مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

والدین کی انگلی پکڑ کر دربار رسالت کا سفر

دینی اخوت,تولیدی رشتے,

نکاحی رشتے ودیگر روابط وتعلقات کے اسرار ورموز پر مشتمل یہ چشم کشا تحریر بہت کچھ بیان کرتی ہے۔یہ ارباب فکر ونظر کے لئے سوغات بے نظیر اور تحفۂ دل آویز ہے۔بعض رشتے کبھی بعض انسانوں کو راہ حق سے برگشتہ کر دیتے ہیں۔ایسے مواقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ہم نے تصورات وتفکرات کو صحیح سمت دکھانے کی کوشش کی ہے:واللہ الہادی وہو المستعان

ع/ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

اس مضمون میں بیان کردہ مختلف قسم کے روابط وتعلقات کی حیثیت,دینی اخوت کی ترجیحی صورت اور اخوت دینی کی علت پر غور کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالی فکر ونظر کو صحیح سمت مل جائے گی۔یہ تحریر عشق پیمبر کی ترغیب دیتی ہے,فکر ونظر کے تزکیہ وتطہیر کا سامان فراہم کرتی ہے,اور والدین کی مختلف الجہات حیثیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ہمارے والدین ہمارے مربی بھی ہیں اور معلم بھی۔مومن ماں باپ اپنے بچوں کی دنیا وآخرت کی بھلائیوں کا سبب اور وسیلہ ہوتے ہیں۔

حضور اقدس شفیع محشر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔اس کے والدین اسے یہودی,نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

(ما من مولود الا یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ)

(صحیح البخاری)

اگر والدین یہودی,نصرانی,مجوسی,بت پرست وغیرہ ہوں تو اپنے بچوں کو بھی اسی مذہب کی تعلیم دیتے ہیں۔اسی طرح اگر والدین مومن ہوں تو مذہب اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔اسلامی کلمہ اور اسلامی احکام سکھاتے ہیں۔

اگر والدین سنی صحیح العقیدہ ہوں تو بچے بھی مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔والدین اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے سنی مدارس اور سنی معلمین کے پاس بھیجتے ہیں۔

اگر والدین مالدار ہوں تو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاتے ہیں۔ان کے لئے بطور میراث بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔

والدین ہی کے سبب انسانوں سے تولیدی رشتے قائم ہوتے ہیں۔والدین ہی نکاح کا انتظام کرتے ہیں,پس نکاحی رشتوں میں بھی والدین کا عمل دخل ہے۔مومن والدین ہی بچوں کو دین اسلام سے منسلک کرتے ہیں,جس کے سبب سارے مسلمانوں سے دینی اخوت قائم ہوجاتی ہے۔والدین ہی تعلیم گاہوں میں تعلیم وتربیت کے لئے بھیجتے ہیں,جس کے سبب استاذی وشاگردی کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔

الحاصل والدین مربی بھی ہیں اور معلم اول بھی,محسن بھی ہیں اور رہنمائے اول بھی۔ماں باپ بچپن ہی میں اپنے بچوں کو حضور اقدس نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا کر آں حضرت علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے بچوں کا ایمانی تعلق قائم کر دیتے ہیں,پھر ان کا کلمہ پڑھنے اور ان کے مذہب کو قبول کرنے کے سبب ان تمام سے تعلق قائم ہو جاتا ہے,جن کا تعلق اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)سے ہو۔

حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام,حضرات صحابہ کرام واہل بیت عظام,جملہ اولیائے امت وعلمائے شریعت اور افراد ملت سے ایمان بالرسول علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطہ سے ایمانی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی روشن حقیقت ہے کہ اللہ تعالی سے بندوں کا ایمانی تعلق حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وسیلے سے ہوتا ہے۔اللہ تعالی کی ذات پاک اس قدر بلند رتبہ ہے کہ حضرات انبیا ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی کا براہ راست اور بلا واسطہ تعلق رب تعالی سے نہیں۔

بندوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے اللہ تعالی حضرات انبیا ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرماتا ہے۔وہ بندوں سے ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے۔جب بندہ اللہ کے نبی علیہ السلام کو نبی مان لیتا ہے,تب وہ مومن ہو جاتا ہے اور اس کا ایمانی تعلق رب تعالی سے قائم ہو جاتا ہے۔ہر امتی کا اللہ تعالی سے ایمانی تعلق اپنے نبی ورسول علیہ السلام کے وسیلے سے ہوتا ہے۔اللہ تعالی کی معرفت بھی ہر امتی کو اپنے پیغمبر ونبی کے وسیلہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

مومن والدین اپنے بچوں کے لئے دنیا وآخرت دونوں منزل کی بھلائیوں اور حسنات وبرکات کا سامان کر جاتے ہیں۔اس طرح دونوں جہاں کی بھلائیوں کے لئے مومن والدین وسیلہ اور واسطہ ںہیں,کیوں کہ مومن والدین پرورش ونگہداشت,تعلیم وتربیت اور مذہب حق سے منسلک کر دیتے ہیں۔

جب والدین نے ہمیں کلمہ اسلام کی تلقین کی۔ہم اسلامی کلمہ پڑھ کر مومن ہو گئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایمانی تعلق قائم ہو گیا,بلکہ مومن والدین کا بچہ وقت پیدائش سے ہی مومن تسلیم کیا جاتا ہے۔

امت مسلمہ کےتمام افراد آپس میں بھائی بھائی ہیں,پس جو بھی ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھنے والے ہیں,ان سب سے ہماری دینی اخوت اسی وقت قائم ہو گئی,جب سے پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام سے ایمانی تعلق قائم ہوا تھا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر قیامت تک کے تمام مومنین ہمارے دینی بھائی ہو گئے۔

خونی رشتے اور دینی رشتے

پیدائش کے سبب والدین سے براہ راست یعنی بلا واسطہ تعلق ہوتا ہے۔والدین کے وسیلہ اور واسطہ سے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام وحضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا تک تمام آبا واجداد اور امہات وجدات سے خونی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اپنی اولاد سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور اولاد کی آل واولاد سے اپنی اولاد کے واسطہ اور وسیلہ سے تعلق ہو جاتا ہے۔

نہ حضرت آدم وحوا علیہما السلام تک تمام آبا واجداد اور تمام امہات وجدات کو ہم جانتے ہیں,نہ ہی قیامت تک اپنی نسل میں ہونے والی آل واولاد کا ہمیں کچھ علم ہے۔

جس طرح والدین کے سبب تمام آبا وامہات سے ہمارے رشتے ہو گئے۔اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان کے سبب اللہ تعالی سے بھی ایمانی تعلق قائم ہو گیا اور حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام سے بھی ایمانی تعلق قائم ہو گیا۔

اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر قیامت تک کے مومنین ہمارے دینی بھائی ہو گئے۔سب کے لئے دینی اخوت ثابت ہوگئی۔گرچہ درجات ومراتب سب کے یکساں نہیں۔

ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام تمام نبیوں کے بھی نبی ہیں,پس اس اعتبار سے تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امتیں بھی ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی امت میں شامل وداخل ہیں۔اس طرح حضرت آدم علی رسولنا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے عہد سے قیامت تک کے تمام مومنین سے اخوت دینی ثابت ہو گئی۔

کسی مسلمان کے ذاتی تعلقات تمام مسلمانوں سے نہیں ہو سکتے۔تمام مومنین سے ایمان بالرسول علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے سبب تعلق ہوتا ہے۔عہد ماضی اور زمان مستقبل کے مسلمانوں سے ہمارے ذاتی تعلق کا سوال ہی نہیں,کیوں کہ نہ وہ مومنین ہمارے زمانے میں ہیں,نہ ہم نے ان کو دیکھا,نہ کوئی ملاقات ہے,پس ذاتی تعلق کی کوئی صورت نہیں۔ہماری زندگی میں بھی مومنین ساری دنیا میں آباد ہیں۔سب سے ذاتی تعلق نہیں,لیکن سب سے ایمانی تعلق اور دینی اخوت ضرور ہے۔

فلسطین وبرما یا دنیا کے کسی ملک کے مسلمانوں پر افتاد پڑتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمان ٹڑپ اٹھتے ہیں۔یہ کیفیت رشتہ ایمانی اور اخوت دینی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔

تولیدی قرابت,دینی اخوت اور اضافی تعلقات

انسان کے تعلقات انسانوں سے مختلف اسباب کی بنا پر ہوتے ہیں۔ایمانی رشتہ اور خونی رشتہ کے علاوہ بھی بہت سے رشتے اور تعلقات ہیں۔

مثلا پیری مریدی کا رشتہ,استاذی وشاگردی کا رشتہ,دوستی ومحبت کا تعلق,پڑوسی وہم پیشہ ہونا۔الغرض اس قسم کے تعلقات کی ایک لمبی فہرست ہے۔

تولیدی رشتے بہت قوی ہوتے ہیں۔بہت سے رشتے ایسے ہیں جو بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں,مثلا کبھی کسی سے دوستی ومحبت ہوتی ہے,پھر دشمنی وعداوت ہو جاتی ہے۔نکاحی رشتے بھی طلاق وخلع کے سبب ٹوٹ جاتے ہیں۔یہ سب باتیں بدیہی ہیں۔وضاحت کی ضرورت نہیں۔

اخوت دینی کی وسعت وقوت

اخوت دینی بہت وسیع بھی ہے اور انتہائی قوی بھی۔اگر کسی کے کفر وارتداد کے سبب اس سے اخوت دینی ختم ہو جائے تو اس کے احکام بدل جاتے ہیں,گرچہ اس سے خونی قرابت ہو۔اخوت دینی ختم ہونے کے سبب والدین کے بھی احکام بدل جاتے ہیں,اور استاذ وپیر اورجملہ احباب واقارب کے احکام بھی۔

اسی نکتہ پر غور نہ کرنے کے سبب دیابنہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس مفہوم کو اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے”تمہید ایمان”میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

اسی طرح دوست یا استاذ یا اہل قرابت پہلے ہی سے کافر ہوں تو ان کے احکام بھی جداگانہ ہوتے ہیں۔دینی اخوت کے سبب مومن احباب واقارب اور مومن استاذ ومعلم کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں۔مومن رشتہ دار, دوست ,معلم واستاذ اور ہر مومن کا ذبیحہ کھانا جائز ہے۔اگر کوئی کافر استاذ بھی ہو تو اس کا ذبیحہ کھانا حرام ہے۔

کافر استاذ سے ذاتی تعلق ہوتا ہے۔ دینی اخوت اور ایمانی تعلق نہیں ہوتا۔اسی طرح کسی بھی کافر سے اخوت دینی یا ایمانی تعلق نہیں ہوتا۔مذہب اسلام نے ذاتی تعلقات کے حدود مقرر فرمائے ہیں,ان حدود سے باہر جانا ہلاکت وبربادی ہے۔

اخوت دینی ایمان بالرسول علیہ الصلوۃ والسلام کے سبب حاصل ہوتی ہے۔اگر کفر وارتداد کے سبب اخوت دینی ختم ہو جائے,تو احکام بدل جاتے ہیں۔اسی طرح اگر پہلے ہی سے اخوت دینی موجودنہیں تھی تو بھی احکام جداگانہ ہوتے ہیں۔

بعض علمائے کیرلا اور بعض علمائے عرب کو بھارت کے وہابیہ اور دیابنہ سے سند حدیث,سند فقہ وغیرہ حاصل ہے,اس لئے بعض ملیباری اور بعض عربی دیابنہ کے حق میں کچھ نرم نظر آتے ہیں,حالاں کہ ان حضرات نے اس وقت سندیں حاصل کی تھیں,جب ان حضرات کو دیابنہ کے کفر وضلالت کا علم نہیں تھا۔

جب کوئی شخص حضور اقدس سر کار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا سے منقطع ہو تو اس کی سند کا سلسلہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک ہرگز متصل نہیں ہو گا۔جب سلسلہ متصل ہی نہ ہو تو اس سند سے برکت بھی حاصل نہیں ہو گی۔ایسی تمام سندیں سلسلہ سافل میں ہی منقطع ہیں۔

اسی طرح پیر کا سلسلہ منقطع ہو تو بھی برکت حاصل نہیں ہو گی,ہھر ایسی بیعت وخلافت اور ایسی سندوں کا بوجھ سر پر اٹھائے پھرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔برکت کے لئے سلسلہ کا متصل ہونا ضروری ہے۔

ایمان قبول کرنے کے لئے سلسلہ کا متصل ہونا ضروری نہیں۔مثال کے طور ایک مجوسی نے دوسرے مجوسی کی ترغیب پر اسلام قبول کیا تو ایمان لانے والا مومن ہو گیا,لیکن اسلام کی ترغیب دینے والے مجوسی کے لئے دینی اخوت ثابت نہیں ہو گی۔

اسی طرح کسی کافر ومرتد استاذ نے دینیات کی تعلیم دی,جیسے مستشرقین یونیورسٹیز میں اسلامی فقہ,حدیث وتفسیر وغیرہ پڑھاتے ہیں,لیکن تعلیم دینیات کے سبب ان مستشرقین کے لئے اخوت دینی حاصل نہیں ہو گی۔

اسی طرح کفر وارتداد میں مبتلا کسی پیر سے مرید ہو گیا تو بیعت منعقد نہیں ہو گی,کیوں کہ کفر وارتداد کے سبب سلسلہ منقطع ہے۔جب کہ پیر کا سلسلہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک متصل ہونا ضروری ہے۔

اگر اخوت دینی کے مذکورہ بالا مفہوم پر غور کریں تو واضح ہو جائے گا کہ اللہ تعالی سے بھی ہمارا ایمانی تعلق ہمارے رسول علیہ السلام کے وسیلہ سے ہے اور جملہ انبیائے کرام,ملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام سے بھی ایمانی تعلق انہیں کے واسطہ سے ہے۔

جملہ صحابہ کرام,اہل بیت عظام,اولیا وجملہ مجتہدین اور علما وجملہ مومنین سے بھی انھیں کے سبب ایمانی تعلق اور دینی اخوت ہے۔

آخرت کی ساری نعمتوں کا دار ومدار بھی ایمان بالرسول علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہے,بلکہ دنیاوی نعمتیں بھی انھیں کے دست اقدس سے تقسیم ہوتی ہیں۔وجہ تخلیق کائنات بھی انھیں کی ذات با برکات ہے۔اہل نظر ہر چہار سمت جلوۂ حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناکا مشاہدہ کرتے ہیں۔

ما وشما تصور حبیب داور شفیع محشر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں مستغرق ہو جائیں تو یہی ہماری معراج ہے,پھر ان شاء اللہ تعالی ہمارا قلب وذہن ذات پاک مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کی جانب ایسا مائل وراغب ہو جائے گا کہ واپسی کو وہ اپنی موت تصور کرے گا۔محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی خوشبو سے ہمارا باطن مشک بار ہو جائے گا۔

ہر سنی صحیح العقیدہ کے پاکیزہ قلب میں عشق محمدی کا نور ضرور محفوظ ہوتاہے,لیکن جب عطر کی شیشی بند ہو تو خوشبو محسوس نہیں ہوتی۔شیشی کھول کر عطر لگائیں,تب فضا معطر ہو جاتی ہے۔

ما وشما بھی اہنے دلوں میں محفوظ عشق مصطفوی کے نور بے نظیر کی پر تنویر شعاعوں سے اپنے باطن کو خوب روشن ومنور کریں,تاکہ ہمارے دم قدم سے ایک جہاں روشن ومنور ہو جائے۔

جو ہو سکے تو کرو چاک پردۂ ظلمت

ستارہ بن کے چمکنے سے کچھ نہیں ہوتا

والدین کی انگلی پکڑ کر ہم دربار رسالت تک ضرور پہنچ جاتے ہیں,لیکن شعور بڑھتا جاتا ہے اور ہم ادھر ادھر متوجہ ہوتے جاتے ہیں۔اب دربار اعظم کی طرف واپسی کے لئے ہمیں دوبارہ سامان سفر تیار کرناہو گا۔عشاق حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کے قافلے مختلف سمتوں سے حرم مصطفوی کی جانب کوچ کرتے رہتے ہیں۔کسی قافلے میں شریک ہو جاؤ۔اہل ہند کے قافلے بریلی سے احرام عشق باندھ کر سوئے حرم روانہ ہوتے ہیں۔آؤ دیار حبیب کی طرف۔

ہاں,پھر وہاں سے واپس نہ آنا۔وہاں تمام مقبولان بارگاہ ملتے رہیں گے,پھر واپس کیوں آؤ گے؟کہاں جاؤ گے؟وہی مرجع خلائق ہیں۔

(صلوات اللہ تعالی وسلامہ علی رسولنا وآلہ واصحابہ واولیاء امتہ وعلماء ملتہ دائما ابدا)

مسائل دینیہ اور احکام شرعیہ کے لئے امام احمد رضا قادری اور علمائے اہل سنت وجماعت کی تصانیف وتالیفات کافی ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15-جون 2021