، أحد الأعلام.

سمع: عمران بن حصين، وأبا هريرة، وابن عباس.

روى عنه: أيوب السختياني، وقتادة، وبهز بن حكيم، وعوف الأعرابي، وآخرون.

وثقه: النسائي، وغيره.

امام الکبیر بصرہ کے قاضی اور اعلام میں سے ایک تھے

انہوں نے عمران بن حصین ، حضرت ابو ھریرہ اور ابن عباس سے سماع کیا ہے

ان سے ایوب سختانی ، قتادہ ، اور دیگر لوگ ہیں

انکو امام نسائی وغیرہ نے ثقہ قرا ردیا ہے

[سیر اعلام النبلاء برقم: 209]

{تبصرہ }

اس تحقیق سے معلوم ہوا یہ روایت بھی ثقہ راویان سے ثابت ہے

اور یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کی جماعت میں یہ طریقہ رائج نہیں تھا کہ عمار بن یاسر آپکے گروہ میں ہیں آپ تو پکے حق پر ہیں چلیں ساتھ لڑیں

یا

آپکے فضائل تو سب سے زیادہ ہیں اور آپکے علاوہ کون حق پر ہو سکتا ہے

یا

آپ تو اہلبیت والے ہیں اور مولا ہیں ہمارے چلیں ساتھ جنگ کریں امیر کے لشکر سے

بلکہ ان صحابہؓ نے حکم رسول ﷺ اور انکی اطاعت کو مقدم کیا کہ نبی کریمﷺ نے ہم غیب سے پہلے خبر بتا دی تھی مستقبل کی اور لڑائی سے دور رہنے کو کہا

اور امیر معاویہ اور حضرت علی دونوں کے گروہ کو مسلمین کا گروہ قرار دیکر انکے خلاف کسی بھی جماعت میں شامل ہونے سے منع کیا تھا

جس سے ثابت ہوا کہ حضرت طلحہ و زبیر اور امیر معاویہ کا اپنا اجتیہادی فیصلہ تھا اور دوسری طرف حضرت علی کا اجتیہادی فیصلہ تھا

اور آج کے تفضیلی جو یہ طعنہ دیتے ہیں جب نبی اکرمﷺ کی حدیث ان تک پہنچ چکی کہ عمار کو باغی گروہ قتل کریگا تو اسکو تسلیم کیوں نہ کیا امیر معاویہ نے ؟

تو ایسے جاہل تفضیلیوں کے لیےسوال ہے

جب حضرت علی تک حدیث رسولﷺ پہنچ چکی حضرت اھبان اور حضرت حکم بن عمروؓ کی زبانی تو انہوں نے کیوں تسلیم نہ کیا ؟

جبکہ اسکا تحقیقی جواب وہی ہے کہ دونوں حضرات اپنے اجتیہاد کی بنیاد پر قول رسولﷺ کی تاویل کی اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق

نہ ہی گروہ عمار کو قتل کرنے والا امیر معاویہ کا گروہ تھا بلکہ ان میں شامل خارجی تھے چھپے ہوئے

اور

نہ ہی حضرت علی کی طرف سے حضرت زبیرکو قتل کرنے والا مولا علی کا بندہ تھا وہ بھی خارجی تھا اور حضرت علی کی جماعت میں چھپا ہوا تھا

جبکہ نبی اکرمﷺ نے دونوں لشکروں کو مسلمین کا گروہ قرار دیا اوپر بیان کردہ روایات کے تحت اور بخاری کی مشہور روایت کے تحت بھی جس میں امام حسن کے صلح کروانے کی غیبی خبر بیان کی رسولﷺ نے

اللہ ہم کو صحابہ اور اہل بیت کا محب بنائے آمین اور کھٹملوں اور جھٹملوں کی جہالت سے دور رکھے

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی