أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ ۞

ترجمہ:

اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو صرف عارضی فائدہ ہے اور بیشک آخرت ہی دائمی قیام کی جگہ ہے

تفسیر:

المومن : ٣٩ میں ہے ” (اس مرد مومن نے کہا :) اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو صرف عارضی فائدہ ہے اور بیشک آختر ہی دائمی قیام کی جگہ ہے “ متاع اور متعہ کا معنی ہے : فائدہ اٹھانا، یعنی دنیا میں بہت کم فائدہ ہے، کیونکہ یہ بہت جلد زائل ہوجاتی ہے اور لازوال تو صرف آخرت ہے،

حدیث میں ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر سوگئے تھے، آپ اٹھے تو اس چٹائی کے نشان آپ کے پہلو پر ثبت ہوگئے تھے، ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر ہم آپ کے لیے ایک بستر بنادیں، آپ نے فرمایا : مجھے دنیا سے کیا لینا ہے، میں دنیا میں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو کسی درخت کے نیچے سائے کو طلب کرے، پھر اس درخت کے سائے کو چھوڑ کر روانہ ہوجائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٠٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص ٢١٧، مسند احمد ج ١ ص ٣٩١، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٤٩٩٨، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٩٣٠٣، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ١٠٢، المستدرک ج ١ ص ٣١٠، دلائل النبوۃ ج ١ ص ٣٣٧، جامع المسانید والسنن مسند ابن مسعود رقم الحدیث : ٤٧٠)

کثیر بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! قرآن کے پڑھنے سے غافل نہ ہو، کیونکہ قرآن قلب کو زندہ کرتا ہے اور بےحیائی اور بُرائی اور بغاوت سے روکتا ہے اور اے میرے بیٹے ! موت کو بکثرت یاد کیا کرو، کیونکہ جب تم قرآن کو زیادہ یاد کرو گے تو دنیا سے بےرغبتی کرو گے اور آخرت میں رغبت کرو گے، کیونکہ آخرت دار قرار ہے اور دنیا والوں کے لیے دھوکا ہے۔ (کنزالعمال ج ٢ ص ٢٩١، رقم الحدیث : ٤٠٣٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 39