نفتالی بینیٹ کی جیت اوراسرائیل کا عربی ٹویٹ

✍️ محمد حیدر رضا

جیسا کہ پچھلے کئی ہفتوں سے بین الاقوامی میڈیا میں قیاس آرائی چل رہی تھی، 12 سال تک حکومت کرنے کے بعد بالآخر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نتنیاہو کو پارلیمانی انتخابات میں شکست ہوئی اور ان کے حریف نفتالي بینیٹ کو فتح.

بہت سے لوگ بنجامین نتنیاہو کی ہار پر خوشی منا رہے. شاید انہیں پتہ نہیں کہ عرب اور فلسطین کے تئیں نفتالی بینیٹ کے خیالات خود نتنیاہو سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں. 2013 میں جب اسرائیل نے 104 فلسطینیوں کو جیل سے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا، تب بینیٹ وزیر براے صنعت و تجارت ہوا کرتے تھے. اس خبر پر رد عمل پیش کرتے ہوے مقدمہ چلانے کی بجاے فلسطینی قیدیوں کے قتل کی وکالت کی تھی اور یہ کہا تھا: “اگر آپ دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں تو انہیں مار ڈالنا بھی چاہیے.” اس بیان پر جب مشیر براے قومی سلامتی نے کہا کہ ایسا کرنا غیر قانونی ہوگا، تو بینیٹ نے اس کا جواب دیا تھا: “میں نے اپنی زندگی میں بہت سے عرب مار ڈالے ہیں. اور اس میں کوئی بات نہیں.” (تفصیل کے لیے کمینٹ باکس میں ہفنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پڑھیے)

نفتالی بینیٹ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کے وجود کے لیے خودکشی قرار دیتے ہیں. یہاں تک کہ 2015 میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بینیٹ نے کہا تھا:” اگر عالمی برادری دباؤ ڈالتی ہے، پھر بھی برضا و رغبت ہم یہ خود کشی نہیں کریں گے.”

کل بینیٹ نے وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا. اور آج عربی زبان میں اسرائیل کے آفیشیل ٹویٹر ہینڈل نے ایک ٹویٹ کر یہ لکھا: “کیا آپ کو پتہ ہے کہ قرآن میں اجمالی طور پر 87 مرتبہ اسرائیل کا ذکر آیا، جب کہ لفظ فلسطین کا ذکر ایک بار بھی نہیں ہوا.” اس پر بہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے حساب سے جواب دیا ہے. میں نے اپنے جواب میں یہ کہا کہ اللہ عزوجل نے ہمیں یہودیوں کی جن باتوں کے بارے میں بتایا، ان میں ایک یہ ہے کہ وہ توریت میں تحریف کیا کرتے تھے. اور ہم اپنے سر کی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے، اس لیے کہ جو کچھ آپ نے اس ٹویٹ میں کیا، وہ بھی معنوی تحریف ہی ہے. وجہ یہ ہے کہ قرآن حکیم میں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب علی نبینا وعلیہ السلام ہیں، وہ قابض اسرائیلی ریاست نہیں جو آپ نے مراد لیا ہے.

یہ تو خیر، اس ٹویٹ کا مختصر سا جواب ہے. لیکن اسرائیل کے آفیشیل ہینڈل سے یہ ٹویٹ اس بات کی غمازی کر رہا جو بینیٹ نے 2015 کے مذکورہ انٹرویو میں آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے کہی تھی. کمال عیاری کے ساتھ یہ ٹویٹ عربی میں کیا گیا ہے تاکہ کم از کم ان بھولے بھالے فلسطینی اور عربوں کو گمراہ کیا جا سکے جن کو مذہب کی اتنی معلومات نہیں.

پچھلے دنوں اسرائیل-فلسطین جنگ کے موقعہ پر بھی اسی قسم کی حرکت اس ٹویٹر ہینڈل نے کی تھی، جب سورہ فیل کی کچھ آیات ٹویٹ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ کس طرح اسرائیل نے اللہ کی مدد سے حماس کو شکست دی. ایسے میں ضرورت ہے کہ اس مکار قوم کی مکاریوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے تاکہ قرآن مجید کے ساتھ ان کے اس کھلواڑ پر قدغن لگ سکے.

NaftaliBennett #Israel