أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں (بھی) مدد فرمائیں گے اور اس دن (بھی) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں (بھی) مدد فرمائیں گے اور اس دن (بھی) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو ان کی معذرت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ان کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے بُرا گھر ہوگا اور بیشک ہم نے موسیٰ کو (کتاب) ہدایت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا (وہ) عقل والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے (المومن : 51-54)

رسولوں اور مؤمنوں کی نصرت کے محامل

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آل فرعون کے مرد مومن کو فرعون کی سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد فرمائے گا، اس آیت میں رسولوں سے اور ایمان والوں سے کون مراد ہیں ؟ اس میں مفسرین کے دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ رسولوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور ایمان والوں سے مراد آل فرعون کا مرد مومن ہے، یہ دونوں اگرچہ واحد ہیں لیکن ان کو تعظیماً جمع سے تعبیر فرمایا ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ رسل سے مراد عام رسول ہیں اور ” الذین امنو “ سے مراد عام مؤمنین ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی جو مدد فرمائے گا اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ رسولوں اور ایمان والوں کی دلائل اور حجت سے مدد فرمائے گا کیونکہ دلائل اور حجت سے جو مدد کی جاتی ہے وہ ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ ان کی تعریف وتحسین سے مدد فرمائے گا، کیونکہ ظالم اس پر قادر نہیں ہے کہ لوگوں کی زبانوں سے ان کی تعریف وتحسین کو سلب کرلے۔

(٣) بعض اوقات مردان راہ خدا کو حق کی راہ میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں لیکن وہ بالآخر ان کے لیے ترقی درجات کی موجب ہوتی ہیں۔

(٤) اہل باطل کے مرنے کے بعد ان کے آثار مٹ جاتے ہیں اور حق گو ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، لوگ ان کے نیک اعمال کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے اجر وثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

(٥) اس نصرت سے مراد اختصار اور انتقام بھی ہوسکتا ہے یعنی جن لوگوں نے رسولوں کو اور مؤمنوں کو اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لے گا، خواہ ان کے سامنے یا ان کے پس پشت یا ان کی وفات کے بعد جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا اور حضرت شعیا (علیہم السلام) کے اعاء اور قاتلوں سے انتقام لیا اسی طرح نمرود کو اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا اور جن یہودیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکایا تھا، ان پر اللہ تعالیٰ نے رومیوں کو مسلط کردیا، جنہوں نے یہودیوں کی اہانت کی اور ان کو ذلیل کردیا اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے، وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں گے اور مسیح دجال کو اور یہودیوں کو قتل کریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے، اس وقت اسلام کے سوا کوئی مذہب قبول نہیں کیا جائے گا اور زمانہ قدیم سے اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق میں یہی سنت ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد فرماتا ہے اور جن کو ایذاء دے اس سے انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے،

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جس نے میری ولی سے عداوت رکھی اس نے مجھ سے اعلان جنگ کردیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٠٢)

اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے : میں اپنے اولیاء کے لیے اس طرح حملہ کرتا ہوں جس طرح شیر حملہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو اور عاد اور ثمود کو اور اصحاب الرس کو اور قوم لوط کو اور اہل مدین کو اور ان جیسے دیگر دشمنان اسلام کو ہلاک کردیا۔ جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور ان کے درمیان جو مؤمنین تھے ان کو نجات دے دی، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کی نصرت فرمائی اور جن لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ سے عداوت رکھی ان سب کو مغلوب اور آپ کو ان سب پر غالب کردیا، آپ کے دین کو تمام ادیان پر سر بلند کردیا، آپ کو ہجرت کرنے کا حکم دیا، جب آپ مدینہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو آپ کا اعوان اور انصار بنادیا، پھر جنگ بدر کے دن آپ کی مدد فرمائی اور حملہ آور کافروں کو شکست دی، ان میں سے ستر کافر مارے گئے اور ستر قید کیے گئے، پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے مکہ پر آپ کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور اپنے شہر میں تہنچ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ نے اس حرمت والے شہر کو کفر اور سرک سے پاک کردیا اور تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر فرمان ہوگیا اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمالی اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب خلفاء ہوئے، انہوں نے اللہ عزوجل کے دین کی تبلیغ کی اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، حتیٰ کہ زمین کے تمام مشارق اور مغارب میں دین اسلام پھیل گیا اور یوں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوگیا کہ اللہ عزوجل اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد فرماتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٩١، دارالفکر، ١٤١٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 51