أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

سو اللہ نے اس کو ان کی سازشوں (کے شر) سے محفوظ رکھا اور آل فرعون کو سخت عذاب نے گھیر لیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

سو اللہ نے اس کو ان کی سازشوں (کے شر) سے محفوظ رکھا اور آل فرعون کو سخت عذاب نے گھیر لیا صبح اور شام ان کو دوزخ کی آگ پر پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آئے گی (یہ حکم دیا جائے گا کہ) آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں ڈال دو (المومن : 45-46)

آل فرعون کے مرد مومن کو فرعون کے شر سے محفوظ رکھنا

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیتوں میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اس مرد مومن نے بہت جرأت اور حوصلہ کے ساتھ حق کو بیان کیا اور کسی کے دبائو میں آئے بغیر اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر دلائل بیان فرمائے اور المومن : ٣٤ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن کو فرعون اور اس کے درباریوں کی سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور مقبول بندوں کی اسی طرح حفاظت فرماتا ہے، فرعون نے اس مرد مومن کو جو عذاب پہنچانا چاہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے وہ عذاب دور رکھا۔

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مرد مومن قبطی تھی اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سمندر پار کر گیا اور غرق ہونے سے محفوظ رہا اور فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوگیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٤٢٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے اس سلسلہ میں دوسرا قول یہ نقل کیا ہے :

آل فرعون کا وہ مرد مومن فرعون کے پاس سے بھاگ کر ایک پہاڑ پر گیا اور وہاں نماز پڑھ رہا تھا، فرعون نے اس کی تلاش میں اپنے سپاہیوں کو بھیجا، جس وقت اس کے سپاہی وہاں پہنچے تو وہ مرد مومن نماز میں تھا اور جنگل کے درندے اور وحشی جانور اس پر پہرہ دے رہے تھے، وہ سپاہی ان کے پہرے کی وجہ سے اس کے قریب نہ جاسکے، انہوں نے جاکر فرعون کو اس واقعہ کی خبر دی فرعون ان کی ناکامی کی خبر سن کر غضب ناک ہوا اور اس نے ان سپاہیوں کو قتل کردیا۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ١٥٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

امام رازی نے اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے یہ سازش کی تھی کہ اس مرد مومن کو حضرت موسیٰ سے برگشتہ کرکے فرعون کے دین کی طرف لایا جائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سازش کو ناکام کردیا اور آل فرعون کا وہ مرد مومن تاحیات اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے عقیدہ پر قائم رہا۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٢١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 45