أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡۤا اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ؕ قَالُوۡا بَلٰى ؕ قَالُوۡا‌ فَادۡعُوۡا ۚ وَمَا دُعٰٓـؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ۞

ترجمہ:

محافظ کہیں گے : کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ دوزخی کہیں گے : کیوں نہیں، محافظ کہیں گے : پھر تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض گمراہی میں ہوتی ہے ؏

تفسیر:

المومن : ٥٠ میں فرمایا : ” محافظ کہیں گے : کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ دوزخی کہیں گے : کیوں نہیں، محافظ کہیں گے : پھر تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض گمراہی میں ہوتی ہے “ محافظوں کے اس قول میں یہ دلیل ہے کہ انسان احکام کا اسی وقت مکلف ہوتا ہے جب اللہ کے رسول احکام شرعیہ لے کر آجائیں اور رسولوں کے آنے سے پہلے انسان کے لیے ہر فعل مباح ہے اور کوئی کام اس کے لیے شرعاً ممنوع نہیں ہے کیونکہ ابھی احکام شرعیہ نازل ہی نہیں ہوئے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔

آخرت میں کفار کی دعائوں کو قبول نہ فرمانا آیا اللہ تعالیٰ کے رحیم وکریم ہونے کے منافی ہے یا نہیں ؟

امام فخرالدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس آیت پر ایک اعتراض کرکے اس کا جواب لکھا ہے، امام رازی لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچنا تو محال ہے، اس لیے یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان کفار اور مشرکین کے جرائم سے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچی ہو اور اس ایذاء کا انتقام لینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر سخت اور دائمی عذاب دے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ان مشرکین کو اس قدر عظیم عذاب دینا محض ان کو ضرر پہنچانا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ ہے نہ اس کے کسی بندو کو، اور یہ ایسا ضرر ہے جس میں کسی اعتبار سے کوئی نفع نہیں ہے تو اس رحیم وکریم کے یہ کیسے لائق ہے کہ وہ ان مشرکین کو دئاماً ابد الٰا باد تک درد اور ضرر پہنچائے اور ان کی کسی حاجت پر رحم نہ فرمائے اور ان کی کوئی دعا قبول نہ فرمائے اور ان کے گڑگڑانے اور عاجزی کرنے پر کوئی توجہ فرمائے اور اگر اسانوں میں سے کوئی انتہائی سنگ دل اور شقی انسان بھی اپنے کسی غلام کو ایسی سخت سزا دیتا اور اس کا خادم اس سے رو رو کر معانی مانگتا تو وہ ضرور اس پر رحم کرکے اس کو معاف کردیتا جب کہ اس انسان کو اپنے خادم کی خدمت سے نفع ہوتا ہے اور اس کی نافرمانی سے اس کو نقصان ہوتا ہے اور اس انسان کو اپنے اس خادم کی احتیاج بھی ہوتی ہے تو وہ اکرم الاکر میں جو اپنے بندوں سے بالکل بےنیاز ہے، جسے ان کی مطلقاً کوئی احتیاج نہیں ہے اس کو کب زیبا ہے کہ وہ ان مشرکین کو ابدالاٰ باد تک سزا دیتا رہے اور ان کو درد پہنچاتا رہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کی کوئی غرض نہیں ہوتی اور وہ اپنے کسی فعل پر جواب دہ نہیں ہے ” لا یسئل عما یعفل وھم یسئلون “ (الانبیاء : 23) اور جب اس نے اپنی اس کتاب میں یہ فیصلہ فرما دیا تو اس کا اقرار کرنا واجب ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٢٣، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ امام رازی پر رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی اس تقریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مشرکین کے اس قدر گڑگڑا کر فریاد کرنے، آہ وزاری سے معافی مانگنے اور رو رو کر توبہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کا ان کو معاف نہ فرمانا اور ان کو مسلسل ابدالاٰ باد تک درد اور اذیت میں مبتلا رکھنا اس کی شان کریمی کے لائق تو نہیں ہے، وہ بےنیاز ہے اسے مشرکین کو سزا دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کے مقابلہ میں کوئی سخت سے سخت دل کا انسان ہوتا تو وہ بھی اپنے غلام کو معاف کردیتا اور وہ اکرم الاکرمین ہو کر اپنے بندہ کو معاف نہیں کررہا، سو ایسی بےمہری اس کے لائق تو نہیں ہے لیکن وہ حاکم مطلق ہے، اس پر کوئی اعتراض ہو نہیں سکتا، اس کے جناب میں کسی چون وچرا کی مجال نہیں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ امام رازی نے اللہ تعالیٰ کی بےرحمی کی تصویر تو بہت تفصیل سے کھینچی ہے کفار اور مشرکین کے جرائم کی سنگینی نہیں بیان کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان کی ضرورت اور راحت کی ہر چیز کو مہیا کی، مسلمانوں اور اپنے فرمانبردار بندوں زیادہ ان کو نعمتیں عطا فرمائیں۔ دنیا میں ان کو بےپناہ مادی قوتوں سے نوازا، ہر طرح کے عیش و آرام میں رکھا اور ان سے صرف اتنا چاہا کہ وہ اس عظیم محسن اور منعم کو مان لیں، صرف اتنا اقرار کرلیں کہ یہ تمام نعمتیں اس نے دی ہیں تو انہیں آخرت میں کوئی سزا نہیں ہوگی اور جنت کی دائمی نعمتیں ملیں گی۔ ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم “ (النساء :147) لیکن ان مشرکوں نے یہ اقرار کرکے نہیں دیا کہ ان پر یہ انعام ہو اکرام کرنے والا وہ واحد لاشریک ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ کبھی ان نعمتوں کے دینے کی نسبت اپنے جیسے انسانوں کی طرف کرتے، کبھی ان کی تصویروں اور ان کے مجسموں کی طرف نسبت کرتے، کبھی اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے بتوں کی طرح نسبت کرتے، اللہ تعالیٰ ان سے بار بار فرماتا رہا کہ مجھے مانو، مجھ سے مدد طلب کرو، میرے آگے سرجھکائو مگر یہ اوروں کو داتا اور منعم کہتے رہے، بتوں کے آگے گڑ گڑاتے رہے، ان سے فریاد کرتے رہے، اس نے ان کو سمجھانے کے لیے بار بار نبیوں اور رسولوں کو بھیجا، انہوں نے ایک نہ سنی، اس نے یہ نصیحت کرنے کے لیے کتابیں اور صحیفے نازل کیے، انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا، اس نے بار بار کہا : یہاں اس دنیا میں توبہ کرو، یہاں معانی مانگو، مرنے سے پہلے زندگی میں صرف ایک بار شرک سے برأت کا اظہار کردو اور توحید کا اقرار کرلو، میں تم کو بخش دوں گا، پچھلے سارے گناہ معاف کردوں گا، تم نے میرے نبیوں اور رسولوں کو ستایا ہو، میرے وفادار اور اطاعت گزار بندوں پر ظلم کیا ہو، ان کو قتل کیا ہو، آسمان کے ستاروں، ریت کے ذروں، درختوں کے پتوں اور سمندر کے قطروں سے زیادہ گناہ کیے ہوں، میں سب سے درگزر کرلوڈ گا، سب گناہوں کو معاف کردوں گا، بس زندگی میں مرنے سے پہلے صرف ایک بار توحید کا اقرار کرلو، دیکھو یہیں اس دنیا میں توبہ کرو، یہیں معانی مانگو، یہی توبہ کی جگہ ہے، آخرت میں توبہ قبول نہیں ہوگی، تم نے دنیا میں توبہ نہیں کی، اب آخرت میں توبہ کررہے ہو، یہ چاہتے ہو کہ میں آخرت میں تمہاری توبہ قبول کرکے اپنی وعید کے خلاف کروں اور جھوٹا ہوجائوں، سنو میں جھوٹا نہیں ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 50