أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيٰقَوۡمِ مَا لِىۡۤ اَدۡعُوۡكُمۡ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَى النَّارِؕ ۞

ترجمہ:

اور اے میری قوم ! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو

تفسیر:

” لاجرم “ کا معنی

المومن : ٤٣۔ ٤١ میں ارشاد ہے : ” اور اے میری قوم ! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو تم مجھے اللہ کا کفر کرنے کی دعوت دے رہے ہو اور یہ کہ میں اس چیز کو اللہ کا شریک قرار دوں جس کے شریک ہونے کا مجھے علم نہیں ہے اور میں تمہیں بہت غالب اور بےحد بخشنے والے کی دعوت دے رہا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مجھے اس کی طرف دعوت دے رہے ہو جو نہ دنیا میں عبادت کا مستحق ہے نہ آخرت میں اور بیشک ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور بیشک حد سے تجاوز کرنے والے ہی دوزخی ہیں “ اس آیت میں قوم فرعون کو ملامت کی ہے کہ دیکھو یہ کیسا حال ہے کہ میں تمہیں خیر کی طرف بلارہا ہوں اور تم مجھے شر کی طرف بلا رہے ہو۔ مرد مومن نے اس سے برأت کا اظہار کیا کہ وہ بغیر علم اور دلیل کے کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہیں، اس میں یہ اشارہ ہے کہ بغیر یقینی علم اور بغیر دلیل قطعی کے کسی کے لیے الوہیت کو ثابت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس آیت میں ” لاجرم “ کا لفظ ہے، لا سے اس کی نفی مطلوب ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے یعنی ان کا مذعوم کفر اور شرک اور جرم فعل ماضی ہے جو ” حق “ اور ” ثبت “ کے معنی میں ہے، یعنی ان کا مزعوم کفر اور شرک منفی ہے اور اس کا بطلان حق اور ثابت ہے اور بعض علماء نے کہا : لاجرم ” لابد “ کے معنی میں ہے۔ قاموس میں مذکور ہے کہ ” لاجرم “ اصل میں لابد اور لامحالہ کے معنی میں ہے، پھر اس کا کثیر استعمال قسم کے معنی میں ہوگیا، اس وجہ سے اس کے جواب میں لام آتا ہے جیسے ” لاجرم لاتینک “ اللہ کی قسم ! میں تیرے پاس ضرور آئوں گا۔ (القاموس المحیط ج ٤ ص ١٢٣۔ ١٢٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٢ ھ)

اس آیت میں ” لاجرم “ اصل کے اعتبار سے تحقیق کے معنی میں ہے یعنی تحقیق یہ ہے کہ تم مجھے اس چیز کی عبادت کی دعوت دے رہے ہو جو دنیا میں عبادت کی مستحق ہے نہ آخرت میں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 41